Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183557
Published : 26/9/2016 20:52

مباہلہ، نبوت کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا روز ہے

عبدالرحمان بن كثير نے جعفر بن محمد، ان كے والد بزرگوار كے واسطہ سے امام حسن علیہ السلام سے نقل كيا ہے كہ مباہلہ كے موقع پر آيت كے نازل ہونے كے بعد رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفس كى جگہ ميرے والد كو ليا،ابنائنا ميں مجھے اور میرے بھائی كو ليا،نساءنا ميں ميرى والدہ فاطمہ علیھا السلام كو ليا اور اس كے علاوہ كائنات ميں كسى كو ان الفاظ كا مصداق قرار نہیں ديا۔


ولایت پارٹل:رسول خدا حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجاز اور یمن کے درمیاں نجران نامی علاقےمیں مقیم عیسائیوں کو24 ذی الحجہ 9 ھجری کو،اللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دی جسے مباہلہ کہتے ہیں،اور اس دن توحیدی عقیدے کا مشرکانہ عقیدے کا آمنا سامنا ہونا تھا ایک دوسرے کے عقیدے کے بارے میں خدا سے غضب کی دعا کرنی تھی اور توحیدی قافلے کو دیکھ کرہی مشرکوں نےدبے الفاظ میں اپنی شکست کا اعلان کیا،اسطرح عقائد کا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل کا لا علمی وبے عملی پر غلبہ ہوا،اسی تاریخی واقعہ کی یاد میں اہل  ایمان عید مناتے ہیں،کیونکہ اس کامیابی پر اللہ نے ایک آیت نازل فرمائی ہے،آیئے اس نورنی دن کے تاریخی منظر پر طائرانہ  نظرکرکے اپنے اذہان و قلوب کو شعاع ایمان سے منور و روشن کرتے ہیں۔
آغاز اسلام میں نجران ہی وہ واحد علاقہ تھا جس میں عیسائی رہا كرتے تھے جنہوں نے بت پرستی چھوڑ كر عیسائیت اختیار كرلی تھی،جس وقت پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام حكومتی مراكز اور مذھبی رؤساء كو خط بھیج كر اسلام كی دعوت دی تو ایک خط نجران كے عیسائی رھنما پاپ كو بھی تحریر كیا جس میں انھیں اسلام كی دعوت دی،پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  كے نمائندوں نے یہ خط پاپ كے حوالے كیا جس کی تحریر کچھ یوں تھی:
شروع كرتا ہوں خدائے ابراھیم و یعقوب و اسحاق علیھم السلام كے نام سے،اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد كی جانب سے نجران كے پاپ كے نام، میں ابراھیم و اسحاق و یعقوب علیھم السلام كے خدا كی تعریف بجا لاتا ہوں اور تمھیں بندوں كی پرستش ترك كركے خدا كی عبادت كرنے كی دعوت دیتا ہوں،تمہیں اس بات كی دعوت دیتا ہوں كہ بندوں كی ولایت سے نكل كر خدا كی ولایت میں داخل ہو جاؤ اور اگر تمہیں ہماری دعوت منظور نہیں ہے تو جزیہ دو ورنہ تمھارا انجام اچھا نہیں ہوگا۔
پاپ نے خط پڑھنے كے بعد تمام مذھبی اور غیر مذھبی شخصیات كو مشورے كے لئے طلب كیا،شرجیل جو مشاوروں میں سے تھا اور عقل و درایت میں بہت ہی معروف تھا اس نے مشورہ دیا كہ ہم نے بارہا اپنے راھنماؤں سے یہ سنا ہے كہ ایك دن منصب نبوت جناب اسحاق كی نسل سے نكل كر حضرت اسماعیل كی اولاد میں منتقل ہو جائے گا، بعید نہیں ہے كہ محمد(ص) اسماعیل ہی كے فرزندوں میں سے ہوں اور یہ وہی پیغمبر ہوں جن كی بشارت ہمیں دی گئی ہے۔
شرجیل كے مشورے كے بعد اس كمیٹی نے فیصلہ كیا كہ كچھ لوگوں كو نجران كا نمائندہ بنا كر مدینہ بھیجا جائے تاكہ وہ لوگ اس پیغمبر(ص) کی حقانیت كی تحقیق كریں، چنانچہ نجران كے حاكم ابو حارثہ بن علقمہ كی كاركردگی میں ساٹھ افراد پر مشتمل ایک گروہ مدینہ روانہ كیا گیا،اس گروہ كے ساتھ عبدالمسیح و ایھم نامی دو مذھبی رھنما بھی تھے،نجران کا یہ قافلہ بڑی شان و شوکت سے فاخرانہ لباس پہنے مدینہ منورہ میں داخل ہوا،جیسے ہی یہ لوگ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تاكہ پیغمبر اكرم(ص) كا نزدیک سے دیدار كر سكیں،پیغمبر اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس گروہ كی یہ حالت دیكھی تو ملاقات كرنے سے انكار كردیا چند روز اسی طرح گزر گئے یہاں تک كہ نجران والے متوجہ ہوئے كہ اس انداز میں پیغمبر سے ملاقات ممكن نہیں ہے لہذا سادہ لباس زیب تن كر كے پیغمبر اكرم(ص) كی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے بحث و مناظرہ شروع كیا،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كے محكم دلائل كے باوجود عیسائی اپنے مذھب اور اپنے عقائد كی حقانیت پر اڑے رہے۔
یہاں تک کہ پھر سورہ آل عمران کی آیت نازل ہوئی جو آیہ مباہلہ کے نام سے مشہور ہے، جس میں پروردگار نے ارشاد فرمایا:«فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ»، اس آیت میں خداوند عالم اپنے رسول سے مخاطب ہو کر  ارشاد فرماتا ہے،اے  میرے پیغمبر! علم كے آجانے كے بعد جو لوگ تم سے كٹ حجتی كریں ان سے كہہ دو كہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے بیٹوں،اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں كو بلائیں اور پھر خدا كی بارگاہ میں دعا كریں اور جھوٹوں  کے  حق میں اللہ کی لعنت طلب کریں۔
اس پر طے یہ ہوا کہ کل سورج کے طلوع ہونے کے بعد شھر سے باہر (مدینہ کے مشرق میں واقع) صحرا میں ملتے ہیں،یہ خبر سارے شھر میں پھیل گئی،لوگ مباہلہ شروع ہونے سے پہلے ہی اس جگہ پر پہنچ گئے، نجران کے نمایندے آپس میں کہتے تھے کہ اگر آج محمد(ص) اپنے سرداروں اور سپاہیوں کے ساتھ میدان میں حاضر ہوتے ہیں، تو معلوم ہوگا کہ وہ حق پر نہیں ہے اور اگر وہ اپنے عزیزوں کو لے آتے ہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں،سب کی نظریں شھر کے دروازے پر ٹکی ہیں، دور سے مبہم سایہ نظر آنے لگا جس سے ناظرین کی حیرت میں اضافہ ہوا، جو کچھ دیکھ رہے تھے اسکا تصور بھی نہیں کرتے تھے،پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ، ایک ہاتھ سے حسین علیہ السلام کو آغوش میں لئے ہوئے ہیں اور دوسری جانب سے حسن علیہ السلام کا ہاتھ  پکڑ رکھا ہے، آنحضرت کے پیچھے پیچھے انکی دختر گرامی سیدة النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا چل رہی ہیں اور ان سب کے پیچھے آنحضرت کے چچازاد بھائی،حسنین کے بابا اور فاطمہ کے شوہر نامدار علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔
صحرا میں ہمھمے اور ولولے کی صدائیں بلند ہونے لگیں،کوئی کہہ رہا ہے دیکھو، پیغمبر اپنے سب سے پیارے عزیزوں کو لے کر آئے ہیں! دوسرا کہہ رہا ہے کہ چونکہ انہیں اپنے دعوے کی صداقت پر مکمل یقین ہے تبھی تو اپنے چہیتے عزیزوں کو اپنے ہمراہ میدان میں لائے ہیں!ان کے سب سے بڑے پادری نے کہا،میں یہاں ان چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اگر پہاڑ کی طرف اشارہ کریں تو ان پر بھی لرزہ طاری ہو جائے گا اور اگر انہوں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو ہم اسی صحرا میں قہر الھی میں گرفتار ہو جائیں گے اور ہمارا نام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا،دوسرے نے کہا تو پھراس مشکل سے کیسے نجات نصیب ہوگی؟ جواب ملا اس کے ساتھ صلح کریں گے اور کہیں گے کہ ہم جزیہ دیں گے تاکہ آپ ہم سے راضی رہیں اور ایسا ہی کیا گیا،اس طرح حق کی فتح ہوئی اور باطل سرنگوں ہوا،مباہلہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا نام ہے،چونکہ پنجتن پاک علیھم السلام ہی وہ ذوات مقدسہ ہیں جن کے سبب اسلام کو عیسائیت اور اس کے عقیدہ تثلیث پر ابدی فتح نصیب ہوئی۔
عبدالرحمان بن كثير نے جعفر بن محمد، ان كے والد بزرگوار كے واسطہ سے امام حسن علیہ السلام  سے نقل كيا ہے كہ مباہلہ كے موقع پر آيت كے نازل ہونے كے بعد رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نفس كى جگہ ميرے والد بزرگوار كو ليا، ابنائنا ميں مجھے اور میرے چھوٹے بھائی امام حسین كو ليا،نساءنا ميں ميرى والدہ ماجدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا كو ليا اور اس كے علاوہ كائنات ميں كسى كو ان الفاظ كا مصداق قرار نہیں ديا لہذا اہلبيت (علیہم السلام) رسالتمآب(ص) کا گوشت و پوست اور خون و نفس ہيں،ہم ان سے ہيں اور وہ ہم سے ہيں۔
اس واقعے کے بعد آپ(ص) نے فرمايا كہ خدا كى قسم جس نے مجھے نبى بنايا ہے كہ اگر ان لوگوں نے مباہلہ كرليا ہوتا،تو يہ پورا صحرا آگ سے بھر جاتا،اس كے بعد جابر كا بيان ہے كہ انھيں حضرات(ع) كى شان ميں يہ آيت نازل ہوئی ہے،شعب نے جابر كے حوالہ سے نقل كيا ہے كہ«َأَنفُسَنَا»ميں خود رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،اور حضرت على علیہ السلام تھےاور«أَبْنَاءنَا»،ميں حسن و حسين علیھما السلام،جبکہ«نِسَاءنَا»ميں فاطمہ  زہرا سلام اللہ علیہا تھیں۔
زمخشرى نے تبصرہ كيا ہے كہ اس آیت شريفہ ميں ابناء و نساء كو نفس پر مقدم كيا گيا ہے تا كہ ان كى عظيم منزلت اور ان كے بلندترين مرتبہ كى وضاحت كردى جائے اور يہ بتاديا جائے كہ يہ سب نفس پر بھى مقدم ہيں اور ان پر نفس بھى قربان كيا جاسكتا ہے اور اس سے بالاتر اصحاب كساء كى كوئی دوسرى فضيلت نہيں ہوسكتى ہے،واضح رہے كہ فخر رازى نے اس روايت كے بارے ميں لكھا ہے كہ اس كى صحت پر تقريباً تمام اہل تفسير و حديث كا اتفاق و اجماع ہے۔
abna24.com



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26