Friday - 2018 july 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184165
Published : 14/11/2016 19:45

آفتاب خلافت

یہ کتاب متعدد مرتبہ ہندوستان میں شائع ہوکر لوگوں تک پہونچی،تقریباً سن ۱۳۲۷ ہجری مطابق ۱۹۰۹ عیسوی میں اس کتاب کو پہلی مرتبہ نولکشور پریس لکھنؤ نے شائع کیا،اور ابھی کچھ عرصہ ہی گذرا تھا کہ علمی حلقوں سے تجدید اشاعت کے متعلق اصرار بڑھنے لگا، لہذا سن ۱۳۲۹ ہجری مطابق ۱۹۱۱ عیسوی کو اس کتاب کی اشاعت،مقبول پریس دہلی کی جانب سے عمل میں آئی۔

ولایت پورٹل:
یہ کتاب عالی جناب مولانا سید سجاد حسین بارہوی علیہ الرحمۃ کی شہرہ آفاق تصنف ہے کہ جسے انہوں نے مولوی خلیل احمد کی جنجالی کتاب«ھدایات الرشید و مطرقۃ الکرامۃ»کے جواب میں تحریر کیا تھا۔
چونکہ مولوی خلیل احمد نے اس کتاب میں شیعوں کے عقیدہ خلافت بلا فصل، حضرت علی علیہ السلام تردید کی تھی اور اپنے زعم ناقص میں عامہ کے عقیدے کو ہی عقیدہ حق قرار دیا تھا، لہذا اس کا جواب مولانا سجاد حسین بارہوی نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ دیا۔
مؤلف گرانقدر نے  اس کتاب میں علماء عامہ کی مشہور کتب سے استفادہ کرتے ہوئے واقعہ غدیر سے متعلق جوابات دئے ہیں نیز بہت سے سوالات خود عقیدہ اہل سنت پر بھی کئے۔
مولانا نے اس کتاب کے مکمل،ایک باب کو ان علماء اہل سنت کے اقوال سے مخصوص کیا ہے کہ جنہوں نے آئت بلغ«یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک»کے نزول کو واقعہ غدیر کی تصدیق میں پیش کیا ہے۔
نیز اسی ضمن میں مولانا نے کتاب مدارج اور امام عزالی کی کتاب «سر العالمین» پر ایک علمی تنقید کی ہے اور تقریباً ۱۲ ایسے علماء عامہ کا حوالہ پیش کیا ہے کہ جو آیت«وانذر عشیرتک الاقربین»کو اعلان ولایت علی علیہ السلام کا مقدمہ تسلیم کرتے ہیں۔
اس کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مولانا سجاد بارہوی مرحوم نے علماء اہل سنت کے ساتھ ساتھ مغربی مؤرخین اور اسکالرس کی کتابوں سے بھی واقعہ غدیر میں اعلان ولایت امیرالمؤمنین علیہ السلام کو ثابت کیا ہے۔
یہ کتاب متعدد مرتبہ ہندوستان میں شائع ہوکر لوگوں تک پہونچی،تقریباً سن ۱۳۲۷ ہجری مطابق ۱۹۰۹ عیسوی میں اس کتاب کو پہلی مرتبہ نولکشور پریس لکھنؤ نے شائع کیا،اور ابھی کچھ عرصہ ہی گذرا تھا کہ علمی حلقوں سے تجدید اشاعت کے متعلق اصرار بڑھنے لگا، لہذا سن ۱۳۲۹ ہجری مطابق ۱۹۱۱ عیسوی کو اس کتاب کی اشاعت،مقبول پریس دہلی کی جانب سے عمل میں آئی،اگرچہ یہ کتاب،حجم کے اعتبار سے ۹۴ صفحوں پر مشتمل تھی،لیکن اس کے اندر موجود مطالب علم کا ایک بحر ذخار تھے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 july 20