Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183569
Published : 27/9/2016 17:55

حج بیت اللہ کے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

مشرکین سے اعلان برائت کی مخالفت!

اس وقت حج میں مسلمان کے منہ سے بلند ہونے والی برائت کی آواز، سامراج اور اس کے پیروکاروں سے بیزاری کی آواز ہے۔

ولایت پارٹل:میرے لئے یہ بات قابل قبول نہیں کہ وہ حکومت،جس نے بیت اللہ کے زائرین کی خدمت کی ذمہ داری قبول کی ہے، ایسے عمل پر پابندی عائد کر دے جو مسلمانوں کے اتحاد کا باعث،مسلمان قوموں کے وقار کا موجب اور سامراجیوں اور عالم اسلام کے دشمنوں سے نفرت کا آئینہ ہے، یہ عمل دنیا کی موجودہ گروہ بندی کے مطابق کس گروہ اور حلقے کے مفاد میں ہے؟ کیا مظلوم مسلمان قوموں کی حمایت کوئي جرم ہے؟ کیا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف امریکا اور دیگر سامراجیوں کی سازشوں کا افشاء فریضے کے برخلاف کوئی عمل ہے؟ کیا مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دینا اور تفرقہ انگیزی کے عوامل و عناصر سے اظہار نفرت قرآن کا صریحی حکم نہیں ہے؟ ان اہم ترین فرائض کو معطل کر دئے جانے سے جن کو فائدہ پہنچنے والا ہے وہ امریکا اور صیہونزم ہیں۔
اس وقت حج میں مسلمان کے منہ سے بلند ہونے والی برائت کی آواز، سامراج اور اس کے پیروکاروں سے بیزاری کی آواز ہے،جو بد قسمتی سے اسلامی ممالک میں بڑی کامیابی سے اپنے پیر جما رہے ہیں اور اسلامی معاشروں پر اپنا شرک آلود نظام زندگی،ثقافت اور سیاست مسلط کرکے مسلمانوں کی زندگی میں عملی توحید و یکتا پرستی کی بنیادوں کو متزلزل اور انہیں غیر خدا کی عبادت و پرستش میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ان کی یکتا پرستی لقلقہ زبانی بن کر رہ گئی ہے، ان کی زندگی میں یکتا پرستی کے مفہوم کے آثار مفقود ہو چکے ہیں۔
khamenei.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25