Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183533
Published : 23/9/2016 10:7

من لا یحضرہ الفقیه عالم شیعیت کا دوسرا سب سے معتبر علمی سرمایہ ہے

من لا یحضرہ الفقیه کو اصول اربعة مئة میں موجود معتبر روایات اور تین سو سے زائد روایان سے روایت کیا گيا ہے۔


من لایحضرہ الفقیه،اہل تشیع کی کتب احادیث میں سے ایک اہم بنیادی حدیث کی کتاب ہے،اسے ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی ــ کہ جو شیخ صدوق کے لقب سے مشہور ہیں ـــ(306  تا 381 ہجری) نے ترتیب دیا، شیخ صدوق کا چوتھی صدی میں ایران، خراسان، عراق اورشام کے بہترین علماء میں شمار ہوتا تھا،اس کتاب کو اصول اربعة مئة میں موجود معتبر روایات اور تین سو سے زائد روایان سے روایت کیا گيا ہے،اس کتاب میں تقریبا چھ ہزار احادیث مسائل اور فقھی مباحث کے متعلق موجود ہیں، یہ کتاب بھی کتاب کافی کی طرح اپنی تألیف کے زمانہ سے لے کر آج تک شعیہ علماء کے نزدیک مستند رہی ہے اور شروع سے ہی اس کی شروحات لکھی جاتی رہی ہیں،اور اسے درس و تدریس کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، یہ وہ عظیم علمی سرمایہ ہے کہ  جس کے سبب علمائے اہل سنت بھی شیخ صدوق(رح) کو نہایت ہی احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22