Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183483
Published : 19/9/2016 13:22

رھبر انقلاب اسلامی سے صوبہ تھران کے ائمہ جماعات کی ملاقات:

مسجد استقامت،منصوبہ بندی اور اجتماعی اور ثقافتی حرکت کا مرکز ہے

رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے صوبہ تھران کی مساجد کے ائمہ جماعات سے ملاقات میں مساجد کو اجتماع، صلاح مشورے، استقامت، منصوبہ بندی اور اجتماعی اور ثقافتی حرکت کا مرکز قرار دیا۔
رھبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے صوبہ تھران کی مساجد کے ائمہ جماعات سے ملاقات میں مساجد کو اجتماع، صلاح مشورے، استقامت، منصوبہ بندی اور اجتماعی اور ثقافتی حرکت کا مرکز قرار دیا اور انقلاب اوراسلامی نظام کے اصلی تکیہ گاہ کے عنوان سے عوام کے ایمان کو تقویت دینے کی ضرورت پر تأکید کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ موجودہ مسائل کے سامنے اپنی ذمہ داری کی تشخیص کے لئے ضروری ہے کہ وسیع اور ثقافتی نگاہ سے استفادہ کرتے ہوئے معاشرے کی مجموعی حرکت کی تحلیل اور جائزہ لیا جائے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے یوم مسجد کے تعین کے فلسفے کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ دن بنیادی طور پر اسلامہ جمھوریہ ایران کے انقلابی موقف و استقامت اور صیھونیوں کے ہاتھوں مسجد الاقصٰی کو آگ لگائے جانے کے بعد اور امت مسلمہ کی جانب سے غاصب صیھونی حکومت کا مقابلہ کئے جانے کے مقصد اور مقصد سے او آئی سی میں منظور کیا گیا اور ہمیں چاہئے کہ اسی زاویے سے اس پر توجہ کریں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے مسجد کی تشکیل کو ذکر، نماز اور خداوند متعال پر توجہ کے محور سے عوامی رابطوں اور اجتماعات کے لئے اسلام کا ایک ابتکار قرار دیا اور فرمایا کہ تاریخ اسلام میں مسجد، صلاح مشورے، تعاون اور اھم اجتماعی، سیاسی اور نظامی مسائل کے بارے میں فیصلوں کا مرکز ہوا کرتی تھی۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اسی زاویے سے نماز کی اھمیت پر تأکید کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ نماز کو با کیفیت اور خداوند متعال پر گھری توجہ نیز غفلت اور ریا جیسی آفتوں سے مبرا ہونا چاہئے اور نماز کے ایک دلچسپ حقیقت اور شوق و اشتیاق سے لبریز ہونے کو بیان کرنے اور اسکی زبانی اور عملی ترویج کئے جانے کے سلسلے میں ائمہ جماعات کا کردار بہت اھمیت کا حامل ہے۔
آپ نے مسجد کو تمام تر نیک اعمال کا مرکز قرار دیا اور فرمایا کہ مسجد کو انسان سازی، دل و دنیا کی تعمیر، دشمن سے مقابلے، بصیرت میں اضافے اور اسلامی تھذیب و تمدن کے احیاء کا زمینہ فراھم کرنے والا مرکز ہونا چاہئے، بنا بر ایں نماز کی اقامت کے علاوہ حق و عدل کے قیام اور دین بیان کرنے اور احکام دینی کی تبلیغ جیسی دیگر ذمہ داریاں بھی امام جماعت کی ہیں۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے امام جماعت کو مسجد کا محور قرار دیا  اور مزید فرمایا کہ مسجد کی امامت ایک اھم اور بنیادی مشغلہ ہے اور اس اھم ذمہ داری کو کم اھمیت نہیں سمجھنا چاہئے اور نہ ہی مسجد کی حق تلفی کرنی چاہئے بلکہ اپنی منظم موجودگی اور طمانیت قلب کے ساتھ، نماز کو بہترین انداز میں ادا کر کے، عوام سے گفتگو کر کے اور جوانوں کے سوالات کے جوابات دے کر مسجد کا حق ادا کیا جانا چاہئے۔
آپ نے اسلامی انقلاب کے اوائل میں مسجد کو مرکزیت دینے کو امام خمینی(رح) کے عظیم کارناموں مں سے ایک قرار دیا اور فرمایا کہ مسجد مختلف سماجی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور عوام کی فکر کو تقویت پہچانے اور مختلف سماجی سرگرمیوں کی جانب عوام کو رغبت دلانے میں اھم کردار ادا کرتی ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مساجد کو استقامت، خاص طور پر ثقافتی استقامت کی بنیاد قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ثقافتی حصار اور فصیل نہ ہو تو سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
آپ نے انقلاب کے ابتدائی ایام کے مقابلے میں موجودہ دور میں ثقافتی اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے دشمنوں کی گوناگوں اور پیچیدہ کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مستقل اور چند مرحلوں پر مشتمل حرکت کی اصل وجہ عوام کا ایمان ہے، اور یہ وہی عامل ہے کہ جو اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلامی جمھوریہ ایران کی تشکیل کا سبب بنا۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کو استبدادی نظام میں ایک شدید زلزلے سے تعبیر کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ انقلابی اسلام اور اسلامی انقلاب کی برکت سے عالمی تسلط پسندوں کا اصل مقصد یعنی اس خطے پر حکمرانی کا خواب چکنا چور ہوگیا اور امریکہ مغربی ایشیا میں مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔
رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اگر ملت ایران اسلام کی پابند اور ایمان کی حامل نہ ہوتی تو ایران بھی دوسرے ممالک کی طرح امریکہ اور دوسرے ممالک کی چھتری تلے ہوتا اور اسی وجہ سے انہیں عوام کے ایمان کے ساتھ گھری اور نہ ختم ہونے والی دشمنی ہے۔
آپ نے ثقافتی اثر و رسوخ اور عوام کے ایمان اور عقائد کو کمزور کرنے کے لئے جوانوں کو دشمنوں کے اہداف کا اصل مقصد قرار دیا اور فرمایا کہ ان تمام تر مکر و فریب پر مبنی منصوبوں کے باوجود مومن جوانوں کے اس امڈتے ہوئے سیلاب نے کہ جو عظیم انقلاب کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے، آج کی نوجوان نسل کو انقلاب کے ابتدائی ایام کے نوجوانوں سے کہیں آگے پہنچا دیا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے استقامت میں اضافے اور ثقافتی حصار کو مضبوط بنانے میں مسجدوں کے کردار کو بہت اھم قرار دیا اور فرمایا کہ مسجد بسیج اور ثقافتی سرگرمیوں کے لئے ایک اھم اور بڑا مرکز ہے۔
آپ نے ائمہ جماعات کو مسجدوں میں سرگرمیاں انجام دینے کے لئے بہترین روشیں اپنانے کی نصیحت کرتے ہوئے اور ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ عوام کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو کرنا مختلف شعبوں میں تبلیغ کے طریقوں میں سے ایک موثر طریقہ ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے ایک اھم نکتے،«ثقافت اور ثقافتی بصیرت» کو حقیقی سیاست کا مبنا قرار دیتے ہوئے تأکید کے ساتھ فرمایا کہ حقیقی معنی میں سیاست کا مطلب اس شخص کی یا اْس شخص کی حمایت کرنا نہیں ہے بلکہ دقیق نگاہ کے حامل ہونے اور معاشرے کی مجموعی حرکت کا تجزئیہ کرنے کی صلاحیت رکھنے کا نام ہے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حقیقی سیاست کی نگاہ میں معاشرے کی عمومی حرکت کے دقیق مشاہدے سے چند اھم سوالات کے جوابات واضح ہوتے ہیں: ہماری موجودہ طرز زندگی کس سمت جا رہی ہے اور آیا اس حرکت کے دوران ہم سماجی عدل و انصاف، حقیقی آزادی اور اسلامی تھذیب و تمدن کے احیاء کی جانب آگے بڑھ رہے ہیں یا امریکی وابستگی اور مغربی تعمیر کردہ یا اس سے متأثرہ معاشرے کے زیر اثر ہیں۔
آپ نے مزید فرمایا کہ البتہ اس دقیق نگاہ اور مشاہدے کے ساتھ ساتھ موجودہ درپیش مشکلات کے سدباب کے لئے اقدامات، اور بعض شخصیتوں، سیاسی جماعتوں اور گروھوں کے مد مقابل عام انسانوں کے رد عمل کو بھی مشخص کیا جانا چاہئے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے دقیق نگاہ اور دقیق جائزے کی اھمیت کو بیان کرتے ہوئے ایک مثال کا ذکر کیا کہ فتنے کے آغاز میں میں نے فتنے کے ایک سرغنہ کو کہا کہ آپ بظاہر اسلامی نظام کے ساتھ ہیں اور بقول آپ کے کہ آپ انتخابات پر اعتراض کر رہے ہیں لیکن آپ جان لیں کہ اس مسئلے کی لگام اغیار کے ہاتھوں میں آجائے گی اور وہ لوگ آپ کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی نظام کو اپنا مقصد بنائیں گے۔
رھبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ وہ لوگ- البتہ اگر اس مسئلے کو خوش بین رہ کر دیکھا جائے تو- انہیں میری باتیں سمجھ نہیں آئیں اور وہ اس مسئلے میں داخل ہوئے اور سب نے دیکھا کہ کس طرح انتخابات کو انہوں نے اسلامی نظام پر حملے اور اس کے انکار کا زریعہ بنایا۔
آپ نے فرمایا کہ بعض افراد کہتے ہیں اس موقع پر ایک بات کی گئی، اس سے صرف نظر کرتے ہیں، لیکن اس بات پر دھیان رہے کہ اگر کسی کی طرفداری میں بات کی گئی کہ جو اسکی گفتگو اور مواقف کے مخالف تھے تو اس شخص کو اپنی مخالفت کا اعلان کرنا چاہئے ورنہ یہ اسکے حساب میں لکھا جائے گا۔
رھبر انقلاب اسلامی نے تھران کی مسجدوں کے ائمہ جماعات سے اپنی گفتگو میں مزید نکات بھی بیان فرمائے جن میں دن میں تین وقت نماز جماعت کا انعقاد اور عوام کے رجوع کے لئے اور نمازوں کی ادائیگی کے لئے پورے دن مسجدوں کو کھلا رکھنے جیسے نکات شامل تھے۔
آپ نے اس نظریے پر تنقید کرتے ہوئے کہ جس میں پیش نماز کو صرف اور صرف تین وقت نماز پڑھانے والا تصور کیا جاتا ہے مزید فرمایا کہ یہ ظالمانہ نظریہ درحقیقت وہی سیکولر نظریہ ہے کہ جو دین کو انسان کے ذاتی عمل تک محدود کردیتا ہے اور اجتماعی اور سیاسی مسائل میں داخل ہونے سے روکتا ہے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ سیکولر اسلام اور عبادتوں میں محصور ہو کر رہ جانا، چاہے وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی حتی اس کے بے شمار طرفدار ہی کیوں نہ ہوں، تسلط پسند طاقتوں کی دشمنی کا سبب نہیں ہیں، عالمی استکبار کو جس چیز سے دشمنی ہے وہ مقتدر اسلام ہے کہ جو سیاسی- معاشرتی نظام کو تشکیل دیتا ہے اور ملتوں کو دنیوی اور اخروی حقیقی سعادت کی سمت ہدایت کرتا ہے۔
جوانوں پر خاص توجہ اور جوان نسل کے خاص مقام کا قائل ہونا رھبر انقلاب اسلامی کا دوسری نکتہ تھا جس کے بارے میں آپ نے ائمہ جماعات کو نصیحت فرمائی۔
آپ نے فرمایا کہ جوانوں کے دلوں کو صحیح جاذبہ یعنی حقیقی عرفان اور روحانیت سے آمیختہ گفتگو اور اقدامات کے زریعے مسجدوں کی جانب راغب کریں تاکہ ملک اور معاشرہ مسجدوں میں جوان نسل کی موجودگی سے بھرہ مند ہوسکے۔
حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے اسی طرح مسجدوں کی کہانیوں کو موجودہ جوان نسل کے لئے کتابوں، تصاویر یا میڈیا سمیت مختلف صورتوں میں سامنے لانے کو اھم اور ضروری قرار دیا۔
رھبر انقلاب اسلامی نے اپنی گفتگو کے آخری حصے میں تأکید کے ساتھ فرمایا کہ ظالم بڑی طاقتوں کی اس آشکارا اور پوشیدہ، وسیع پیمانے پر اور پیچیدہ دشمنی کے باوجود اسلامی جمھوریہ ایران کا کلمہ طیبہ روز بروز مستحکم اور اسکے اقتدار میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور عوام کے ایمان اور اتحاد کی برکت سے ان کی یہ سازشیں بے نتیجہ ثابت ہوں گی۔
رھبر انقلاب اسلامی کی گفتگو سے پہلے مساجد کے امور حل کرنے والے ادارے کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین علی اکبری نے یوم مسجد کی مناسبت سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسجد عوام کی بصیرت کا زمینہ فراھم کرتی ہے اور اسلامی انقلاب کے مجاہدوں اور مومنوں کی تربیت کا مرکز ہے۔
حجت الاسلام علی اکبری نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ ملک کے ۹۷ فیصد شھداء مسجدوں کے پرورش یافتہ تھے کہا کہ ثقافت کا احیاء، اہداف کا تعین، ائمہ جماعات کے درمیان تعاون، مشترکہ محاذ کی تشکیل، معاشرے کے اھم افراد اور جوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ، عوام کی مدد سے مسجدوں کے انتظامی مسائل حل کرنا، مؤمن معاشرے کی تعمیر کے لئے مسجد کے امکانات سے استفادہ کیا جانا مسجدوں کے اھم ترین اہداف اور منصوبوں میں سے ہے۔
leader.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25