Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183516
Published : 21/9/2016 22:43

غدیر اور تصور امامت

امیر المومنین(ع)کی پانچ برس سے بھی کم مدت کی حکومت،ایک مثالی اور بشریت کے لئے نا قابل فراموش دور کی شکل میں صدیوں سے تاريخ کے صفحات پر دمک رہی ہے، یہ غدیر کے واقعے کی حقیقی تفسیر اور اس کے اصل معنی ہيں۔


امامت کے معنی،کمزوریوں، خواہشات،نخوت و غرور اور حرص و طمع کے نتیجے میں سامنے آنے والے مختلف عالمی سماجی نظاموں کے بر خلاف سماج کے نظم و نسق کے لئے مثالی نظام کی مکمل تشکیل ہے،اسلام امت کے سامنے،طریقہ امامت کا تعارف پیش کرتا ہے،یعنی ایسا انسان جس کا دل ہدایت الہی سے سرشار و فیضیاب ہوا ہو، جو دینی امور کو سمجھتا اور پہچانتا ہو، یعنی صحیح راستے کے انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہو، عمل در آمد کی طاقت بھی اس میں ہو، یعنی «يا يحيى خذ الكتاب بقوة» اس کے ساتھ ہی اس کے لئے اپنی ذاتی زندگی اور خواہشات کو کوئی اہمیت نہ ہو لیکن لوگوں کی خواہشات،زندگی اور سعادت و کامرانی اس کے لئے سب کچھ ہو جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے پانچ سال سے بھی کم حکومت کے دوران اس کی عملی تصویر پیش کی،آپ غور فرمائيں کہ امیر المومنین(ع)کی پانچ برس سے بھی کم مدت کی حکومت،ایک مثالی اور بشریت کے لئے نا قابل فراموش دور کی شکل میں صدیوں سے تاريخ کے صفحات پر دمک رہی ہے، یہ غدیر کے واقعے کی حقیقی تفسیر اور اس کے اصل معنی ہيں۔

khamenei.ir

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19