Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183512
Published : 21/9/2016 14:6

نیویارک بم دھماکے: امریکہ اپنا بویا ہوا کاٹ رہا ہے

امریکی حکام نے گذشتہ روز ایک مشتبہ افغان نژاد شدت پسند کو حراست میں لیا ہے جسے چند روز قبل نیویارک میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔


امریکی حکام نے گذشتہ روز ایک مشتبہ افغان نژاد شدت پسند کو حراست میں لیا ہے جسے چند روز قبل نیویارک میں ہونے والے بم دھماکوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے،امریکی ریاست نیوجرسی کے میئر اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حکام نے نیویارک میں ہونے والے بم دھماکوں میں مطلوب مشتبہ شخص احمد خان رحامی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے،احمد خان رحامی کو نیو جرسی میں لنڈن شھر میں ایک پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد حراست میں لیا گیا ہے،فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جب کہ خان رحامی کو بھی دائیں بازو پر گولی کے زخم آئے ہیں،اس سے قبل امریکی حکام کی جانب سے نیو یارک میں اختتامِ ھفتہ پر ہونے والے تین دھماکوں کی تفتیش کے سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کی شناخت کی تھی،حراست میں لیا گیامشتبہ شخص 28سالہ احمد خان رحامی ہے جو افغان نژاد امریکی شھری ہے، اس مشتبہ شخص کا تعلق داعش سے ہے جس نے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے،اس میں دو آراء نہیں بلکہ سب کا اتفاق ہے، داعش ایک دھشتگرد تنظیم ہے،مسجد نبوی، سعودیہ، ترکی، عراق، پاکستان، افغانستان، فرانس اور دیگر ممالک داعش کی مذموم کارروائیوں کی زد میں آچکے ہیں، امریکہ کی قیادت میں مغربی ملکوں کا اتحاد داعش کو نہ صرف دھشت گرد قرار دیتا ہے بلکہ برطانیہ اور فرانس داعش کے ٹھکانوں پر حملے بھی کرچکے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں جنگ بندی کے روس امریکہ سمجھوتے کے باوجود شام کے فوجیوں کی ہلاکت پر دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر کڑی تنقید کی،جہاں تک داعش کا تعلق ہے وہ جہاں بھی دھشت گردی کی کارروائی کرتی ہے اسکی ذمہ داری بھی قبول کرلیتی ہے،امریکہ سمیت سب اس کیخلاف ہیں لیکن اسکے باوجود وہ اپنی کارروائیوں میں مصروف ہے اسکی سب سے بڑی وجہ امریکہ کی دوہرے معیار پر مبنی پالیسیاں ہیں اور امریکہ کا شام کے معاملے پر داعش کے ساتھ غیر اعلانیہ اتحاد ہے،اسی لئے دیگر مقامات پر داعش کی کارروائیوں کو بلاجواز جبکہ شام میں اُسکے حملوں سے صرف نظر کیا جاتا ہے۔
اگر دھشت گرد تنظیم کو ایک جگہ ریلیف ملے گا اور دوسری جگہ قدغن لگائی جائے گی تو یہی نتائج نکلیں گے جو امریکہ کے دو شھروں میں حملے کی صورت میں برآمد ہوئے۔ امریکہ کو اپنے طرزعمل پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اسکی طرف سے کسی بھی دھشت گرد تنظیم کو کہیں بھی آکسیجن نہیں ملنی چاہئے۔
shafaqna.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25