Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183526
Published : 22/9/2016 19:44

غدیر کے عیاں و پنہاں حقائق

بنیادی طور پر اگر غدیر کے معاملے میں تمام مسلمان، چاہے وہ شیعہ ہوں کہ جو اس مسئلے کو امامت و ولایت کا معاملہ سمجھتے ہيں اور چاہے غیر شیعہ ہوں کہ جو اصل واقعہ کو قبول کرتے ہيں لیکن اس سے امامت و ولایت کا مفہوم اخذ نہيں کرتے، ان نکات پر زیادہ توجہ دیں جو غدیر کے واقعے میں مضمر ہیں تو مسلمانوں کے مفادات اور مصلحتوں پر اس کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔


غدیر کے واقعے میں،بہت سے حقائق مضمر ہيں،معاملہ یہ ہے کہ اس دور میں نئے نئے تشکیل پانے والے اسلامی سماج میں جس کی تشکیل کو تقریبا دس برس کا عرصہ گزرا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکومت اور امامت کے معاملے کو، اس کے وسیع مفہوم و معانی کے ساتھ، طے کرنا چاہا اور حج سے واپسی کے وقت غدیر خم میں، امیر المومنین(ع) کو اپنا جانشین معین کرنا تھا،اس پورے عمل کی یہی ظاہری صورت حال بھی کافی اہمیت کی حامل ہے اور کسی بھی انقلابی سماج کے اہل تحقیق اور اہل فکر و نظر حضرات کے لئے ایک الہی تدبیر ہے لیکن اس ظاہری صورت کے پيچھے بہت بڑے حقائق بھی پوشیدہ ہیں کہ اگر اسلامی امت اور اسلامی سماج ان نکات پر توجہ دے تو زندگی کی راہ و روش واضح ہو جائے گي۔
بنیادی طور پر اگر غدیر کے معاملے میں تمام مسلمان، چاہے وہ شیعہ ہوں کہ جو اس مسئلے کو امامت و ولایت کا معاملہ سمجھتے ہيں اور چاہے غیر شیعہ ہوں کہ جو اصل واقعہ کو قبول کرتے ہيں لیکن اس سے امامت و ولایت کا مفہوم اخذ نہيں کرتے، ان نکات پر زیادہ توجہ دیں جو غدیر کے واقعے میں مضمر ہیں تو مسلمانوں کے مفادات اور مصلحتوں پر اس کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کو پیش کرنے اور حکومت کے لئے ان کے تعین سے حکومت کے معیار اور اقدار واضح ہو گئے،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غدیر کے واقعے میں، ایسی شخصیت کو مسلمانوں اور تاریخ کے سامنے پیش کیا جس میں اسلامی اقدار اپنی مکمل صورت میں جلوہ افروز تھیں، یعنی ایمان کامل کی حامل ایک ایسی ہستی جس میں تقوی و پرہیزگاری، دین کی راہ میں جذبہ قربانی، دنیوی چمک دمک سے بے رغبتی اپنی کامل ترین شکل میں موجود تھی اور جسے تمام اسلامی میدانوں، خطروں کے وقت، علم و دانش، قضاوت اور اس جیسے دیگر شعبوں میں آزمایا جا چکا تھا۔ یعنی حضرت امیر المومنین کو ، اسلامی حاکم ، امام اور ولی کی حیثیت سے پیش کئے جانے سے پوری تاریخ کے تمام مسلمانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ اسلامی حاکم کو، اس سمت میں قدم بڑھانے والا اور اس مکتب سے تعلق رکھنے والا اور اس نمونہ عمل سے شباہت رکھنے والا ہونا چاہئے، اس طرح اسلامی تاریخ میں جو لوگ ان اقدار سے محروم رہے، جن میں اسلامی تدبیر، اسلامی عمل، اسلامی جھاد، سخاوت، وسیع القلبی، خدا کے بندوں کے سامنے تواضع اور وہ خصوصیات جن کے امیر المومین حامل تھے، اگر وہ ان میں نہ پائی جاتی  ہوں تو وہ لوگ حکومت کے اہل نہیں ہیں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کے سامنے یہ معیار رکھے ہیں اور یہ ایسا سبق ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
غدیر کے واقعے سے ایک اور بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے،خلافت کے شروعاتی چند برسوں میں ہی یہ واضح کر دیا کہ ان کی نظر میں ترجیح، الہی و اسلامی عدل و انصاف کا قیام ہے،یعنی انصاف، یعنی اس مقصد کی تکمیل جسے قرآن مجید نے، انبیاء کی بعثت، آسمانی کتابوں اور شریعتوں کے نزول کی وجہ قرار دی ہے:«ليقوم الناس بالقسط.» الہی عدل و انصاف کو قائم کرنا، وہ عدل و انصاف جس کو اسلامی احکام میں بیان کیا گیا ہے، انصاف کو یقینی بنانے کا سب سے بہتر راستہ  یہی ہے، اور یہ امیر المومنین(ع) کی نظر میں اولین ترجیح تھی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19