Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183481
Published : 19/9/2016 11:41

رھبر انقلاب اسلامی سے پورے ملک سے آئے ہوئے ھزاروں افراد کی ملاقات:

امریکہ اپنے وعدوں کے برخلاف مسلسل سازشوں میں مشغول ہے

رھبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے آئے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی کو اس حقیقت کا نشان دھندہ قرار دیا کہ ایرانی عوام مختلف زبانوں، قوموں اور مختلف مذاھب کے فرق کے باوجود اپنے وحدت اور بھائی چارے کے ذریعہ اس چیز کی تلاش میں ہیں کہ اپنے عزیز وطن ایران کو دنیا کے سامنے ایک معنوی اور مادی رول ماڈل اسلامی ملک کے عنوان سے پیش کر سکیں۔
رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کے مختلف صوبوں سے آئے ہوئے مختلف شعبہ ھائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد سے ملاقات میں عوام کی معیشتی مشکلات کو تہہ دل سے اپنا مسلسل ہم و غم قرار دیا اور اس بات پر تأکید کرتے ہوئے کہ ملکی توانائی پر تکیہ کیا جانا عوام کی مشکلات کی تنھا راہ حل ہے فرمایا کہ مشترکہ ایکشن پلان نے ایک تجربے کے عنوان سے، امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کے بے نتیجہ ہونے،انکی بدعہدی اور امریکیوں کے وعدوں پر اعتماد نہ کئے جانے کی ضرورت کو ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اور یہ بتا دیا ہے کہ ملکی ترقی و پیشرفت اور عوام کی زندگی کی بہتر صورتحال کی تنہا راہ ملک کی اندرونی توانائی پر تکیہ کیا جانا ہے نہ کہ ان دشمنوں پر کہ جو ھمیشہ خطے اور دنیا میں ایران کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کرنے میں مشغول ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں ملک کے مختلف صوبوں اور علاقوں سے آئے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی کو اس حقیقت کا نشان دھندہ قرار دیا کہ ایرانی عوام مختلف زبانوں، قوموں اور مختلف مذاھب کے فرق کے باوجود اپنے وحدت اور بھائی چارے کے ذریعہ اس چیز کی تلاش میں ہیں کہ اپنے عزیز وطن ایران کو دنیا کے سامنے ایک معنوی اور مادی رول ماڈل اسلامی ملک کے عنوان سے پیش کر سکیں تاکہ دوسرے مسلمان ممالک استکباری طاقتوں کی اختلاف انگیز اور استثماری سیاست کے خلاف استقامت کے لئے اسی پر افتخار راستے کو طے کریں۔
آپ نے انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک کی علمی اور سیاسی پیشرفت کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایران کہ جو امریکہ اور برطانیہ سے وابستہ، عقب ماندہ اور ذلیل پھلوی ڈکٹیٹر کا ایران تھا آج ایک عزیز اور مقتدر ملک میں تبدیل ہو چکا ہے کہ جسے بڑی طاقتیں خطے میں اپنے ایک حریف کے طور پر دیکھتی ہیں اور اس بات کی کوشش میں ہیں اس کی خطے میں موجود امکانات اور توانائیوں پر مسلط ہوجائیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی تمدن کے احیاء اور اسکی شکوفائی کے تاریخی تجربے کا تذکرہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ عزیز ملک ایران کے ایک مثالی اسلامی ملک میں تبدیل ہونے کا راستہ طولانی ہے جس کے لئے ملت ایران اور حکام کی جانب سے انتھک محنت اور ہمت کئے جانےکی ضرورت ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ایران کی ایک مثالی ملک بننے کی تنہا راہ ،ملکی توانائیوں اور امکانات پر تکیہ کئے جانے کو قرار دیا اور تأکید کے ساتھ فرمایا کہ اس مقصد کے حصول کے لئے اسٹریٹجی اور صحیح منصوبہ بندی نیز انتھک اور بغیر کسی وقفے کے جدوجہد اور سستی، کاہلی، بے کاری اور دشمنوں پر اعتماد اور اطمینان سے پرہیز کے ذریعہ ممکن ہے۔
آپ نے فرمایا کہ بعض اوقات دشمن راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتا ہے لیکن غور و فکر اور تدبیر کے ذریعہ ان رکاوٹوں کو دور کیا جاسکتا ہے لیکن کسی بھی قیمت پر اس پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کے تجربے کو دشمنوں پر اعتماد نہ کرنے کے معاملے کو درست کرنے کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ آج حتی ڈپلومیٹس اور جو لوگ مذاکرات میں شامل تھے، اس حقیقت کی تکرار کر رہے ہیں کہ امریکہ نے بد عہدی کی ہے اور اپنی چرب اور نرم زبانی کے پیچھے ایران کے دوسرے ممالک کے ساتھ اقتصادی رابطے خراب کرنے اور انکا راستہ روکنے کے درپے ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا البتہ چند سالوں سے ھم امریکہ کی بد عھدی کے مسئلے پر بات کر رہے ہیں لیکن بعض افراد کے لئے اس حقیقت کو قبول کرنا انتھائی سخت نظر آرہا ہے۔
آپ نے گذشتہ ھفتے یورپ میں پانچ جمع ایک کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس اجلاس میں ایرانی مذاکراتی ٹیم نے یہ بات اپنے فریق مقابل کے گوش گزار کر دی ہے کہ تم وعدہ خلافی کر رہے ہو، اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہے اور مسلسل رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہو۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے کے چھ ماہ گذر جانے کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا یہ طے نہیں تھا یہ ظالمانہ پابندیاں اٹھا لی جائیں گی تاکہ عوام کی زندگیوں پر اس کے اثرات مرتب ہوں،کیا چھ مھینے گذرنے کے باوجود عوام کی زندگیوں میں کوئی واضح تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے؟ اگر امریکیوں کی بد عھدی نہ ہوتی تو کیا آج حکومت اس پوری مدت میں بہت سارے کام انجام نہ دے چکی ہوتی؟
رھبر انقلاب اسلامی نے بعض عہدیداروں کی اس گفتگو کو حوالہ دیتے ہوئے کہ جس میں انکا کہنا تھا کہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد کے بعد تمام پابندیاں ایک ساتھ اٹھا لی جائیں گی مزید فرمایا کہ لیکن آج پابندیوں کو بتدریج اٹھائے جانے کی باتیں کی جارہی ہیں ، کیوں؟
آپ نے امریکیوں کی جانب سے پچھلے خطوط کا حوالہ دیا کہ جو عقیدت اور تعاون کی باتوں پر مشتمل تھے،آپ نے مزید فرمایا کہ تقریبا دو سال پہلے ہم نے کہا تھا کہ ملت ایران کو مذاکرات کو ایک تجربے کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ امریکہ عملی میدان میں کیا کرے گا اور اب یہ مشخص ہوچکا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کے برخلاف مسلسل سازشوں اور تخریب کاری میں مشغول ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں امریکی برتائو کے نتیجے میں ملت ایران کو حاصل ہونے والے تجربے پر تأکید کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ آئیں خطے کے مسائل کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں، لیکن مشترکہ جامع ایکشن پلان کا تجربہ کہتا ہے کہ یہ کام خطرناک اور مھلک ہے اور کسی بھی مسئلے میں امریکیوں کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا اگر انسان کا دشمن کم از کم اپنی زبان کا پکا ہو تو بعض موارد میں اس سے گفتگو کی جا سکتی ہے لیکن اگر کوئی امریکیوں کی طرح نابکار ہو اور ظاہری مسکراہٹ کے برخلاف اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے میں اسے کوئی عار بھی نہ ہو تو اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کئے جاسکتے اور امریکیوں سے مذاکرات کے سلسلے میں میری مخالفت کی وجہ یہی حقیقت ہے.
آپ نے خطے میں ایران اور امریکہ کی مشکلات اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعہ حل کئے جانے کو محال قرار دیا اور تأکید کے ساتھ فرمایا کہ ہمیں چاہئے کہ راسخ عزم و ارادے کے ساتھ ملک کی مادی اور معنوی ترقی اور پیشرفت کے لئے صحیح راستے پر حرکت کریں تو اس وقت ہم دیکھیں گے کہ ہمارا دشمن ہمارے پیچھے پیچھے بھاگ رہا ہے نہ کہ ہم اس کے پیچھے پیچھے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے بعض ڈپلومیٹس کی باتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی یہ چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ حاصل کر لیں لیکن کچھ بھی کسی کو نہ دیں اور اس طرح کی حکومت کے ساتھ مذاکرات ملکی پیشرفت کو اسکے اصل راستے سے منحرف کرنے، پے در پے امتیازات دینے اور دھونس و دھمکی کو تحمل کرنے اور اپنا عہد توڑنے اور اسکی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امام خمینی رح کی امریکہ کو شیطان بزرگ قرار دینے کی شاندار تعبیر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآنی آیات کے مطابق شیطان قیامت کے دن اپنے پیروکاروں کو کہے گا کہ تم لوگوں کو اپنی سرزنش کرنی چاہئے کہ تم نے کیوں میرے جھوٹے وعدوں پر عمل کیا اور آج بھی نیز امریکہ کے وعدوں پر توجہ نہ کرنا اور اس پر اعتماد کیا جانا اسی مسئلے کے مصادیق ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے ملک کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ طبقے کو امریکہ کے مقابلے میں ملکی سیاست پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ ہماری یہ سیاست تجربے، دشمن کی پہچان، دنیا، خطے اور ملکی سیاست کی حقیقی شناخت کے نتیجے میں تشکیل پائی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصے میں اعلٰی حکام کی جانب سے ملکی کی داخلی صلاحیتوں اور توانائیوں پر تکیہ کئے جانے پر ایک بار پھر تأکید کی اور چھوٹے اور متوسط کارخانوں کے قیام اور نالج بیسڈ معیشت کو موجودہ مشکلات کے بتدریج حل میں مددگار و معاون قرار دیا۔
آپ نے عوام کو ملکی سطح پر تیار کردہ اشیاء من جملہ گھریلو ساز و سامان استعمال کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ افسوس کہ داخلی سطح پر تیار کی جانے والی اشیاء سے ملتی جلتی اشیاء کی درآمد پر پابندی جیسے مسئلے کی بار بار تأکید کے باوجود بازاروں میں امپورٹڈ ساز و سامان کا انبار لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے داخلی پیداوار شدید دباؤ کا شکار ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسمگلروں سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹنے اور اسمگل شدہ اشیاء کو نابود کئے جانے کو انتہائی ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ داخلی پیداوار کی موجودہ صورت حال، جوانوں کی بے روزگاری، کساد بازاری میں اضافے اور عوام کی دشوار زندگی سمیت دیگر مسائل کو اب امریکہ اور یورپ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعہ حل نہیں کیا جاسکتا اور اب اعلی حکام کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے عوام کی معیشتی مشکلات کو ایک گھرا اور مسلسل مسئلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ صاحب نظر افراد کے ساتھ کئے جانے والے تمام تر صلاح مشورے کے بعد ہم اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان تمام تر مشکلات کا راہ حل صرف اور صرف داخلی توانائی پر تکیہ اور توجہ کئے جانے میں مضمر ہے۔
آپ نے گذشتہ چند مہینوں کے دوران غیر ملکی تاجروں کی آمد و رفت کو کم از کم اب تک بے نتیجہ قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ انکا مقصد ہمارے بازاروں پر قبضہ کرنا ہے حالانکہ یہ معاملات حقیقی سرمایہ گذاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی جیسے امور کی صورت میں انجام پانے چاہئے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے داخلی فساد کو مہار کرنے کو اھم ترین مسئلہ قرار دیا اور مزید فرمایا کہ اعلی حکام نے الحمد اللہ صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ وہ حد سے زیادہ تنخواہوں کا راستہ روکیں گے اور بعض اداروں میں اس سلسلے میں اقدامات بھی انجام دیئے گئے ہیں اور ان عملی اقدامات میں مزید اضافہ ہونا چاہئے۔
آپ نے اعلی حکام کو اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ اشرافیت کی مخالفت اور اس سے مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ جب اشرافیت معاشرے کی بلندیوں میں وجود میں آتی ہے تو اسکا نقصان عوام کو بھی ہوتا ہے، بنا بر ایں ہمیں مکمل طور پر اشرافیت کی ثقافت کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اس سال کو استقامتی معیشت اقدام و عمل کا نام دیئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض کام انجام دیئے گئے ہیں لیکن ان اقدماات کا نتیجہ عوام کے لئے واضح ہونا چاہئے تاکہ عوام اسکو محسوس کرسکیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو میں خطے کے پرآشوب حالات اور مسائل کا تذکرہ اور تجزئیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان مسائل کے پیچھے بھی امریکہ کا ہی ہاتھ ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے سعودی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے اعلان کو امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر گھونپے کے مترادف قرار دیا اور فرمایا کہ سعودیوں کا یہ کام ایک بہت بڑی خیانت اور گناہ ہے لیکن اس بڑی غلطی میں بھی نیز امریکہ کا ہاتھ ہے، کیونکہ سعودی عرب امریکی حکومت کی تابع، تسلیم شدہ اور اسکے ہونٹوں کی جنبش کی منتظر رہنے والی حکومت ہے۔
آپ نے یمن پر جارحیت، گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر وحشیانہ بمباری، اور مسلسل معصوم بچوں کے قتل عام کو سعودی حکومت کا ایک اور بڑا جرم قرار دیا اور فرمایا کہ یہ جرائم بھی امریکی اسلحوں اور انکے گرین سگنل کی وجہ سے انجام پا رہے ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ افسوس کہ حتی اقوام متحدہ بھی جب ایک طویل مدت کے بعد ان جرائم کی مذمت کرنا چاہتی ہے تو اس کا منہ پیسے، دھونس ودھمکیوں کے ذریعہ بند کردیا جاتا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ اقوام متحدہ کے رو سیاہ سیکرٹری جنرل نے ان دھمکیوں اور دباؤ کا اعتراف کیا ہے لیکن اسے اعتراف کرنے کے بجائے استعفی دے دینا چاہئے تھا، نہ کہ وہ اپنے عھدے پر باقی رہے اور پوری انسانیت کے ساتھ خیانت کرے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بحرین کے مسئلے اور وہاں کے عوام پر دباؤ ڈالنے کے لئے اغیار کی فوجوں کی مداخلت کو امریکی حمایت کا ایک اور واضح نمونہ قرار دیا اور تأکید کے ساتھ فرمایا کہ آج سعودی حکومت کی باگ دوڑ بے وقوف افراد کے ہاتھوں میں ہے لیکن مسائل کا دقیق تجزئیہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تمام مسائل کے پیچھے امریکہ کا ہی ہاتھ ہے۔
آپ نے اسی طرح امت مسلمہ میں اختلافات کو ہوا دینے کے لئے تکفیری گروہوں کو بنانے اور انکی حمایت اور تقویت کئے جانے، اموی اور مروانی اسلام کی ترویج، اور حقیقی اسلام کو بدنام کرنے میں امریکی کردار کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے تکفیری گروھوں کے خلاف اتحاد تشکیل دیا ہے حالانکہ وہ انکے خلاف مؤثر اقدامات انجام نہیں دیتے اور بعض رپورٹوں کے مطابق وہ انکی مدد بھی کرتے ہیں۔
رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ البتہ تکفیری گروھوں نے اپنے حامیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ھم ایرانیوں کے بقول ہوا جو کچھ بوتی ہے طوفان وہی کاٹتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے اس حصے کو سمیٹتے ہوئے امریکہ کو اس خطے میں مشکلات میں اضافے کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ اس خطے کے عوام ان مسائل کو حل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور ہم اس خطے کی حکومتوں کو اس بات کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ امریکہ قابل اعتماد ملک نہیں ہے اور وہ عرب ممالک کو غاصب صیہونی حکومت کی حفاظت کے ہتھیار کے طور پر دیکھتا ہے اور صرف اور صرف خطے میں اپنے استکباری منافع کے حصول کے درپے ہے۔
آپ نے خطے کے مسائل کا حل مسلمان حکومتوں اور ملتوں کے درمیان اتحاد، اور امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے استکباری مقاصد کے مقابلے میں استقامت کو قرار دیا اور فرمایا کہ ہمیں ان مقاصد کو پہچاننا چاہئے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئے اور ہماری عوام بھی اسی راہ میں ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ امریکیوں کی بے پناہ کوششوں کے باجود انکے منصوبے اور سازشیں افشا ہوگئیں اور امریکہ کی اس خطے میں گرفت روز بروز کمزور ہوتی جارہی ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکی مداخلت اور دشمنی صرف اسلامی جمھوریہ ایران تک منحصر نہیں ہے۔ آپ نے مزید فرمایا کہ ترکی میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں قوی امکانات پائے جاتے ہیں کہ یہ بغاوت امریکی تدبیروں اور اسکی پشت پناہی میں انجام پائی ہے اور اگر یہ بات سچ نکلی تو یہ امریکہ کے لئے ایک بڑی رسوائی ثابت ہوگی۔
آپ نے خطے میں ایک اتحادی کے عنوان سے امریکہ کے ترکی سے اچھے رابطوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امریکی اسلام اور اسلام کی جانب رجحان کے مخالف ہیں، بنا بر ایں ترکی میں بھی چونکہ اسلام کی جانب رجحان موجود ہے اس لئے وہاں بغاوت کا راستہ ھموار کریں گے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ سرکوب کرنے کا یہ انداز اور امریکہ، اب ترکی کے عوام کے نزدیک بھی نیز منفور ہوگیا ہے اور امریکی عراق اور شام اور دوسرے علاقوں میں بھی اسی انداز میں کمزور ہو رہے ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے دین خدا کی نصرت کرنے والوں کے لئے خدا کے قطعی وعدے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ملت ایران اس حتمی وعدے کے سلسلے میں امیدوار ہو اور اسکہ زمینہ فراہم کرے تو تمام تر مشکلات دور ہوجائیں گی۔
آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں ماہ ذی قعدہ کے نزدیک آنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ماہ حرام کی تعبیر سے مراد اس کا بیشتر احترام کیا جانا ہے جس کا خداوند متعال نے ان مھینوں کے بارے میں ذکر کیا ہے اور ان مھینوں میں بعض کاموں کو حرام قرار دیا ہے اور خداوند متعال کی جانب سے ان مھینوں کے اسی احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے خداونود متعال کی بارگاہ کی جانب اور زیادہ متوجہ ہونا چاہئے اور روحانیت کے حصول کے لئے بیشتر کوشش کرنی چاہئے۔
اس ملاقات میں صوبہ مغربی آذربائیجان، اردبیل، سیستان و بلوچستان، لرستان،کرمان اور کرمانشاہ سے مختلف شعبہ ھائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔
leader.ir



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17