Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183480
Published : 19/9/2016 11:17

رھبر انقلاب اسلامی سے اسلامی ممالک کے سفیروں اور اعلٰی حکام کی ملاقات:

بد امنی کے ذریعہ امریکہ کا اصل مقصد مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانا ہے

رھبر انقلاب اسلامی نے بدھ کے دن قبل از ظھر حکومتی عھدیداروں اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات میں خطے اور عالم اسلام میں جنگ، بدامنی اور دھشتگردی کی اصل وجہ استکباری طاقتوں بالخصوص امریکہ کو قرار دیا اور اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ انکا اصل مقصد غاصب صیھونی حکومت کو سانس لینے کا موقع فراھم کرنا اور فلسطین کے موضوع سے توجہ ہٹانا ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے بدھ کے دن قبل از ظھر حکومتی عھدیداروں اور مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات میں خطے اور عالم اسلام میں جنگ، بدامنی اور دھشتگردی کی اصل وجہ استکباری طاقتوں بالخصوص امریکہ کو قرار دیا اور اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ انکا اصل مقصد غاصب صیھونی حکومت کو سانس لینے کا موقع فراھم کرنا اور فلسطین کے موضوع سے توجہ ہٹانا ہے، فرمایا کہ ان سازشوں سے مقابلے کی تنہا راہ دشمن کی حقیقی شناخت اور استقامت ہے اور ملت ایران نے ثابت کردیا ہے کہ استقامت،پیشرفت و ترقی کا واحد راستہ ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے عید سعید فطر کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال اور خطے میں جاری بدامنی، خونی بم حملے اور قتل وغارت گری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اھم مسائل میں سے ایک، امت مسلمہ کو درپیش خبیث اور نامبارک مشکلات کی اصل وجہ کی شناخت اور ان خفیہ ہاتھوں کا پتہ لگانا ہے کہ جو دھشتگردی کو فروغ دیتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تمام بڑی طاقتوں اور مختلف ممالک کی جانب سے ظاھری طور پر دھشتگردی سے اعلان برائت کرنے اور دھشتگردی سے مقابلے کے لئے جھوٹے اتحاد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بڑی طاقتیں ظاھری دعووں کے برخلاف عملی طور پر دھشتگردی کی حمایت اور اسکی ترویج میں مشغول ہیں۔
آپ نے شام کے بحران کے ابتدائی ایام میں امریکی سفیر کے مظاہرے میں موجودگی اور اس ملک کے سیاسی مسائل کو داخلی جنگ میں تبدیل کرنے کے لئے زمینہ فراہم کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک سیاسی مسئلے کو برادر کشی میں تبدیل کر دیا گیا اور اسکے بعد مالی اور اسلحہ جاتی حمایت اور تیل سے حاصل ہونے والی ناجائز آمدنی سے شام اور عراق میں مختلف علاقوں سے لوگوں کو لے کر آئے اور اس خطے میں موجودہ بدامنی اور مشکلات کا آغاز کیا۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ملت ایران سے امریکہ کی مسلسل دشمنی پر تأکید کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی اصل وجہ ۳۷ سالہ تجربے اور دشمن کی شناخت حاصل ہونے کو قرار دیا اور فرمایا کہ امریکہ نے اسلامی انقلاب کی ابتدا سے ہی امام بزرگوار اور اس عظیم تحریک کی دشمنی میں کمر کس لی تھی  اور اسکی یہ دشمنی آج تک جاری ہے لیکن عوام کی بیداری، حکومت کی ہوشیاری اور اعلی حکام کی آمادگی کی وجہ سے امریکی سازش عملی نہیں ہو سکی۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ امت مسلمہ کو اس وقت دشمن اور اسکی منصوبہ بندیوں کی شناخت کی ضرورت ہے فرمایا کہ سیاسی اختلافات کو داخلی جنگ میں تبدیل کرنے کے ایک اور نمونے کا ہم بحرین میں مشاھدہ کر رہے ہیں۔
آپ نے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بحرین کے مسائل میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی ہے اور نہ کبھی کرے گا لیکن اگر اس ملک میں آگاہی اور سیاسی عقل موجود ہے تو وہ اس بات کی اجازت نہ دیں کہ یہ سیاسی اختلاف داخلی جنگ میں تبدیل ہوجائے اور وہاں کے عوام کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا نہ کریں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مسئلہ فلسطین کو فراموش کئے جانے کو امریکہ کی سربراہی میں عالمی استکبار کی جانب سے خطے میں سازشوں اور بحران کھڑے کئے جانے کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایک جغرافیا اور ایک ملت کے وجود کا انکار کریں حالانکہ فلسطین کی ہزاروں سالوں پر محیط تاریخ ہے اور ملت فلسطین ایک سرزمین کی مالک ہے اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ غاصب صیھونی حکومت اس مظلوم ملت پر ظلم ڈھانے اور فلسطین کے محاصرے کی وجہ سے یقینی طور پر مار کھائے گی۔
آپ نے فرمایا کہ مسئلہ فلسطین دنیائے اسلام کا مشترکہ مسئلہ ہے اور انسانی ضمیر کے حامل کسی بھی اسلامی اور حتی غیر اسلامی ممالک کو بھی چاہئے کہ وہ اس مسئلے کو  فراموش نہ کرے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے یمن کی صورتحال اور یمنی شہریوں کے گھروں ، اسپتالوں، مسجدوں اور بنیادی تنصیبات پر آئے دن بمباری کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مجرم کو چاہئے کہ وہ اپنے جرم سے ہاتھ کھینچ لے اور عالم اسلام کو بھی چاہئے کہ وہ ایک بے بنیاد موضوع کی وجہ سے یمن کے عوام پر یلغار کرنے والے کی تنبیہ کرے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ملت ایران کی استقامت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمھوریہ ایران کی ترقی و پیشرفت استقامت کا نتیجہ ہے اور اگر ملت ایران نے بڑی طاقتوں کے مقابلے میں اپنا سر جھکا لیا ہوتا تو آج اسے یہ ترقی نصیب نہیں ہوتی۔
آپ نے استقامت و مزاحمت، داخلی پیداوار، قومی عز م وارادے اور خدا سے رابطے کو ترقی و پیشرفت کی اصل وجہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی ملت اپنے ایمان پر ڈٹ جائے اور خدا پر توکل کرے اور غیر خدا سے نہ گھبرائے تو وہ اپنے اعلٰی مقاصد کی سمت حرکت کرتی ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے پہلے صدر مملکت حسن روحانی نے عید سعید فطر کی مبارکباد دیتے ہوئے،دھشت گردی، بدامنی اور آوارہ وطنی کو عالم اسلام کی موجودہ اہم مشکلات قرار دیتے ہوئے اور دھشتگردی سے مقابلے کے لئے ظاھری اور جعلی اتحاد کے بجائے حقیقی اتحاد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمھوریہ ایران ماضی کی طرح آج بھی عالم اسلام کی مشکلات کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گا اور اسلامی ملتوں کا دفاع کرے گا۔
صدر روحانی نے اسی طرح خطیر رقوم پر مبنی تنخواہوں کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عدلیہ اور مقننہ کے ہمراہ اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ عوام اور رھبر معظم کی حمایت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کرے گی اور فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ قوانین میں اصلاح اور شفاف سازی کے ذریعہ اس مسئلے کی دوبارہ تکرار کا راستہ روکے گی اور حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے پارلیمنت میں بھی بل پیش کرے گی۔
leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20