Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183551
Published : 26/9/2016 16:24

مغربی اتر پردیش کے علماء نے کی مولاناجابر جوراسی کی قدردانی

پہلی نشست کے صدر مولانا سرکار حیدر عابدی نے اپنی تقریر میں جدید اخباریت کو جہالت کی نئی تصویر اور شیطانی افکار کا نتیجہ کہا انہوں کہا جدید اخباریت کا قدیم اخباریت سے کو ئی رابطہ نہیں ہے انہوں نے جدید اخباریت کو استکباری دنیا اور مغربی ممالک کی پیداوار بتایا.


ولایت پارٹل: 24 ستمبر،نوگانواں سادات ,جامعہ باب العلم میں«عصر غیبت میں مرجعیت کا کردار» کے عنوان سے علمی سیمنار منعقد ہوا جس میں مغربی اترپردیش کے اکثر شیعہ علماء نے شرکت کی پروگرام کی پہلی نشست مولانا سید سرکار حیدرعابدی صاحب نجفی کی صدارت میں قاری مرزا اقرار حسین کی تلاوت سے شروع ہوئی افتتاحی تقریر مولانا ڈاکٹر فیاض حسین،نمائندہ المصطفٰی انٹر نیشنل یونیورسٹی  نے فرمائی جس میں انہوں نے علماء کی خدمات اور ان کے وجود کی ضرورت پر روشنی ڈالی،انہوں نے کہا علماء ہی ہیں جن کے وجود کی وجہ سے آج اسلام زندہ ہے افتتاحی تقریر کے بعد پہلا مقالہ جدید اخباریت کی خصوصیات کے موضوع پرمولانا کوثر مجتبٰیاستاد سید المدارس امروہہ نے پیش کیا انہوں نے اپنے مقالہ میں جدید اخباریت سے ہونے والے نقصانات پر روشنی ڈالی اور کہا اگر علماء نہ ہوں تو احادیث اور قرآن کریم سے انسانوں کا رابطہ ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسانیت گمراہی میں پھنس جائیگی اور غیبت امام میں کوئی ہدایت کرنے والا نہ ہوگا،مولانا حیدرعباس نقوی صاحب نے اپنے بیان میں مولانا جابر جوراسی صاحب کی خدمات پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا اصلاح رسالہ نے ولایت و مرجعیت کا جو دفاع کیا ہے اسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی پہلی نشست کی آخری تقریر مولانا سید نعیم عباس صاحب نے کی انہوں نے اپنے بیان کا آغاز حالات حاضرہ پر روشنی ڈالنے سے کیا انہوں نے کہا عراق وشام کے مقامات مقدسہ اسی وجہ سے محفوظ ہیں کہ ہم سب اپنی مرجعیت اور علماء کی اتباع کررہے ہیں آیت اللہ سیستانی کے فتوے نے عراق کے مقدس مقامات اور  ناموس اسلام کی حفاظت کی اور آیت اللہ خامنہ ای کے راہنما بیانات سبب بنے عراق و شام میں محبان اہل بیت علیھم السلام انسانی دیوار بن کر دھشت گردوں کے مقابل ڈٹے ہوئے ہیں اور اپنے خون میں نہاکر آل رسول(ص) کے روضوں کی حفاظت کررہے ہیں،پہلی نشست کے بعد مولانا جابر جوراسی صاحب کی گل پوشی کی گئی اور تقریبا پچاس سے زیادہ علماء مغربی اترپردیش کا دستخط شدہ سپاس نامہ پیش کیا۔
گیاپروگرام میں ممتاز مقالات کا مجموعہ بھی حاضرین کے درمیان تقسیم کیا گیا دوسری نشست ۴ بجے بعد از ظہر مولانا محمد علی محسن تقوی امام جمعہ کشمیری گیٹ دہلی کی صدارت میں شروع ہوئی جس میں مولانا پیغمبر نوگانوی نے «جدید اخباریت کا محاذ» کے عنوان سے مقالہ پیش کیا انہوں نے کہا جدید اخباریت صرف کسی خاص پہلو سے اسلام کے لئے نقصان نہیں پہنچارہی بلکہ اس نئی بدعت کے ہر پہلو میں اسلام دشمنی اور اس کو خراب کرنے کے ناپاک عزائم پائے جاتے ہیں انہوں کہا کہ جدید اخباریت کی وجہ سے نہ جانے کتنے لوگ راہ ہدایت پر آتے آتے رک گئے لہٰذا ء علماء کو ان کا علمی مقابلہ کرنا چاہیے مقالہ کے بعد مولانا افضال حسین نائب مدیر جامعہ باب العلم نے حدیث معصوم علیہ السلام کہ جو بھی علماء میں سے اپنے نفس کو خواہشات سے بچانے والا اور خدا کے دین پر عمل کرنے والافقیہ ہو تو عوام کو اس کی تقلید کرنی چاہئے انہوں نے علماء کی سادہ زیستی پر روشنی ڈالی اور کہا ہمارے علماء نے کتنی شہادتیں اور قربانیاں  دی ہیں فقروفاقہ میں زندگیاں گزاری ہیں جس کے نتیجہ میں آج یہ دین ہم تک پہنچا ہے،مہمان خصوصی مولانا محمد جابر جوراسی صاحب نے بھی موضوع سے متعلق تقریر فرمائی اورعلماء سے گزارش کی کہ اسلام اور شیعیت کے خلاف اٹھنے والی باطل تحریکوں کو مٹانے کے لئے متحد و کمر بستہ ہوجائیں انہوں نے میزبانوں کا شکریہ ادا کیا پہلی نشست کے صدر مولانا سرکار حیدر عابدی نے اپنی تقریر میں جدید اخباریت کو جہالت کی نئی تصویر اور شیطانی افکار کا نتیجہ کہا انہوں کہا جدید اخباریت کا قدیم اخباریت سے کو ئی رابطہ نہیں ہے انہوں نے جدید اخباریت کو استکباری دنیا اور مغربی ممالک کی پیداوار بتایاصدارتی خطبہ مولانا محسن تقوی صاحب نے پیش کیا انہوں نے عزاداری اور مرجعیت کے خلاف ہونے والی سازشوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا دشمن ہر اس چیز کو نشانہ بنارہا ہے جس میں بھی اتحاد کا پہلو شامل ہے یا جس سے قوم کی قوت و طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہو لہذا قوم کو متحد ہوکر مقابلہ کرنا چاہئے علماء پر علمی مقابلہ کی ذمہ داری ہے اور عوام کو چاہئے کہ اس طرح کے فاسد العقیدہ اور فاسد العمل افرادسے کنارہ کشی اختیارکرکے انہیں کمزور کریں۔
پروگرام کی نظامت مولانا محمد عابد زیدی مظفرنگری نے انجام دی علماء میں مولانا سید مسرور عباس عابدی امام جمعہ نوگانواں سادات،مولانا قرة العین صاحب،مدیر جامعۃ المنتظر،مولانا صراط مجتبٰی صاحب،جامعہ عالیہ جعفریہ، مولانا محمد مسلم صاحب ،پرنسپل مدرسہ باب العلم ،مولانا سروش نقوی صاحب مدیر مجلہ سلونی،مولانا دبیر حسنین صاحب ،مولانا علی رضا  زیدی ،کے علاوہ ضلع امروہہ کے چاروں شیعہ مدرسوں کے علماء آئمہ جماعت  اور طلاب موجود تھے پروگرام نماز مغرب سے قبل اختتام پذیر ہوا پروگرام کے آخر میں مولانا پیغمبر نوگانوی،مولانا سیدکوثر مجتبٰی صاحب کو مقابلہ مقالہ نویسی میں ممتاز مقام حاصل کرنے پر حضوراً اورمولانا حسنین باقری صاحب اور مولانا غافر حسین صاحب کو غیاباً علماء کی موجودگی میں اسناد پیش کی گئیں،آخر میں مولانا مرزا سردار حسن سانکھنوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔












آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14