Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183477
Published : 19/9/2016 9:30

رھبر انقلاب اسلامی سے شھدائے ھفتم تیر اور مدافعان حرم کے اھل خانہ کی ملاقات:

بحرین کے مجاھد عالم دین شیخ عیسٰی قاسم سے حکومت بحرین کے جارحانہ برتاؤ پر شدید تنقید

رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے شھداء کے اھل خانہ من جملہ ھفتم تیر ۱۳۶۰ یعنی 28 جون 1981 کے شھداء اور شھدائے مدافعان حرم کے اھل خانہ سے ملاقات میں شھداء کے عظیم ایمان، جھاد، جرأت و بھادری اور اعلٰی معرفت اور شھیدوں کے اھل خانہ کے صبر و استقامت کو اسلامی جمھوریہ ایران کے نظام کی اصل قدرت اور طاقت قرار دیا،نیز فرمایا کہ اسلامی جمھوریہ ایران کی پیشرفت کی تنھا راہ انقلابی جذبے کا احیاء اور جھاد میں مضمر ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے شھداء کے اھل خانہ من جملہ ھفتم تیر ۱۳۶۰ یعنی 28 جون 1981 کے شھداء اور شھدائے مدافعان حرم کے اھل خانہ سے ملاقات میں شھداء کے عظیم ایمان، جھاد، جرأت و بھادری اور اعلٰی معرفت اور شھیدوں کے اھل خانہ کے صبر و استقامت کو اسلامی جمھوریہ ایران کے نظام کی اصل قدرت اور طاقت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اسلامی جمھوریہ ایران کی پیشرفت کی تنھا راہ انقلابی جذبے کا احیاء اور جھاد میں مضمر ہے۔
آپ نے اپنی گفتگو کی ابتداء میں حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شھادت کے ایام پر تعزیت پیش کرتے ہوئے امام عالی مقام کو تاریخ بشریت کا بزرگ ترین شھید، شھید محراب و راہ حق و استقامت قرار دیا اور حزب جمھوری اسلامی کے دفتر میں ھفتم تیر ۱۳۶۰ یعنی 28 جون 1981  کو ہونے والے دھماکے کے واقعے کے پینتیس سال مکمل ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس جرم کے ذمہ دار وہ خبیث اور بے رحم دھشتگرد گروہ ہیں، جو ملک سے فرار ہونے کے بعد کئی سالوں سے امریکہ اور ان یورپی ممالک میں پناہ لئے ہوئے ہیں کہ جو دھشتگردی کی مخالفت اور انسانی حقوق کی حمایت کا دم بھرتے ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اس موضوع کو امریکہ اور یورپی ممالک کی عظیم اور تاریخی رسوائی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ دھشتگرد گروہ ہیں کہ جنھوں نے خلق کے دفاع حتی اسلام کے دفاع کے دعوے کے ساتھ جدوجھد کا آغاز کیا لیکن آگے چل کر انھوں نے ھفتم تیر جیسے اندوھناک واقعات اور عام شھریوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم کا ارتکاب کیا اور بالآخر صدام جیسے انسان سے جا ملے اور آج بھی امریکی حمایت کے سائے میں موجود ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے 28 جون 1981 کے حادثے کو درس اور عبرت پر مشتمل ایک عظیم حادثہ قرار دیا اور نئی نسل کو اسلامی انقلاب کے اھم حادثات و واقعات اور شھداء سے روشناس کروائے جانے کے سلسلے میں عدم توجہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس حادثے کو پینتیس سال گذرنے کے باوجود ابھی تک کوئی فلم کوئی ڈاکیومنٹری حتی کوئی ناول بھی ھفتم تیر، شھید بھشتی اور اس حادثے کے شھداء کے بارے میں موجود نہیں ہے اور اگر یہ حادثہ ابھی تک زندہ ہے تو وہ بھی صرف عوام کے انقلابی جذبے کی وجہ سے ہے۔
آپ نے مقدس دفاع کے آپریشنز اور شھداء کے بارے میں موجود بعض کتابوں کے لکھے جانے اور تمام افراد خاص طور پر نوجوانوں کو ان کتابوں کے توجہ کے ساتھ مطالعے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن ابھی بھی مقدس دفاع اور اس جنگ کے عظیم شھداء کے بارے میں مختلف زاویوں سے کتابیں لکھے جانے کا زمینہ موجود ہے، کیونکہ ایک ایک شھید کا کردار، گفتار اور اس کی سیرت ایک دنیائے معرفت کی جانب کھلنے والا دریچہ ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ملک کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی رضاکاروں کی موجودگی اور جنگ کے رسمی فوج پر انحصار سے باہر نکل جانے کو مقدس دفاع کے زمانے کی ایک خصوصیت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ آج بھی حکومتی عھدیداروں کو ھماری یھی نصیحت ہے کہ مختلف میدانوں میں خاص طور پر اقتصاد کے میدان میں عوام کی توانائیوں سے استفادہ کیا جانا چاہئے اور اقتصاد کو عوامی ھونا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے حریم اھل بیت علیھم السلام کے دفاع اور شھدائے مدافع حرم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ موضوع تاریخ کے حیرت انگیز اور اعجاب آور موضوع کے بارے میں ہے کہ ایران اور دنیا کے دوسرے ممالک سے آئے ہوئے جوان اپنے ایمان اور مضبوط ارادے کی وجہ سے اپنی بیگمات اور بچوں اور اپنی پر آسائش زندگی سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک انجانے ملک میں خدا کی راہ میں جھاد کیا اور اسی راہ میں شھادت حاصل کی۔
آپ نے شھیدان مدافع حرم کے عظیم ایمان اور انکے اھل خانہ کے صبر اور بردباری کو اس اعجاب آور موضوع کے دوسرے پھلووں میں سے قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس ماجرا کا ایک اور پھلو اسلامی جمھوریہ ایران کی قدرت وطاقت، ایمان اور مومن مجاھد اور شھداء کے عزم و ارادے پر استوار ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی نظام کے دشمن کبھی بھی اس نظام کی توانائی اور اقتدار کی بنیادوں کو سمجھنے اور درک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے فرمایا کہ شھداء اور انکے اھل خانہ اسلامی جمھوری نظام کے مضبوط ستون ہیں اور اسی وجہ سے یہ نظام طرح طرح کی  سازشوں پر غلبہ پانے میں کامیاب ہوا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مزید فرمایا کہ ھم نے جھاں بھی انقلاب اور انقلابی جذبے پر تکیہ کیا، وہاں ترقی کی ہے اور جھاں پر استکباری عناصر کی خاطر اپنے اقدار سے صرف نظر کیا ہے اور انقلابی مواقف کو بیان کرنے میں تکلف سے کام لیا وہاں پر عقب ماندگی کا شکار ہوئے اور نقصان اٹھایا ہے۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مستکبر دشمنوں کے ساتھ انقلابی رویہ اپنانا چاہئے، فرمایا کہ خدا پر ایمان، عقیدہ جھاد اور مؤمن اور انقلابی جوانوں کے مضبوط ارادے، استکبار کے ساتھ نامنظم جنگ میں اسلامی نظام کی قدرت وطاقت کا سرمایہ ہے اور وہ لوگ باوجود اس کے کہ اس سرمایہ قدرت کے آثار کا مشاھدہ کر رہے ہیں لیکن اسکی تحلیل کرنے سے عاجز ہیں بنا بر ایں وہ بے رحمانہ اور شدت پسندی پر مبنی طریقہ کار اپنا رہے ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے داعش جیسے تکفیری دھشتگرد گروہوں کو وجود میں لانے کو اسلامی نظام کے مقابلے میں شدت پسند رویے کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ان تکفیری دھشتگرد گروھوں کو وجود میں لانے اور عراق اور شام میں ان کے اقدامات کا اصل مقصد ایران پر حملہ کرنا تھا لیکن اسلامی جمھوریہ ایران کی قدرت و طاقت اس بات کا سبب بنی کہ وہ عراق اور شام میں ہی زمین گیر ہوجائیں۔
آپ نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ تکفیری دھشتگرد گروہ شیعہ اور سنی کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہیں فرمایا کہ جو مسلمان شخص بھی اسلامی انقلاب کے ہمراہ اور امریکہ کا دشمن ہوگا وہ اسے اپنا مقصد بنائیں گے،آپ نے بحرین کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ بحرین میں بھی مسئلہ شیعہ یا سنی کا نہیں ہے بلکہ اصل ماجرا وہاں کی اکثریت پر ایک مستکبر اقلیت کی خودخواہ اور جابرانہ حکمرانی کا ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے بحرینی حکومت کی شیخ عیسی قاسم کے خلاف جارحانہ کارروائی کو انکی حماقت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ شیخ عیسی قاسم ایسے شخص ہیں کہ جب تک وہ بحرینی عوام سے بات چیت کر سکتے تھے انہیں شدت پسندی اور مسلح کارروائیوں سے روکتے رہے لیکن بحرینی حکومت کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ اس مجاھد عالم دین کے خلاف جارحانہ کارروائی کا مطلب حکومت کے ہر عمل کے مقابلے میں اقدامات انجام دینے کے سلسلے میں بحرین کے حماسی اور پرجوش نوجوانوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ہٹانا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ استکباری طاقتیں اور انکے پٹھو ھمیشہ عوام کی شناخت اور معاشرے میں ایمان سے ھراساں ہیں اور غلط حساب کتاب کا شکار رہتے ہیں فرمایا کہ صحیح راستہ، اسلام کی راہ پر چلنا اور خداوند متعال پر توکل کرنا ہے اور صرف با ایمان، مجاھد اور عزم راسخ رکھنے والی ملت ہی مشکلات پر غلبہ حاصل کرکے آگے بڑھ سکتی ہے۔
آپ نے تمام افراد کو شب ھائے قدر اور ماہ مبارک رمضان کے آخری بابرکت ایام سے پہلے سے زیادہ بھرہ مند ہونے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان راتوں اور سحر کے اوقات کہ جو توسل اور تضرع کے اوقات ہیں، ہمیں چاہئے کہ عالی رتبہ ارواح من جملہ شھداء کی ارواح سے مدد طلب کرتے ہوئے، انہیں اپنا شفیع قرار دیتے ہوئے اور حضور قلب کے ساتھ اس انداز میں دعا کریں کہ خداوند متعال کی توجہ اور عنایات کا سبب بن سکیں۔
رھبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے پھلے نمائندہ ولی فقیہ اور شھید فاؤنڈیشن کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین شھیدی محلاتی نے جوان نسل کو مجاھدین کے ایثار و قربانی اور انکے حماسہ سے آشنا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے شھید فاؤنڈیشن کے بنیادی اور اھم امور کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14