Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 183595
Published : 29/9/2016 18:1

حج بیت اللہ کے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

یہ عظیم اجتماع،اپنے دامن میں بہت سے اسرار و رموز رکھتا ہے

اس جگہ ،پوری امت مسلمہ اور سارے مسلمان اپنے لسانی،نسلی، مسلکی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک جگہ پر جمع ہوں اور مخصوص اعمال کو آپس میں مل کر انجام دیں جو عبادتوں، گریہ و زاری، ذکر و مناجات اور توجہ و ارتکاز پر مشتمل ہیں۔


ولایت پارٹل:
اسلام میں ویسے تو نماز جماعت، نماز جمعہ اور نماز عید جیسی اجتماعی طور پر انجام دی جانے والی عبادتیں بھی موجود ہیں لیکن (حج کا) یہ عظیم اجتماع،ذکر و وحدانیت کو مرکزیت دینا اور دنیا کے گوشے گوشے سے مسلمانوں کو نقطہ واحد پر لاکر جمع کر دینا بڑا ہی با معنی عمل ہے،یہ بات کہ پوری امت مسلمہ اور سارے مسلمان اپنے لسانی،نسلی، مسلکی اور ثقافتی اختلافات کے باوجود ایک جگہ پر جمع ہوں اور مخصوص اعمال کو آپس میں مل کر انجام دیں جو عبادتوں، گریہ و زاری، ذکر و مناجات اور توجہ و ارتکاز پر مشتمل ہیں، یہ بہت با معنی چیز ہے،اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلام کی نظر میں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے قلوب و اذہان کا اتحاد میدان سیاست و جہاد میں ہی اہم نہیں بلکہ خانہ خدا میں جانا، قلوب کا ایک دوسرے کے نزدیک ہونا،جسموں اور جانوں کا ایک دوسرے کی معیت میں ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے،اسی لئے قرآن کریم  اللہ تبارک و تعالی کامیں ارشاد ہوتا ہے : «واعتصموا بحبل اللہ جمیعا» اللہ کی رسی کو اکیلے پکڑنے کا فائدہ نہیں ہے،ایک ساتھ مل کر پکڑنا ضروری ہے،ایک ساتھ مل کر اعتصام بحبل اللہ کیجئے،الہی تعلیم و تربیت و ہدایت کے محفوظ مرکز کو ایک ساتھ مل کر اپنائیے، معیت و ہمراہی ضروری ہے۔ دل ایک ساتھ ہوں، جانیں ایک ساتھ ہوں، فکریں ایک ساتھ ہوں، جسم ایک ساتھ ہوں، یہ جو آپ طواف کرتے ہیں، یہ ایک مرکز کے گرد دائرے کی شکل میں حرکت کرنا، یہ محور توحید کے ارد گرد مسلمانوں کی حرکت و پیش قدمی کی علامت ہے،ہمارے سارے کام، اقدامات اور حوصلے وحدانیت پروردگار اور ذات اقدس الھی کے محور کے ارد گرد ہونے چاہئے،یہ درس ہماری پوری زندگی کے لئے ہے۔
khamenei.ir


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23