Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183530
Published : 23/9/2016 9:6

عید غدیر کی اہمیت

اسلامی روایتوں کے مطابق سب سے زيادہ با عظمت اس عید کی اھمیت اسی میں ہے کہ اس سے ولایت کا مفھوم وابستہ ہے،شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، انبیائے الھی اور تمام عظیم رہنماؤں نے جو جد و جھد کی ہے اس کا مقصد الھی ولایت کا قیام تھا۔


بلا شبہ غدیر کے دن کی بہت زیادہ اھمیت ہے اور اسلامی روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ اس دن کی عظمت، عید فطر اور عید الاضحی سے بھی زيادہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے اسلام کی ان دو عظیم عیدوں کی اھمیت کم ہوتی ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہيں کہ عید غدیر میں ایک اعلی مفھوم مضمر ہے،اسلامی روایتوں کے مطابق سب سے زيادہ با عظمت اس عید کی اھمیت اسی میں ہے کہ اس سے ولایت کا مفھوم وابستہ ہے،شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، انبیائے الھی اور تمام عظیم رہنماؤں نے جو جد و جھد کی ہے اس کا مقصد الھی ولایت کا قیام تھا،امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اللہ کی راہ میں جھاد کے دوران دین کے لئے کئے جانے والی کوششوں کا مقصد بتاتے ہوئے فرمایا ہے: «ليخرج الناس من عبادت العبيد الى عبادت الله و من ولاية العبيد الى ولاية الله»،مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بندوں یا غلاموں کی سرپرستی سے نکال کر اللہ کی سرپرستی میں داخل کیا جائے،تاھم عید غدیر کے معاملے میں یہ بات بھی ہے کہ ولایت و سرپرستی کے مسئلے میں دو اھم و بنیادی دائرے ہيں:
1۔ایک تو خود انسان اور اس کا نفس ہے،یعنی انسان میں یہ صلاحیت ہو کہ وہ الھی ارادے کو اپنے وجود اور اپنے نفس کا فرمانروا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور خود کو اللہ تعالی کی سرپرستی کے دائرے میں داخل کرنے کی اھلیت اس میں موجود ہو،یہ در اصل وہ اولین اور بنیادی قدم ہے کہ جس کو نظر انداز کر دیا گیا،تو دوسرا قدم بھی اٹھانا ممکن نہيں ہوگا۔
2۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ کی سرپرستی کے سائے تلے لے آئے،یعنی سماج اللہ کی ولایت و سرپرستی میں آگے بڑھے اور کسی بھی طرح کی دوسری ولایت اور لگاؤ، مال و دولت، قوم و قبیلے، طاقت، آداب و رسومات اور غلط رسومات سے لگاؤ، اللہ کی ولایت کے راستے کی رکاوٹ نہ بنے اور نہ ہی اللہ کی ولایت و سرپرستی کے سامنے ان چیزوں کو کسی طرح کی اھمیت دی جائے ۔
آج کے دن جس (ہستی) کا تعارف کرایا گیا، یعنی مولائے متقیان حضرت امیر المومنین علیہ السلام، وہ ولایت کے دونوں دائروں اور شعبوں میں ایک مثالی اور منفرد شخصیت ہيں،اپنے نفس پر قابو اور اس پر لگام کسنے کے معاملے میں بھی کہ جو ایک بینادی عنصر ہے اور الھی ولایت کے لئے مثال اور نمونہ عمل پیش کرنے کے معاملے میں بھی انہوں نے تاریخ میں ایسی مثال پیش کی ہے کہ الھی ولایت کی معرفت حاصل کرنے والے ہر شخص کے لئے ان کی کارکردگی،ایک کامل نمونہ عمل بن گئی۔
khamenei.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17