Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184162
Published : 14/11/2016 18:28

دوستی کے اہم اصول(۱)

دوسروں سے بدگمانی سے پرہیز کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا،آپسی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے،باہمی بدگمانی تہمت،غیبت،بدگوئی اور بد خواہی کا باعث ہوتی ہے اور ایمان کو نیست و نابود کردیتی ہے،انسان کوانسان کا دشمن بنا دیتی ہے،رفتار و گفتار میں حسن ظن ان تمام خطرناک زہریلی چیزوں کے لئے تریاق ہے۔

ولایت پورٹل:
ہمارے اور دوسروں کے درمیان رابطہ کی ایک فصیل قائم ہونی چاہئے،فاصلہ کی نہیں،جو چیز اس رابطہ کو وجود میں لاتی ہے اور رابطہ برقرار ہونے کے بعد اسے مضبوط و مستحکم بناتی ہے وہ ہے دوسروں کے حقوق کو ماننا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا،لوگوں کے ساتھ متواضعانہ اور خیرخواہانہ میل جول اور باہمی بھائی چارہ کے ساتھ بہترین برتاؤ کرنا۔
دینی تعلیمات میں ایسی بہت سی باتوں پر کافی زور دیا گیا ہے جو باہمی روابط کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں،انہیں میں سے بعض اہم ہدایات اس طرح ہیں:
۱۔ حسن ظن
دوسروں سے بدگمانی سے پرہیز کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا،آپسی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے،باہمی بدگمانی تہمت،غیبت،بدگوئی اور بد خواہی کا باعث ہوتی ہے اور ایمان کو نیست و نابود کردیتی ہے،انسان کوانسان کا دشمن بنا دیتی ہے،رفتار و گفتار میں حسن ظن ان تمام خطرناک زہریلی چیزوں کے لئے تریاق ہے۔
یہاں تک کہ بہت سے ایسے موارد جہاں پر دوسروں کی باتیں اور حرکتیں ممکن ہے ہماری بدگمانی کا سبب ہوں وہاں پر بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی بات اور عمل کو صحت پر حمل کریں اور اس کی کوئی دلیل تلاش کریں تاکہ بدگمانی میں مبتلا نہ ہونے پائیں،یہ حالت لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتی ہے اور زندگی کو مزید شیریں بنا دیتی ہے۔
۲۔ خوش کلامی
جو بات زبان پر آتی ہے،ممکن ہے اس کے سبب آپ کے حلقہ احباب میں وسعت پیدا ہوجائے اور ممکن ہے وہی بات آپ کے اپنوں کو بھی آپ کا رقیب اور دشمن بنا ڈالے،باعث محبوبیت بھی ہو سکتی ہے اور سبب نفرت و بیزاری بھی،وحدت و یکجہتی بھی پیدا کر سکتی ہے اور اختلاف و تفرقہ بھی ڈال سکتی ہے،کسی مؤمن کو خوش بھی کر سکتی ہے اور اسے رنجیدہ بھی کر سکتی ہے۔
روایات میں طیب الکلام کے عنوان سے جو کچھ آیا ہے وہ کلام کا مثبت اور کارساز پہلو ہے اور ہر طرح کی بدگوئی،تندی اور مردم آزاری سے پرہیز کرنا ہے،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے نیک کلامی کو حسن خلق کی ایک سرحد فرمایا ہے۔ اور ایک دوسری حدیث میں مؤمن پر مؤمن کے ۳ بنیادی حقوق میں سے ایک حق یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ اپنے برادر مؤمن سے نرم لہجے میں اچھی گفتگو کرے۔
کتنے ایسے دل ہیں جو بری اور غیر سنجیدہ باتوں سے ٹوٹ گئے اور کتنے ایسے دل ہیں جو پسندیدہ اور خوش کلامی کی وجہ سے آپس میں جڑ گئے اور ان میں الفت و محبت پیدا ہو گئی ہے۔
۳۔ احوال پرسی و عیادت
دوسروں کی احوال پرسی بالخصوص بیماروں کی عیادت،الفت و محبت پیدا کرنے اور روابط کو مضبوط بنانے کا بہترین ذریعہ اور مسلمانوں کے اجتماعی و سماجی حقوق میں سے ایک اہم حق ہے،البتہ عیادت کے متعدد آداب و احکام ہیں منجملہ: مریض کے پاس کم بیٹھنا،اسے اس کی صحتیابی کا بھروسہ دلانا،اسے تسلی و تشفی دینا، اسے تندرستی اور سلامتی کی خوشخبری دینا،اس سے طلب دعا کرنا وغیرہ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ:«ان یسلم علیه اذا لقیه و یعودہ اذا مرض»۔
ترجمہ:جب اس سے ملاقات کرے تو اسے سلام کرے اور جب وہ مریض ہو تو اس کی عیادت کو جائے۔(۱)
روایات میں آیا ہے کہ جو شخص کسی مؤمن سے ملاقات کے لئے گھر سے نکلتا ہے تو گویا وہ خدا سے ملاقات کرنے کے لئے نکلا ہے اور اس کا ثواب خدا کے ذمہ ہے اور مؤمنین کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جب وہ باحیات ہوں تو ان سے ملاقات کو جاؤ اور جب انتقال کر جائیں تو ان کی قبروں کی زیارت کو جاؤ۔
۴۔ عفو و درگذر
عفو و درگذر ایک ایسا پانی ہے جو غضب،کینہ،حسد اور انتقام کی آگ کو بجھا دیتا ہے اور انسان کو روحی سکون،اطمینان اور زندگی سے لذت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے چونکہ عفو و درگذر میں ایک ایسی لذت ہے جو انتقام میں نہیں ہے۔
اگر آپ دیکھیں کہ آپ کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو ئی ہے، آپ کی ناقدری اور اہانت ہوئی ہے یا آپ کے ساتھ بد زبانی ہوئی ہے تو آپ اسے معاف کردیں اور اسی کی طرح جواب نہ دیں گے تو آپ نے اپنی کرامت و بزرگواری کوثابت کیا ہے اور آپ ثواب الٰہی کے بھی مستحق ہوجائیں گے،چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:«فَمَنْ عَفَا وَٲَصْلَحَ فَٲَجْرُہُ عَلَی اﷲِ»۔(۲)
ترجمہ: جو شخص کسی کی خطا سے در گذر کرے اور اس کے ساتھ مصالحت کرے تو اس کا اجر و ثواب اللہ تعالیٰ کےذمہ ہے۔
بے شک عفو و درگذر اس شخص کی جانب سے زیادہ پسندیدہ اور قابل ستائش ہے جو انتقام لینے کی قدرت رکھتے ہوئے معاف کردے ۔
۵۔ مشکلات میں ساتھ دینا
مصائب و مشکلات میں گرفتار لوگوں کو دیکھنا انسان کو خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد دلاتا ہے اور ان نعمتوں کے شکرانہ میں بہتر تو یہی ہے کہ ہر شخص اپنی توان بھر دوسروں کی مشکلات کو دور کرے،ان کی مدد کرے اور ان کے چہروں سے رنج و غم کے گرد و غبار کو ہٹائے۔
خاص طور جس بات کی تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کسی کے مانگنے اور حاجت و نیاز کو بیان کرنے سے پہلے ہی برادر مؤمن کی مشکل حل کرنے اور مشکل کشائی کے لئے اقدام کرنا چاہئے ۔
حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:«جب کوئی مجھ سے لو لگائے اور میں درخواست سے پہلے اسے کچھ نہ دوں تو درحقیقت جو کچھ میں نے اسے دیا ہے اس کی قیمت،میں پہلے ہی اس سے لے چکا ہوں چونکہ اس نے سوال کرتے وقت ہی اپنی عزت و آبرو کو میرے سپرد کردیا تھا»۔(۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ بحارالانوار،ج۱۷،ص۷۴۲۔
۲۔ سورہ شوریٰؒ:آیت۰۴۔
۳۔ اصول الکافی،ج۴،ص۲۲۔
razavi.aqr


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17