Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183474
Published : 18/9/2016 22:38

رھبر انقلاب اسلامی سے یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور علمی ماھرین کی ملاقات:

یونیورسٹیوں اور ان کے طالبعلموں کو ھمیشہ انقلابی رہنا چاہئے

رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اساتذہ، علمی ماھرین، یونیورسٹیوں،سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس اور علمی اور تحقیقاتی مراکز کے محققین سے ملاقات میں مقتدر، عزت مند، آزاد، متدین، ثروت مند، عدل و انصاف کا حامل اور جمھوری حکومت کا حامل، پاک،جہاد گر، دلسوز اور پرھیزگار ایران کی دستیابی کے لئے اسلامی نظام کے بیس سالہ مقاصدکو بیان کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کو ان عظیم مقاصد کی بنیاد قرار دیا۔
رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اساتذہ، علمی ماھرین، یونیورسٹیوں،سائنس اور ٹیکنالوجی پارکس اور علمی اور تحقیقاتی مراکز کے محققین سے ملاقات میں مقتدر، عزت مند، آزاد، متدین، ثروت مند، عدل و انصاف کا حامل اور جمھوری حکومت کا حامل، پاک،جہاد گر، دلسوز اور پرھیزگار ایران کی دستیابی کے لئے اسلامی نظام کے بیس سالہ مقاصدکو بیان کرتے ہوئے یونیورسٹیوں کو ان عظیم مقاصد کی بنیاد قرار دیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یونیورسٹیوں اور دیگر علمی مراکز کی علمی پیشرفت کی رفتار میں اضافہ، نوجوانوں میں اسلامی- ایرانی شناخت کے حامل ہونے کے فخر کا احساس، یونیورسٹیوں اور طالبعلموں کا انقلابی ہونا، اور نرم جنگ کے افسروں اور کمانڈروں کے حقیقی کردار ان ضروری عوامل میں سے ہیں کہ جو اسلامی جمھوریہ ایران کو دنیا کے سامنے ایک علمی قدرت، اور اسلام اور روحانیت کے ھمراہ جمھوریت کے مثالی نمونے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں اس بات پر ایک بار پھر تاکید کی کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے اجلاس منعقد کئے جانا اساتذہ اور علم کا احترام اور تکریم کیا جانا ہے،آپ نے یونیورسٹیوں کے طالبعلموں، برجستہ علمی شخصیات اور طالبعلموں سے اپنے رابطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کے جلسوں کا انعقاد، علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹیوں کی علمی،فکری اور گفت و شنید کی فضا کو پیش کرتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس کے بعد ملک کے مستقبل پر نگاہ کو ملک کے دانائوں، مفکرین اور برجستہ شخصیات کا درد دل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ مستقبل کے امکانات کا خاکہ اس لحاظ سے اھمیت رکھتا ہے کہ آئندہ آنے والے سالوں میں ملک کی باگ دوڑ ان طالبعلموں کے ہاتھوں میں ہو گی کہ جو اس وقت یونیورسٹیوں میں تحصیل علم میں مشغول ہیں۔
آپ نے اس موضوع کو یونیورسٹی کے اساتذہ اور ذمہ داروں کی اہمیت کا نشان گر قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ علم ومعرفت کی زنجیر یعنی ابتدائی کلاسوں سے یونیورسٹیوں تک کا اصلی وظیفہ ملک کے مطلوبہ مستقبل کے حصول پر مشتمل ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ایک سوال سامنے رکھتے ہوئے کہ اسلامی جمھوریہ ایران کے لئے آئندہ بیس سالوں میں مطلوبہ مستقبل کیسا ہوگا فرمایا کہ اگر مطلوبہ مورد نظر مستقبل، مقتدر، عزت مند، آزاد، متدین، ثروت مند، عدل و انصاف کا حامل اور جمہوری حکومت کا حامل، پاک، جہاد گر، دلسوز اور پرہیزگار ایران ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ یونیورسٹیاں ان خصوصیات کی حامل ہوں اور ان خصوصیات پر اعتقاد رکھنے والے اور مومن جوان نسل کی تربیت کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اگر یونی ورسٹیوں میں ان خصوصیات کو اہمیت نہ دی گئی تو مستقبل میں غیروں سے وابستہ، ثقافتی لحاظ سے آزاد، اجتماعی، قومی، مذہبی اور سیاسی تنزلی کا شکار اور اشرافیت کی حاکمیت پر مشتمل ایران کا مشاہدہ کریں گے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ اس طرح کے مستقبل کے نتیجے میں ایک ایسا ملک سامنے آئے گا کہ جو دولت و ثروت کے میناروں کے ساتھ ساتھ بدبختی، تباہی اور محرومیت کے دلدل میں پھنسا ہوگا جس کی واضح مثال امریکہ یا امریکہ کی وال اسٹریٹ ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس طرح کے مستقبل میں معاشرے کے تمام طبقات بنیادی سہولیات سے استفادہ نہیں کر پائیں گے اور ملک درحقیقت ایرانی وال اسٹریٹ میں تبدیل ہوجائے گا۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے اس حصے کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ اسی وجہ سے میں مسلسل یونیورسٹیوں، اساتذہ اور وزارت تعلیم کے وزیروں کو اس بات کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہوں کہ ایران کے مطلوبہ مستقبل تک پہنچنے کے لئے عالم، صابر، فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے مجاہدین، کام سے آشنا اور شجاع افراد کی تربیت کی ضرورت ہے کہ جن کی اکثریت یونیورسٹیوں میں تربیت حاصل کرے گی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس کے بعد یونیورسٹیوں میں اس طرح کے جوانوں کی تربیت کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ علمی پیشرفت، ضابطہ اخلاق، مذہبی تحمل و برداشت، سیاسی بصیرت، اپنی شناخت اور فخر کا احساس یونیورسٹیوں کے ماحول میں اس کام کے لئے ضروری عوامل ہیں۔
آپ نے علمی پیشرفت کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے علمی ترقی و پیشرفت کی رفتار میں اضافے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ میں نے کچھ عرصہ پہلے بھی علمی پیشرفت کی رفتار سست پڑ جانے کا تذکرہ کیا تھا کیونکہ یہ رفتار سست ہوگئی ہے اور اس علمی عقب افتادگی سے نمٹنے کے لئے علمی پیشرفت کی رفتار میں اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے بعض صاحب نظر افراد کی جانب سے مغرب میں علمی ترقی کی رفتار سست پڑجانے کے بارے میں اظہار خیال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مغرب میں علمی ترقی کی رفتار سست پڑ گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ظرفیت سے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی ساٹھ ستر سالہ عقب افتادگی سے نمٹنے کے لئے اقدامات کریں کہ جو خائن اور غافل حکومتوں کی وجہ سے وجود میں آئی ہے تاکہ اس عالمی دوڑ میں اپنے آپ کو بالاترین مقامات اور بلندیوں تک پہنچا سکیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اساتذہ کی جانب سے طالبعلموں میں ایرانی اور اسلامی شناخت پیدا کئے جانے اور اسے تقویت بخشنے کے موضوع کی اجنب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اساتذہ، فضا، نینو ٹیکنالوجی، ایٹمی ٹیکنالوجی، بایو ٹیک اور میڈیکل کے شعبوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کی پیشرفت کا ذکر کر کے طالبعلموں میں اپنی شناخت کا احساس اجاگر کر سکتے ہیں۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ طالبعلموں میں ہر طرح کی حقارت اور تنزلی کا احساس خیانت شمار کیا جائے گا فرمایا کہ طالبعلموں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایرانی ہونے پر، مسلمان ہونے پر اور انقلابی ہونے پر فخر کریں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ اگرچہ ہم علمی پیشرفت کے میدان میں تاریخی عقب افتادگی کا شکار ہیں لیکن اپنے ملک کے با صلاحیت جوانوں کی جدوجہد اور جوش و جذبے کے زریعے اس عقب افتادگی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کی علمی پیشرفت کے بارے میں دنیا کے بعض معتبر جرائد اور سٹیشن سینٹرز کی رپورٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان رپورٹوں میں ایران کی علمی پیشرفت کو «ایران کی پیشرفت حیران کن ہے»،«ایران ایک ابھرتی ہوئی علمی قوت»،«ایران وسائل کی بنیاد پر قائم اقتصاد کو ٹیکنالوجی کی بنیاد پر قائم اقتصاد میں بدلنا چاہتا ہے»«اسٹم سیلز، ایٹمی ٹیکنالوجی، ہوا فضا، توانائی کا تبادلہ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ایران کی پیشرفت»،جیسے عناوین اس بات کی جانب اشارہ ہیں کہ اس حقیقت کو جوان نسل تک منتقل ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی شناخت کا احساس کرتے ہوئے اپنے ایرانی ہونے پر فخر کرسکیں۔
آپ نے جمہوریت کے میدان میں اسلامی نظام کے نئے نظریئے کو ایک اور افتخار قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ایران کا اسلامی نظام وہ تنہا حکومتی نظام ہے کہ جس نے جمہوریت کو روحانیت اور اسلام کے ساتھ پیش کیا ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ مغربی جمہوریت درحقیقت سیاسی گروہوں کی حاکمیت ہے اور مغرب میں سیاسی جماعتیں اس سے پہلے کہ عوام کے درمیان ایک وسیع نیٹ ورک کے حامل ہوں، بعض سیاست دانوں اور سرمایہ داروں کا کلب ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ اگر اس افتخار آمیز حقیقت کو جوان طالبعلموں کے سامنے بیان کیا جائے تو وہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہوں گے اور اگر وہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے ملک سے باہر چلا بھی جائے تو واپس آجائے گا کیونکہ وہ اپنی شناخت پر فخر کررہا ہوگا۔
آپ نے یونیورسٹیوں کی اسلامی شناخت کے بارے میں فرمایا کہ یونیورسٹیوں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ ہر اقدام اور موضوع بشمول مخلوط اجتماعات جیسے موضوعات کے بارے میں حساسیت اور اس پر ردعمل دکھائیں کہ جن کی وجہ سے یونیورسٹیوں کی اسلامی شناخت خدشہ دار ہو رہی ہو۔
سیاسی بصیرت اور یونیورسٹیوں میں سیاست مطلوبہ ایران کے حصول کے لئے ایک اور ضروری موضوع تھا جس پر رہبر انقلاب اسلامی نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ہمیشہ یونیورسٹیوں میں سیاسی امور انجام دیئے جانے پر تاکید کی ہے اور حتی کئی سالوں پہلے کہا تھا کہ ان لوگوں پر خدا کی لعنت ہو کہ جنہوں نے یونیورسٹیوں میں سیاسی افکار اور سیاسی امور کی انجام دہی کی بساط لپیٹ دی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ اس زمانے کے ذمہ دار افراد میری اس بات سے بہت ناراض ہوئے تھے لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یونیورسٹیوں میں سیاست پر پابندی عائد کی جائے، گرچہ آج وہ یونیورسٹیوں کے بارے میں ریاکاری کرتے ہوئے کچھ اور ہی باتیں کر رہے ہیں۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ یونیورسٹیوں کا ماحول متضاد خیالات، بحث و مباحثہ اور چیلنجوں کا ماحول ہے، فرمایا کہ طالب علمی کے پر نشاط زمانے میں ایسی فضا کا وجود مانع نہیں رکھتا لیکن مشکل یہاں ہے کہ اس فضا کو انقلاب اور انقلابی اقدار کی مخالفت کے لئے استعمال کیا جائے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ یونیورسٹیوں میں مختلف سیاسی گروہوں کی موجودگی میں کوئی اشکال نہیں ہے لیکن یونیورسٹیوں کی انتظامیہ چاہے وہ وزارت تعلیم کے اعلی حکام ہوں، سربراہان ہوں یا اساتذہ انہیں چاہئے کہ ہمیشہ یونیورسٹیوں کی چیلنجنگ فضا کو اسلامی انقلاب کے مبانی اور اسکے اہداف کی طرف ہدایت دیں اور اسکا دفاع کریں اور کسی بھی قیمت پر انقلاب مخالف گروہوں کی حمایت نہیں کی جانی چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یونیورسٹیوں اور طالبعلموں کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ انقلابی رہیں۔
آپ نے بعض یونی ورسٹیوں میں اسلامی نظام کے مخالف گروہوں کی جانبداری کئے جانے سے متعلق بعض رپورٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کے عہدیداروں کو ہوشیار رہنا چاہئے تاکہ یونیورسٹیاں انقلابی مفاہیم اور اقدار کی تنزلی کے مقام میں تبدیل نہ ہوجائے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ یونیورسٹیوں میں انقلابی فضا، تدین اور امام راحل رح کا ذکر کیا جانا اہم امور میں سے ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ البتہ یونیورسٹیوں میں جبر اور زور زبردستی کی فضا نہیں بنانی چاہئے بلکہ انقلابی اور متدین ماحول کو اپنے طبیبانہ اور عقلمندانہ طریقہ کار کے زریعے وجود میں لانا چاہئے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے عہدیداروں کو چند نصیحتیں فرمائیں۔
ربر انقلاب اسلامی نے«علمی اور تحقیقاتی ماحول میں امید اور نشاط کی فضا کی حفاظت»،«بنیادی علوم کو اہمیت دیا جانا»،«علمی مقالات کی ملکی ضرورتوں کی جانب رہنمائی»،«یونیورسٹی کے طالبعلموں کے لئے جامع علمی منصوبہ پیش کیا جانا اور اسے ایک پروگرام میں تبدیل کرنا»،اور«اسلامی ہیومینیٹیز پر تاکید»،جیسے موضوعات پر اعلی عھدیداروں کو نصیحت فرمائی۔
«علمی ڈپلومیسی کی اھمیت» پر رھبر انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈپلومیسی اور علمی رابطے بہت اھم ہیں اور ہم ان سے متفق ہیں لیکن ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں دھوکہ نہ کھا جائیں اور علمی روابط کا پلیٹ فارم کہیں ملکی سیکورٹی میں نفوذ پیدا کرنے والے عناصر کے لئے زمینہ فراہم نہ کر رہا ہو، کیونکہ دشمن نفوذ پیدا کرنے کے لئے ہر وسیلے من جملہ علمی رابطوں سے بھی استفادہ کرتا ہے اور ایسا اس سے پہلے پیش آچکا ہے اور آج بھی بعض موارد میں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے۔
آپ نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں استقامتی معیشت کو قومی عزت کے لئے زمینہ ساز اور موجودہ ضرورتوں کے لئے گرہ گشا قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بعض افراد کہتے ہیں کہ قومی عزت پر بار بار تاکید کے زریعے آپ کس طرح معاشرے کی موجود مشکلات کو دور کرسکتے ہیں اور اسکی ضرورتوں کو پورا کر سکتے ہیں، کہ انکے جواب میں ہمیں یہ کہنا چاہئے کہ اس کا تنہا علاج، استقامتی معیشت کی حقیقی اور صحیح سیاست کے اجراء میں مضمر ہے۔
دینا رھبر انقلاب اسلامی کی اگلی نصیحت یونیورسٹیوں میں ثقافتی سرگرمیوں کو اصل سمجھنے اور انکی اھمیت کےبارے میں تھی۔
آپ نے فرمایا کہ البتہ ثقافتی کاموں کا مطلب یونیورسٹی میں کنسرٹ کا انعقاد یا غیر موزوں حرکتیں انجام دینا نہیں ہے بلکہ انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ طالبعلموں اور اساتذہ کے لئے میدان کھلا رکھیں اور انکے ذہنوں کو اسلامی اور انقلابی ثقافت سے آشنا کروائیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی طرح انقلابی اساتذہ کو نرم جنگ کے کمانڈروں اور انقلابی طالبعلموں کو اس نرم جنگ کے افسروں کا خطاب دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اپنا حقیقی اور سنجیدہ کردار ادا کریں کیونکہ دشمن کی نرم جنگ میں گذشتہ سالوں کے مقابلے میں چند برابر اضافہ ہوچکا ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی کی ایک اور نصیحت«یونیورسٹیوں میں غیر مطمئن عناصر کی موجودگی اور ان سے استفادہ کئے جانے سے پرہیز کرنے» کے بارے میں تھی کہ جس پر انہوں نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص کسی بھی بہانے سے انتخابات اور اس طرح کے موارد میں اسلامی نظام کو زیر سوال لے کر آئے، وہ اطمینان کے قابل نہیں ہے اور اس کے اندر یونیورسٹی میں موجود رہنے کی صلاحیت نہیں ہے، کیونکہ دنیا کا کوئی بھی ملک اپنے حاکم نظام کو زیر سوال لانے کی کسی بھی قیمت میں اجازت نہیں دیتا۔
اس ملاقات کی ابتدا میں اساتذہ، صاحب نظر افراد اور انجینئرنگ، میڈیکل اور انسانی علوم کے ماہرین سے اپنی گفتگو میں مختلف مسائل کے سلسلے میں اپنی آراء و نظریات پیش کیں۔
مرد حضرات:
1۔ڈاکٹر حسین بلندی، ڈاکٹریٹ، الیکٹریکل انجینئرنگ اور علم و صنعت کے استاد۔
2۔ڈاکٹر مسعود درخشان، ڈاکٹریٹ اقتصاد اور علامه طباطبایی یونیورسٹی کے استاد۔
3۔ ڈاکٹر مصطفی قانعی، پھیپھڑوں کے امراض کے ماہر اور بقیه الله میڈیکل یونیورسٹی کے استاد۔
4۔ڈاکٹر محمدرضا پاکروان، ڈاکٹریٹ الیکٹریکل انجینئرنگ اور شریف یونی ورسٹی کے استاد۔
5۔ڈاکٹر حسینعلی قبادی، ڈاکٹریٹ ادبیات اور تربیت مدرس یونیورسٹی کے استاد۔
6۔ڈاکٹر توکل حبیب زاده، ڈاکٹریٹ بین الاقوامی قانون اور امام صادق (ع) یونیورسٹی کے استاد۔
7۔ڈاکٹر علی اکبر فرهنگی، ڈاکٹریٹ مینجمنٹ اور آزاد اسلامی یونیورسٹی کے استاد۔
8۔ڈاکٹر هادی آجیلی، ڈاکٹریٹ انٹرنیشنل ریلیشنز اور علامه طباطبایی کے استاد۔
9۔ ڈاکٹر جعفر مهراد، ڈاکٹریٹ سسٹم مینجمنٹ اور شیراز یونیورسٹی کے استاد۔
خواتین:
1۔ ڈاکٹر زینب کدخدا، ڈینٹل سرجن اور تهران یونیورسٹی کی استاد۔
2۔ڈاکٹر سوسن قهرمانی، ڈاکٹریٹ لینگویج لرننگ اور الزهرا یونیورسٹی میں انگریزی زبان کی استاد۔
ان افراد نے مندرزہ ذیل موضوعات پر تاکید کی:
1۔اسپیس سائنسز کا جدید ٹیکنالوجی میں مقام اور اس میدان میں ملکی توانائی۔
2۔آئل فیلڈز کی تلاش اور ان سے بہرہ برداری کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ استقامتی معیشت کی بنیادوں پر معاملات۔
3۔نالج بیسڈ اقتصاد کی ملک کے مختلف شعبوں میں توسیع۔
4۔علم اور ثروت کی تولید میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس سے وابستہ کمپنیوں کا کردار۔
5۔محروم علاقوں میں صحت عامہ کے سلسلے میں خدمات انجام دینے کے لئے جہادی ہیڈکوارٹرز کا قیام۔
6۔اسلامی حقوق بشر کے قانون کی تدوین کے لئے فقھی اور مذھبی مبانی سے استفادے کی ضرورت اور حقوق بشر سے متعلق سالانہ رپورٹ۔
7۔مختلف ممالک میں انگریزی زبان کے فروغ کے پوشیدہ مقاصد اور طریقوں کا ادراک اور غیر ملکی زبانوں کی تعیلم کے لئے صحیح قانون بنانے کی ضرورت۔
8۔اسلامی انقلاب کے عملی اور نظری مفاہیم کی اسلامی نظام کے موثر نقطہ نظر کے تحت داخلی اور خارجی میدانوں کو سامنے رکھ کر ری پروڈکشن۔
اس ملاقات کے اختتام پر یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے مغرب و عشاء کی نماز رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی امامت میں ادا کی اور پھر انکے ہمراہ نماز کے بعد روزہ افطار کیا۔
leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14