Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183554
Published : 26/9/2016 17:3

ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا

امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ اگر وہ امریکی صدر بن گئے تووہ متحدہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیں گے۔


ولایت پارٹل:مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ اگر وہ امریکی صدر بن گئے تووہ متحدہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلیں گے،ڈونلڈ ٹرمپ نے مذکورہ ملاقات میں نیتن یاہو سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ اگر وہ امریکی صدر بن گئے تو اسرائیل کو طویل مدتی بنیاد پر «غیرمعمولی» ہمہ جہتی،فنی اور فوجی تعاون بھی فراہم کریں گے،واضح رہے کہ اس وقت بھی امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو اربوں ڈالر کی مالی امداد اور جدید ترین اسلحے کی فراہمی جاری ہے،اور امریکی وسائل سے سب سے زیادہ فیضیاب ہونے والا ملک بھی اسرائیل ہی ہے،مثلاً جدید ترین اور سب سے مہنگا لڑاکا امریکی طیارہ«ایف 22 ریپٹر»اگرچہ صرف امریکی فضائیہ کےلئے بنایا گیا ہے لیکن مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق یہ اسرائیل کو بھی بطور تحفہ،یعنی بلاقیمت دیا جائے گا جبکہ مشہورِ زمانہ ایف 16 لڑاکا طیارے کا جدید ترین ورژن«ایف 16 آئی (F-16I) »بطورِ خاص اسرائیل ہی کےلئے تیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد یروشلم کے مغربی حصے پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا اور 1980 میں اسے «متحدہ اسرائیل»کا دارالحکومت بھی قرار دے ڈالا تھا،لیکن امریکہ سمیت اقوامِ متحدہ کے بیشتر رکن ممالک نے اسرائیل کا یہ فیصلہ آج تک قبول نہیں کیا ہے اور یہ موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ جب تک فلسطین کے ساتھ اسرائیل کے امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے تب تک یروشلم کی حیثیت کا کوئی یک طرفہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
مہر نیوز


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26