Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183501
Published : 20/9/2016 8:5

110 صحابی 89 تابعین اور 360 اھلسنت علماء سے منقول حدیث غدیر:

حدیث غدیر علماء اھل سنت کی روایات کے تناظر میں

اے اﷲ اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے،اس سےمحبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی پر غضبناک ہو، اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کرے او ر حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑیں۔

يناديهم، يوم الغدير نبيّهم         بخمّ فاسمع بالرّسول مناديا
ھجرت کا دسواں سال ہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ مدینہ منورہ میں دس سالہ مجاھدت اور تبلیغ کے بعد خانہ کعبہ کی زیارت کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہ خبر مسلمانوں تک آناً فاناً پھنچ گئ،ہر ایک مسلمان کے دل میں اس حج میں شرکت کی تمنا پیدا ہونے لگی،خانہ خدا کی زیارت کرنے والے ھزاروں مشتاق افراد اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ کے انتظار میں ہیں کہ کب ارادہ سفر کریں،چھبیس26 ذیقعدہ کا دن ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ لوگوں کو حج کے احکام سکھانے میں مصروف ہیں،مسلمانوں کا نورانی مجمع ہے ہر طرف ایمان اور تقوی کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں سب کے سب ایک رنگ میں رنگ کر  اﷲ کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں،حج کی ادائیگی کے بعد لوگ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے آخری حج حجة الوداع کے معنوی توشہ کے ساتھ اپنے دیار کولوٹ رہے ہیں، عید الاضحی کو آٹھ دن گذر چکے ہیں،لوگ تییس23 دنوں سے اپنے گھرانوں سے دور ہیں،مناسک حج مکمل ہو چکے ہیں اب واپسی کا مرحلہ شروع ہوا ہے لوگ غدیر خم کے نذدیک جحفہ نامی علاقے میں داخل ہو گئے جھاں عراق،مصر اور مدینہ والے اپنا اپنا راستہ اختیار کریں گے جبرئیل امین علیہ السلام وحی لے کے نازل ہوئے، تو اچانک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ  کی طرف سے رکنے کا حکم طنین انداز ہوا، لوگوں کی سانسیں سینوں میں بند،آخر ماجرا کیا ہے ایکدوسرے سے پوچھا جارہا ہے کیا بات ہے کیا پیغام ہے کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اﷲ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے:«يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ»(سورة المائدة: 67)۔
 امین وحی فوق الذکر آیت لے کر آئے اور اللہ کی جانب سے آنحضرت کو حکم ہوا کہ علی علیہ السلام کی ولایت اور امامت کا اعلان کریں اور اس سلسلے میں جو کچھ ان کی اطاعت اور پیروی کیلئے خدا کی طرف سے واجب ہوا ہے اسکی تبلیغ کریں ۔
لوگوں کو جمع کیا گیا، جو آگے نکل چکے تھے ان کو واپس لوٹنے کو کہا گیا اور جو ابھی راستے میں تھے ان کا انتظار کرنا پڑا، اس دوران ظھر آپھنچا، اذان ہوئی نماز ظھر با جماعت ادا ہوئی،نماز ظھر کے بعد حضرت نے اونچی آواز میں خطبہ ارشاد فرمایا:«حمد و ثناء،اﷲ کی ذات کے لئے مخصوص ہے ہم اس پرایمان رکھتے ہیں،اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں،ہم برائی اور اپنے برے کاموں سے بچنے کے لئے اس کی پناہ چاہتے ہیں،وہ اﷲ جس کے علاوہ کوئی دوسرا ھادی اور رھنما نہیں ہے،اور اس نے جس کی رھنمائی کی وہ کبھی گمراہ کرنے والا نہیں بن سکتا»۔
 میں گواھی دیتا ہوں کہ اﷲکے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے،اور محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ) اس کا بندہ اور رسول ہے۔
خدا کی حمد و ثنا اور شھادت توحید کے بعد فرمایا! اے لوگو! اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی دعوت حق کو لبیک کہوں اور تمہارے درمیاں سے چلا جاؤں،تم لوگ بھی اپنی ذمہ داری کے اعتبار سے جواب دہ ہو اور میں بھی جواب دہ ہوں،اس کے بعد فرمایاکہ :
«یا ایھا الناس! واﷲ ما من شیئٍ یقرّبکم من الجنۃ و یباعدکم من النار الا وقد امرتُکم به،و ما من شیئٍ یقرّبکم من النار و یباعدکم من الجنۃ الا وقد نھیتکم عنه»۔
اے لوگوں! کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کو جنت کے نذدیک اور جھنم سے دوررکھ سکے ،مگر یہ کہ میں نے آپکو اسکا حکم  دیا ہو اور کوئی چیز نہیں ہے جو آپ کو جنت سے دور رکھے اور جہنم کے نذدیک کر لے مگر یہ کہ میں نے اس سے آپکو منع کیا ہو۔
 لوگوں سے سوال کرتے ہوئے فرمایا:
میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟! کیا میں نے آپ لوگوں کے نسبت اپنی ذمہ داری کو پورا کردیا ہے ؟
 یہ سن کر پورے مجمع نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمات کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ نے بہت کوشش کی اور اپنی ذمہ داری کو پورا کیا، اﷲ  آپ کو اس کا اچھا اجر دے ۔
حبیب خدا پیغمبر  آخرالزمان صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:«کیا تم گواھی دیتے ہو کہ اس پوری دنیا کا معبود ایک ہے اور محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور جنت،جھنم اور آخرت کی جاودانی زندگی میں کوئی شک نہیں ہے ؟! اور اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور سب سچ اور آپکا اس پر اعتقاد ہے؟»۔
سب نے کہا کہ صحیح ہے ھم گواھی دیتے ہیں ۔
اس کے بعد رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہنا۔
 اس کے بعد فرمایا:
میں سب سے پہلے آخرت میں حوض کوثر پر پھنچ جاؤں گا اور تم حوض کوثر پر مجھ سے ملنے آؤ گے،میرے حوض کی وسعت صنعاء سے بصری تک ہے اور وہاں قدحوں اور جاموں کی تعداد ستاروں کے مانند ان گنت ہوں گے،اس لئے ہوشیار رہیں میں اپنے پیچھے دو سنگین چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں،اب دیکھوں گا کہ تم ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرو گے ؟!
 اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اھم چیزوں سے کیا مراد ہے ؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ:
1۔ایک اﷲ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اﷲ کی  قدرت میں ہے ،اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں۔
2۔ دوسرے میری عترت اھلبیت (علیھم السلام)ہیں۔
 اﷲ  نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ھرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے جب تک مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات نہ کر لیں۔
 اے لوگو خبردار!قرآن اور میری عترت پر سبقت نہ کرنا ،اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں کوتاھی نہ کرنا،ورنہ ھلاک ہو جاؤ گے۔
اس وقت حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی سب کو نظر آنے لگی ۔
 علی علیہ السلام سے سب لوگوں کو متعارف کرایا،اس کے بعد فرمایا :
 مؤمنین پر خود ان سے زیادہ سزاوار کون ہے ؟!
 سب نے کہا: اﷲ  اور اﷲ  کا رسول بھتر جانتے ہیں۔
 پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا :اﷲ  میرا مولی ہے اور میں مؤمنین کا مولا ہوں اور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ حق تصرف رکھتا ہوں،ہاں اے لوگوں! «من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ»، جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے علی مولا ہیں۔
اس بات کو تین بار دھرایا امام احمد بن حنبل کے مطابق اس بات کو آنحضرت نے چار بار  دھرایا،اسکے بات دعا فرمائی:«اللھم وآل من والاہ،و عاد من عاداہ و احب من احبه و ابغض من ابغضه و انصر من نصرہ و خذل من خذله و ادر الحق معه حیث دار»۔
 اے اﷲ  اسکو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے ، اس سےمحبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس پر غضبناک ہو جو علی پر غضبناک ہو ، اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے او ر اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کرے او ر حق کو ادھر موڑ دے جدھر علی مڑیں ۔
 اسکے بعد فرمایا ؛ حاضرین غابین تک اس بات کو پھنچائیں۔
 ابھی لوگ متفرق نہ ہوئے تھے کہ  ایک اور آیت نازل ہوئی:« الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دِينا»(سورة المائدة:3) ۔
 اس پر آنحضرت نے فرمایا:اللہ اکبر ، اللہ نے دین کی تکمیل اور اتمام نعمت اور میری رسالت اور میرے بعد علی کی ولایت پر خشنودی کا اعلان کیا ہے۔
اس کے بعد مبارکبادی کا سلسلہ شروع ہوا۔
غدیر خم ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے کہ جس کے بارے میں عالم اسلام کے تمام محققوں،راویوں،محدثوں،مفسروں،متکلموں،خطیبوں،شاعروں،مؤرخوں اور سیرت نے خاصی اھمیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
علّامہ شیخ عبدالحسین امینی نے غدیر خم سے متعلق روایات کو جمع کیا ہے جو کہ گیارہ زخیم جلدوں پر مشتمل الغدیر کے عنوان سے موسوم ہے۔
اگر کہیں کہ دنیا میں ایسے تاریخی واقعات بہت کم ہیں جو غدیر خم کی طرح محققوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوں مبالغہ نہ ہوگا ۔
 غدیر خم کے حدیث کے جاودانی ہونے کی ایک علت یہ ہے کہ اس واقعہ سے متعلق دو آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں، اور جب تک قرآن ہے تب تک حدیث غدیر بھی ہے ۔
تاریخ کے مطالعہ سے ایک بڑی دلچسپ بات سامنے آتی ہے اور وہ یہ کہ اٹھارویں ذی الحجۃ الحرام کو مسلمان بالعموم عید کے طور پر مناتے تھے۔
ابن خلقان اور ابوریحان بیرونی سے لیکر عالم اسلام کے معروف عالم ثعلبی نے بھی غدیر کو امت مسلمہ کے درمیاں مشھور اعیاد میں شمار کیا ہے ۔
اس اسلامی عید کی بنیاد پیغمبر اسلام صلی اﷲ  علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی پڑگئی تھی کیونکہ آپ نے اس دن تمام مھاجر ، انصار اور اپنی ازواج کو حکم دیا کہ علی علیہ السلام کے پاس جا ‎‎‎ؤ اور امامت و ولایت کے سلسلے میں ان کو مبارکباد دو۔
 زید بن ارقم کہتے ہیں کہ : حضرت ابوبکر، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، طلحہ اور زبیر مھاجرین میں سے وہ افراد تھے جنہوں نے سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کی اور مبارکباد پیش کی،بیعت اور مبارکبادی کا یہ سلسلہ مغرب تک چلتا رہا،غدیر خم کے واقعے کو ایک سو دس اصحاب رسول نے نقل کیا ہے،۔صاحب کتاب الغدیر کے مؤلف کے مطابق علماء اھل سنت کے معتبر کتابوں میں حدیث غدیر کو ایک سو دس راویوں نے بیان کیا ہے، دوسری صدی میں جس کو تابعین کا دور کہا گیا ہے ان میں سے اناسی افراد نے اس حدیث کو نقل کیا ہے، بعد کی صدیوں میں بھی اھل سنت کے تین سو ساٹھ علماء نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں بیان کیاہے اور علماءکی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کی سند کوصحیح تسلیم کیا ہے۔
اس گروہ نے نہ صرف یہ کہ اس حدیث کو بیاں کیا بلکہ اس حدیث کی سند اور افادیت کے بارے میں مستقل طور پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔
 عجیب بات یہ ہے کہ عالم اسلام کے سب سے بڑے مؤرخ طبری نے«الولایة فی طرق الحدیث» نامی کتاب لکھی اور اس حدیث کو پچتھر(75) طریقوں سے پیغمبر اسلام صلی اﷲ  علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیاہے ۔
 ابن عقدہ کوفی نے اپنے رسالہ«الولایة» میں اس حدیث کو ایک سو پانچ افراد سے نقل کیا ہے۔
 ابوبکر محمد بن عمر بغدادی جوکہ جمعانی کے نام سے مشھور ہیں  انہوں نے اس حدیث کو پچیس(25) طریقوں سے بیان کیا ہے۔
 حدیث غدیر کو مشھور علماءاھل سنت:حضرات احمد بن حنبل شیبانی، ابن حجر عسقلانی،جزری شافعی، ابوسعید سجستانی، امیر محمد یمنی،نسائی ابو الاعلاء ھمدانی اور ابوالعرفان حبان نے اس حدیث کو بہت سی سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔
shafaqnq.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19