Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183529
Published : 23/9/2016 8:56

غدیر کے پس منظر میں مثالی انتظامیہ کی اہمیت

غدیر یعنی اسلامی سماج کو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقصود نظر بننے کے لئے،اپنے مطلوبہ مقصد کے طور پر کسی صالح نظاماور حکومت و انتظامیہ کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔


غدیر کا واقعہ اور پیغمر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے امیر المومنین علیہ السلام کا ولی امر اور اسلامی امت کے سرپرست کے طور پر تعین بہت بڑا اور معنی خیز واقعہ ہے، یہ در اصل سماج کے نظم و نسق میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانب سے کردار ادا کرنا ہے، اٹھارہ ذی الحجہ سن 10 ھجری قمری کو رونما ہونے والے اس واقعے کے معنی یہ ہیں کہ اسلام سماج کے نظم و نسق اور انتظام کو اہمیت دیتا ہے،ایسا نہیں ہے کہ حکومت کا پہلو، اسلامی نظام اور اسلامی سماج میں یونہی چھوڑ دیا گیا ہے اور اسے نظرانداز کر دیا گیا،اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کسی بھی سماج کا نظم و نسق،سماجی امور میں سب سے زیادہ مؤثر عنصر ہوتا ہے،امیرالمومنین کا تعین بھی کہ جو اصحاب پیغمبر میں تقوی و پرہیزگاری،علم و معرفت، شجاعت و دلیری، قربانی و ایثار اور عدل و انصاف کے مظھر ہيں، اس نظام کے خد و خال واضح کرتا ہے،اس سے واضح ہوتا ہے کہ نظم و نسق کے شعبے میں اسلام کی نظر میں جو چیزیں اھم ہیں وہ یہی ہيں، جو لوگ،حضرت امیر المومنین کو خلیفہ بلا فصل نہيں بھی مانتے انہیں بھی آپ کے علم و زھد، تقوٰی و شجاعت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہيں ہے ـــ اس امر پر تمام مسلمانوں اور حضرت امیر المومنین کو پہچاننے والوں کا اتفاق ہے ـــ اس سے ثابت ہوتا ہے اسلامی سماج کو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظر میں،اپنے مطلوبہ مقصد کے طور پر کس قسم کے نظم و نسق اور حکومت و انتظامیہ کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔
 khamenei.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19