Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183544
Published : 24/9/2016 20:1

سعودی حکومت کے جنگی جرائم اور اقوام متحدہ کا کردار

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان ”سیسیل بوئی” نے کہا ہے کہ یمن کے خلاف سعودی عرب کی جنگ میں چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے بائیس ستمبر دوہزار سولہ تک مرنے والوں کی تعداد تین ہزار آٹھ سو نوے سے زیادہ ہے جبکہ چھ ہزار نو سو نو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔


سیسیل بوئی نے ایسی حالت میں ان اعداد وشمار کا اعلان کیا ہے کہ یمنی ذرائع نے یمن میں شھید ہونے والے عام شھریوں کی تعداد تقریبا آٹھ ہزار اور زخمیوں کی تعداد بھی تقریبا تیس ہزار کے قریب بتائی ہے۔
اقوام متحدہ اور یمنی ذرائع کے اعداد وشمار میں جو بہت بڑا اختلاف موجود ہے اس سے قطع نظر، اقوام متحدہ کے ان ہی اعداد وشمار کو بھی  اگر بنیاد بنایا جائے تو سعودی عرب  جنگی جرائم، امن و سلامتی کے خلاف جرائم  اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کشمنر برائے انسانی حقوق کے ترجمان کے اس اعتراف کے باوجود،اس عالمی ادارے نے اب تک یمن میں سعودی عرب کے جرائم کے بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا ہے،ایک اہم قدم جو اب تک اقوام متحدہ نے اٹھایا  وہ یمن میں بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فھرست میں سعودی عرب کا نام شامل کیا جانا تھا تاہم آل سعود اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے دھمکیاں دیئے جانے کے بعد سعودی عرب کا نام اس فھرست سے نکال دیا گیا۔
اقوام متحدہ  سعودی عرب کے خلاف جو اہم قدم اٹھا سکتا ہے وہ  یہ ہے کہ یمن کے مظلوم اور نہتےعوام کے خلاف وحشیانہ مظالم  اور جنگی جرائم کے سبب بین الاقوامی فوجداری عدالت میں آل سعود کے خلاف مقدمہ دائر کرے، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور کے مطابق جنگی جرائم،امن و سلامتی کے خلاف جرائم  اور انسانیت کے خلاف جرائم، حکام سے عدالتی استثنائات اور تحفظات سلب ہونے کا سبب بنتے ہیں۔
اس امر کے پیش نظر کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور پر دستخط نہیں کئے ہیں،یہ اقدام بھی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور یا سلامتی کونسل کے توسط سے انجام پانا چاہئے،لیکن جب اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری سعودی عرب کا نام بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فھرست میں شامل نہیں کرسکے تو پھر اس کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ آل سعود کے جرائم کا کیس بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھیج سکیں گے۔
اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے توسط سے بھی یہ کام انجام پانا بعید معلوم ہوتا ہے کیوں کہ اس کونسل کے بعض مستقل ممبر ممالک خاص طور پر امریکہ یمن کے خلاف جنگ کے حامیوں میں ہے۔
ان تمام صورتحال کے پیش نظر ہی یمن کی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے سوشل نیٹ ورک فیس بک پر یمن کے خلاف سعودی جارحیت پر اقوام متحدہ کی خاموشی کو انتہائی قابل مذمت فعل قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن پر سعودی بمباری اور جارحیت پر اقوام متحدہ کی خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ادارہ دنیا کی قوموں پر ایک بوجھ  بن گیا ہے اور عالمی قوانین کے تحفظ کے نام پر قوموں کو نابود کرنے پر تلا ہوا ہے۔
حققیت یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے توسط سے بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب بڑی طاقتوں کی اجارہ داری اس پر ختم ہوجائے۔
shafaqna.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20