Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183531
Published : 23/9/2016 9:15

غدیر کا تاریخی واقعہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کے فرائض انجام دینے والے مسلمانوں کے اس عظیم کاروان کے کچھ لوگ آگے بڑھ چکے تھے،آنحضرت نے کچھ لوگوں کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا، وہاں ایک عظیم اجتماع عمل میں آ گیا،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نوے ہزار کچھ دیگر کا قول ہے کہ ایک لاکھ اور بعض مورخین نے وہاں جمع ہوئے حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی اور لکھی ہے۔


تاریخ اسلام میں دلچسپی رکھنے والوں کو غدیر(1) کے واقعے کے بارے میں یہ جان لینا چاہئے کہ غدیر کا واقعہ،ایک مسلم الثبوت واقعہ ہے اور اس میں کسی بھی طرح کا شک و شبھہ نہيں ہے،اس واقعے کو صرف شیعوں نے نقل نہيں کیا ہے بلکہ سنی محدثین نے بھی،چاہے وہ ماضی بعید سے تعلق رکھتے ہوں یا وسطی دور سے یا پھر اس کے بعد کے ادوار سے، ان سب نے اس واقعے کو نقل کیا ہے،یعنی اسی واقعے کو نقل کیا ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری حج(2) کے موقع پر غدیر خم میں رونما ہوا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کے فرائض انجام دینے والے مسلمانوں کے اس عظیم کاروان کے کچھ لوگ آگے بڑھ چکے تھے،آنحضرت نے کچھ لوگوں کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا، وہاں ایک عظیم اجتماع عمل میں آ گیا،کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نوے ہزار کچھ دیگر کا قول ہے کہ ایک لاکھ اور بعض مورخین نے وہاں جمع ہوئے حاجیوں کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار بتائی اور لکھی ہے۔
اس تپتے صحراء میں عرب کے وہ باشندے بھی جن میں بہت سے صحراء کی گرمی کے عادی تھی،تمازت آفتاب کے باعث ریت پر کھڑے نہیں ہو پا رہے تھے،اسی لئے انہوں نے اپنے پیروں کے نیچے اپنی عبائيں بچھا لیں تاکہ زمین پر پیر رکھنا ممکن ہو سکے ــ چنانچہ اس بات کا ذکر اھل سنت کی کتابوں میں بھی کیا گیا ہےــ ایسے عالم میں، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی جگہ سے اٹھے،امیر المومنین علیہ السلام کو اٹھایا اور لوگوں کے سامنے ہاتھوں پر اٹھاکر کہا: «من كنت مولاه فهذا على مولاه، اللهم وال من والاه و عاد من عاداه»، البتہ اس سے پہلے اور بعد میں بھی آنحضرت نے کچھ باتيں ارشاد فرمائیں تاہم سب سے اھم حصہ یہی ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس حصے میں،ولایت کے مسئلے کو، یعنی اسلامی حکومت کے مسئلے کو باضابطہ اور واضح طور پر پیش کر رہے ہيں اور امیر المومنین علیہ السلام کو اس کی اھلیت رکھنے والے شخص کی شکل میں متعارف کرا رہے ہيں ــ۔ اسے برادران اھل سنت نے بھی اپنی معتبر کتابوں میں،ایک دو کتابوں میں نہيں،بلکہ دسیوں کتابوں میں نقل کیا ہے ـــ مرحوم علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں ان سب کا ذکر کیا ہے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگوں نے اس سلسلے میں بے شمار کتابیں تحریر کی ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
نوٹ:
1۔ غدیر خم مکہ و مدینہ کے درمیان واقع ایک مقام ہے جہا‎ں سے حجاج کرام کا گذر ہوتا ہے،اس مقام پر چونکہ ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس میں بارش کا پانی جمع ہو جاتا تھا اس لئے اسے غدیر خم کہا جانے لگا،خم کے معنی تالاب کے ہیں،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حجة الوداع سے واپسی کے موقع پر تمام حاجیوں کو اسی مقام پر جمع کیا اور حضرت علی ابن ابی طالب علیهما السلام کو اللہ کے حکم کے مطابق اپنے وصی و جانشین کی حیثیت سے متعارف کروایا، اس موقع پر پیغمبر اسلام نے جو خطبہ دیا اس کا ایک جملہ«من کنت مولاہ فعلی مولاہ»، شیعہ سنی دونوں کی نظر میں معتبر ہے۔
2۔ اپنی زندگی کے آخری سال دسویں ھجری قمری کے ذیقعدہ مھینے کا آغاز ہوتے ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمام مسلم نشین علاقوں اور عرب کے تمام مسلمان قبائل کو یہ اطلاع باھم پھونچائی کہ سرکار دو عالم(ص)،اس مھینے میں مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں گے اور فریضہ حج ادا کریں گے،نتیجے میں مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع عمل میں آیا،اور چونکہ یہ سرکار ختمی مرتبت(ص)کا آخری حج تھا،اسی وجہ سے،اس حج کو حجة الوداع کا نام دیا گيا۔
khamenei.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20