Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183542
Published : 24/9/2016 18:56

شیعہ مسلک کو جعفری مسلک کہنے کی اصل وجہ

امامت ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اور اسلام شناسی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، امام خمینی)رح( فرمایا کرتے تھے کس کو حق پہونچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسلام شناس کہے ؟ کون شخص اسلام شناسی پر قادر ہے اور خود کو اسلام شناس کہہ سکتا ہے ؟ اس لئے کہ اسلام کے اندر اس قدر وسیع اور عمیق پہلو ہیں کہ اگر معمولی انسان اسلام کو پہچاننا چاہیں تو کسی ایک پہلو کو اور وہ بھی بطور ناقص پہچاننے پر قادر ہوں گے۔


ولایت پورٹل:خلافت بنی امیہ کے خاتمے اور بنی عباس کی خلافت کے آغاز میں جو علمی ماحول وجود میں آیا ایسے دور میں جو بھی معصوم امام بقید حیات ہوتے گمنام نہیں رہ پاتے اسلئے اس ماحول میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  کاامت اسلامی میں ایک بے نظیر شخصیت بن کر ابھرنا  ایک فطری امر ہے  اور مسلک  امامیہ تاریخ کے اس دور سے لے کے آج تک جعفری کہلائے جبکہ مسلک جعفریہ وہی مسلک محمدیہ، علویہ،حسنیہ،حسینیہ،سجادیہ،باقریہ اورجعفریہ ہے، اس لئے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  مسلک امامیہ کی نظر میں پیغمبر  آخر زمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور آپ سے پہلے اور بعد کے آئمہ کے نمائندے کے عنوان سے پہچانے گئے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں بے شمار مکاتب و مسالک وجود میں آئے اور شیعہ امامیہ مسلمانوں کو جعفری نام سے شہرت حاصل ہوگئی اور اس دور میں جب بنی عباس کے خلفاء اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی وارث اور جانشین ثابت کرنے میں اہلبیت کی حاکمیت کا دم بھرتے تھے ایسے دور میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی جانشینی اور وراثت کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے اور اس تحریک میں شامل لوگ جعفری کہلائے۔
مکتب امامیہ کا نام مکتب جعفر یہ رکھنے کی دو دلیلیں:
1۔تاریخی پہلو:شیعوں کو جعفری کہے جانے کی ایک تاریخی وجہ ہے اور ایک وجہ مافوق تاریخ ہے اس کی تاریخی وجہ کا تعلق جس زمانے میں حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام موجود تھے۔ اس دور کے اسلامی معاشرے کی ثقافتی اور اجتماعی حالت سے اس کا تعلق ہے ۔امام جعفر صادق  علیہ السلام کے زمانے میں بنی امیہ کی خلافت کا خاتمہ ہوا اور بنی عباس کی خلافت کا سلسلہ شروع ہوا اور اس سیاسی محاذ آرائی کے بیچ  ایک کھلی علمی فضا وجود میں آئي جس نے اسلامی معاشرے میں مختلف مسالک کو  جنم دیا اور مختلف راستے اور مسلک ایجاد ہوئے،حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام114 ھجری میں پیغمبر آخرزمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچویں وصی اور شیعوں کے پانچویں امام حضرت محمد بن علی باقر علیہ السلام کی شھادت کے ساتھ ہی امامت اور قیادت آنحضرت کی طرف  منتقل ہوئی اور 132 ھجری کو بنی امیہ کی خلافت کا خاتمہ ہوا یعنی اس دوران، امام علیہ السلام نے 5 اموی خلیفاؤں کا دور دیکھا اور بنی عباس کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ساتھ ، 2 بنی عباسی خلیفوں کا دور دیکھا اور اس دور میں جب شیعہ امامیہ کا ذکر ہوتا تھا تو ان کو انکے قائد اور امام کے نام سے پکارا جاتا تھا،حضرت امام صادق علیہ السلام کے پاس ہر علمی شعبے میں کہنے کے لئے بہت کچھ تھا ہر اشکال کا جواب آپ کے پاس تھا اور مختلف جہات میں امت اسلامی کے درمیان سب سے اچھا موقف حضرت جعفر ابن محمد الصادق علیھما السلام کا ہوتا تھا کیونکہ امام معصوم پیغمبر آخر زمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کا وارث اور زمین پر خدا کی حجت  اور محدث ہوتے ہیں،یہاں حدیث کے حوالے سے تھوڑی وضاحت کرتے چلیں کہ اھل تشیّع کے نزدیک سنت اور حدیث وہی سنت اور حدیث ہے جو کہ اہل تسنّن کے درمیان ہے اورفریقین کااس سے مراد«وہ الفاظ اور مطالب ہیں جوکہ پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ہوئے ہوں اور علوم و معارف الھی کے عنوان سے مقام بیان میں القاء ہوئے ہیں»،اور یہ تھمت کہ شیعہ امامیہ اور فرقہ جعفریہ کے نزدیک اسکا دوسرامعنی ہے، یہ توھم کہ انکا عقیدہ ہے کہ ائمہ معصومین علیھم اسلام،خود ہی خود حضرت حق سے مطالب حاصل کرتے ہیں اور لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں باطل ہے،بلکہ عالم تشیّع اور امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ احکام الھی اور معارف دینی از جملہ اصول و فروع وغیرہ جو کہ معصومین  علیہم السلام سے صادر ہوتے ہیں وہ سب بعنوان نقل سنت پیغمبر اسلام اور آنحضرت سے دریافت شدہ معارف ہیں،جیسے کہ ھشام بن سالم اور حماد وغیرہ،وہ لوگ کہتے ہیں:«سمعناابا عبداﷲ(ع)یقول: حدثنی ابی و حدیث ابی حدیثُ جَدّی و حدیث جَدّی حدیث الحسین و حدیث الحسین حدیث الحسن و حدیث الحسن حدیث امیر المؤمنین و حدیث امیر المؤمنین حدیث رسول ﷲ و حدیث رسول اﷲ قول اﷲ عزوجلّ»(1) اور جابر انصاری سے بھی نقل ہے کہ کہا:«قلتُ لابی جعفر(‏ع) اذا حدثتنی بِحدیثٍ فاسندہ لی،فقال: حدّثنی ابی عن جدّی عن رسول اﷲ عن جبرئیل عن ﷲ تبارک و تعالی و کلّ ما اُحدّثکَ بھذا الاسناد»(2)،(امام باقر سے عرض کی جب آپ میرے لئے حدیث نقل کرتے ہیں ،اسکے راویوں کے سلسلے کو بھی میرے لئے نقل کیجئے۔پھر حضرت نے فرمایا:میرے لئے میرے والد نے حدیث نقل کیا ،میرے والد نے میرے دادا سے، میرے دادا نے رسول خدا سے،رسول خدا نے جبرئیل سے، جبرئیل نے خداوند تبارک و تعالی سے؛جو کچھ بھی تمہارے لئے حدیث نقل کروں ،اسی سند سے ہے)،غرض خلافت بنی امیہ کے خاتمے اور بنی عباس کی خلافت کے آغاز میں جو علمی ماحول وجود میں آیا ایسے دور میں جو بھی معصوم امام بقید حیات ہوتے گمنام نہیں رہ پاتے اسلئے اس ماحول میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  کا امت اسلامی میں ایک بے نظیر شخصیت بن کر ابھرنا  ایک فطری امر ہے  اور مسلک  امامیہ تاریخ کے اس دور سے لے کے آج تک جعفری کہلائے جبکہ مسلک جعفریہ وہی مسلک محمدیہ، علویہ، حسنیہ، حسینیہ،سجادیہ، باقریہ اورجعفریہ ہے،اس لئے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  مسلک امامیہ کی نظر میں پیغمبر  آخر زمان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور آپ سے پہلے اور بعد کے آئمہ کے نمائندے کے عنوان سے پہچانے گئے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں بے شمار مکاتب و مسالک وجود میں آئے اور شیعہ امامیہ مسلمانوں کو جعفری نام سے شھرت حاصل ہوگئی اور اس دور میں جب بنی عباس کے خلفاء اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی وارث اور جانشین ثابت کرنے میں اھلبیت کی حاکمیت کا دم بھرتے تھے ایسے دور میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی جانشینی اور وراثت کی حفاظت کرنے میں کامیاب رہے اور اس تحریک میں شامل لوگ جعفری کہلائے اور یہ تھی اس کا نام رکھے جانے کی تاریخی وجہ.
اسلام کی شناخت میں پیچیدگی اور دشواری:

امامت ایک  اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسلام اور اسلام شناسی کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے، امام خمینی)رح( فرمایا کرتے تھے کس کو حق پہونچتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسلام شناس کہے ؟ کون شخص اسلام شناسی پر قادر ہے اور خود کو اسلام شناس کہہ سکتا ہے ؟ اس لئے کہ اسلام کے اندر اس قدر وسیع اور عمیق پہلو ہیں کہ اگر معمولی انسان اسلام کو پہچاننا چاہیں تو کسی ایک پہلو کو اور وہ بھی بطور ناقص پہچاننے پر قادر ہوں گے اس کو اسلام شناسی نہیں کہا جاسکتا آپ فرماتے تھے:اگر کوئی فقہ میں استادانہ محارت رکھتا ہو تو آیا اس کو اسلام شناس کہا جا سکتا ہے ؟ اگر کوئی علم عرفان اور اخلاق میں نامور اور ممتاز ہو تو کیا اس کو اسلام شناس کہہ سکتے ہیں ؟ یہاں تک کہ اگر کوئی حکمت اور فلسفہ میں مکمل طور پر فلسفی اور مکمل طور پر عارف ہو تو کیا اس کو اسلام شناس کہا جا سکتا ہے،اگر کوئی شخص تاریخ میں یا علوم ادبی وغیرہ میں نامور ہو اور صاحب نظر ہو مستند اور متقند تالیفات رکھتا ہو تو کیا اس کو اسلام  شناس کہہ سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہماری اسلام شناسی کسی ایک شعبے میں کسی ایک علم میں یا کسی ایک فن میں محدود ہو تو حقیقت میں ہم نے اسلا م کو نہیں پہچانا ہے ،اسلام شناس وہ ہے کہ جس نے اسلام کی ماہیت کو پہچانا ہو  اور اسلام کی ماہیت ایک ایسا آئین ہے کہ جو تمام پہلو وں تمام شعبوں اور عقلی اور نقلی علوم اور اسی طرح ظاہری اور باطنی علوم اور شخصی اور اجتماعی مسائل پر مشتمل ہے اور ایسے شخص کو اسلام شناس کے عنوان سے جانا اور پہچنوایا جا سکتا ہے ۔
مسئلہ امامت پر امت اسلامی کے متوجہ ہونے کی ضرورت:
حقیقت میں امامت کا مسئلہ کہ جو اسلام کے ارکان او ر اصول میں سے ہے اس کے بارے میں اس کے شایان شان بحث نہیں کی گئی ہے البتہ ہمارے علماء اور ماہرین کلام نےقدیم زمانے سے ہی کلام کی اور کلام کے جیسی کتابو میں اس مسئلے کو چھیڑا ہے لیکن امامت کہ جو مسلک امامیہ کی امتیازی فصل ہے دوسروں کے مقابلے میں وہ ایک انتہائی وسیع گوہر اور حقیقت ہے نمونے کے طور پر ہمارے اور اہلسنت کے درمیان ایک عقیدتی اختلافی محور یہ ہے کہ آیا امامت ایک اجتما عی مسئلہ ہے یا اجتماع کے اوپر کی چیز ہے متکلمین اھل سنت امامت کو ایک اجتماعی مسئلہ سمجھتے ہں لہذا ان کے عقیدے کے مطابق امام کا تعین معاشرے اور سماج کو کرنا چاہئے ۔
اھلسنت کہتے ہیں امامت لوگوں کی ذمہ داری ہے اس کا مطلب یہ ہوا یہ حقیقت میں ایک حقوقی اور فقہی مسئلہ ہے خود لوگوں کو اکٹھا ہونا چاہیے اور یہ ان کی ذمہ داری ہے پس یہ اصول دین میں سے نہیں ہے بلکہ فقہ کی ایک شاخ ہے جب کہ مسلک امامیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ امامت صرف اجتماعی مسئلہ نہیں ہے یہ سچ ہے کہ امام کو اجتماع میں ہونا چاہیے اور اس کے اندر معاشرے کو چلانے کا ہنر ہونا چاہیے اور وہ اچھے طریقے سے معاشرے کو چلائے اور اس کی تربیت کرے لیکن اہم چیز یہ ہے کہ امامت صرف دنیاوی امور میں ریاست کا نام نہیں ہے اسی لئے امامت اور امام کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ یہ دین و دنیا دونوں کو شامل ایک ریاست عامہ ہے صرف دنیا کے لئے نہیں ہے کہ جو اہل سنت کا عقیدہ ہے بلکہ اس کے اندر ایک دینی ریاست بھی ہے کہ جو اولویت رکھتی ہے اور دنیاوی ریاست پر مقدم ہے البتہ یہ ایک مفصل بحث ہے اور کلام کی کتابوں میں اور کلامی مناظروں میں اس بحث کو چھیڑا گیا ہے۔ اہل سنت کہتے ہیں کہ امامت ایک فقہی اور عوامی مسئلہ ہے اور شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ امامت اجتماعی ذمہ داری سے مافوق مسئلے کا نام ہے جو صرف ایک الہی اور دینی امر ہے یعنی اس سے پہلے کہ امام کا لوگوں سے کوئی سروکار ہو اس کا سروکار دین کی تبلیغ اور دین کی تشریع سے ہے ۔دین کی تبیین بہت اہمیت والا مسئلہ ہے اور اس کا کردار بنیادی ہے اور یہ عمدہ مسائل اور فیصلہ کن بحثوں میں سے ہے ۔
2۔ بے عیب اسلام کی تشریح میں امام  جعفرصادق علیہ السلام کا امتیاز
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے زمانے میں امت اسلامی کی ایک بے نظیر شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے جو شخص ان کی طرف منصوب ہوتا تھا اسے جعفری کہتے تھے اور جعفری اس گروہ  کو اس بنا پر کہا گیا کہ جعفری ہو نا ایک مکتبی ، مذھبی اور دینی پہچان ہے اس لیے کہ اسلام کی ایک حقیقت کاملہ اور جامعہ ہے اور عام آدمیوں سے کوئی بھی اس کو جیسا کہ وہ ہے اس طرح نہیں پہچان سکتا مگر یہ کہ وہ شناخت معصومین علیھم السلام کے علوم کے سائے اور دامن  تربیت میں رہ کر حاصل ہو لہذا جب کسی کو جعفری کہتے تھے  تو یہ  قرآنی  واقعی امام اور امامت کی جانب اشارہ ہے۔
معصومین(ع) کے درمیان امام صادق
(ع)کی عظمت اور منزلت:
تمام سیرت نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام کی کچھ انفرادی اور ذاتی خصوصیات تھیں کہ جو دوسروں کے اندر نہیں تھیں معاشرے کی ثقافتی فضا کے ہموار ہوجانے کے بعد آپ کی کوشش رہی کہ زمانی اور مکانی موقعیتوں کے پیش نظر بعض ابہامات کو واضح کریں اور دوسرے لفظوں میں اسلام کو جس حد تک ممکن تھا درس کی کلاسوں کے قالب میں نیجی گفتگو کے دوران اور عمومی اور خصوصی نشستوں میں بیان کریں ۔
 اگر روایات اور تاریخ کی کتابوں میں دقتوں کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم  ہوگا کہ آپ نے امت اسلامی کے درمیان ایک طرح کی بزرگی عظمت او ر ابوہت پیدا کرلی تھی کہ پوری تاریخ میں شاید اس کی کوئی مثال نہ ملے  البتہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بات الاگ ہے لیکن اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کے حالات کو بھی نظر میں رکھیں تب بھی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا جو ملکوتی جلوہ ہونا چاہئے تھا وہ نظر نہیں آتا ہے اس لئے کہ اس وقت تک لوگ اسلام کی ابتدائی کلاس میں تھے لیکن امام صادق علیہ السلام  کے زمانے میں تاریخ کے تقریبا ایک سو تیس سال گذر چکے تھے اور لوگ اسلام اور قرآن کے مختلف پہلووں سے آشنا ہو چکے تھے اور ان کی کافی حد تک اہمیت کے قائل تھے اور ایسی ہی فضا میں وہ پروان چڑھے تھے امام جعفر صادق علیہ السلام نے وہ ابوہت اور عظمت پیدا کی تھی وہ اپنی مثال آپ ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں آپ کی منزلت کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم ایک اجمالی نگاہ مختلف گروہوں ، مذاہب و مسالک کے ساتھ حضرت کے مناظرات پر ڈالیں کہ جن میں سے کچھ مناظرے «بحار الانوار» اور دیگر کتابوں میں منجملہ مرحوم شیخ مفید کی ارشاد میں ذکر ہوئے ہیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت اور زندگی اسلامی اور انسانی سماج کے لئے نمونہ عمل
ضرورت اس بات کی ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کو دوسرے تمام آئمہ معصومین علیہم السلام کی طرح نمونہ عمل قرار دیں اور جو ہم ان کو امام مانتے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے اور نمونہ قرار دینے کے لئے پہچان اور شناخت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہم اس مثال اور نمونے کے قریب ہوں اور ہماری شناخت بھی ایک ابتدائی شناخت کی حد تک نہیں ہونا چاہئے ۔اگر ہم سچے شیعہ اور رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی پیرو بننا چاہتے ہیں تو جتنا اہتمام ہم نماز کے لئے کرتے ہیں اتنا ہی اہتمام ہمیں معرفت امام کے لئے بھی کرنا چاہئے اگر امامت ہمارے اصول دین کا  جز ہے تو جس طرح توحید میں ہمیں توحید کو پہچاننا چاہئے اور جو چیز معرفت ربوبی سے متعلق ہے اس کو جاننا چاہئے اسی حساب سے امامت ایک رکن ہے اور اس افتخار کے ساتھ کہ ہم ایک امامیہ امت رکھتے ہیں اور اہلبیت کو اپنا مقتد،ا رہبر اور پیشوا مانتے ہیں کہ جو افتخار ہم نہیں ہیں لیکن بد قسمتی سے ان کے پہچاننے میں کوتاہی ہوئی ہے اب اس کے اسباب اور وجوہات جو بھی ہوں وہ اپنی جگہ پر لیکن ہمیں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ امامت کے بارے میں ہماری شناخت صرف شجرہ نامی کی حد تک نہیں ہونا چاہیے البتہ اس حد تک ہماری معرفت کہ ہم مسئلے کے تاریخی پہلوں کو جانتے ہوں ضروری ہے لیکن کافی نہیں ہے۔
--------------------------------------------------------------------------------
حوالہ جات:

۱۔الکافی:۱۴/۵۳/۱ ؛ وسائل الشیعہ: ابواب القضاء، ب ۸ ح۲۶ .
۲۔امالی المفید:۱۰/۴۲ ؛ حلیة الابرار:۹۵/۲ ؛الخرائج و الجرائح:۸۹۳/۲ ؛البحار:۲۱/۱۴۸/۲.
noornews.com

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20