Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184174
Published : 15/11/2016 15:57

آئمہ اہل بیت(ع)اور سنت نبوی کے درمیان کیا رابطہ ہے؟

یعنی میری حدیث میرے بابا کی حدیث ہے،میرے بابا کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے،اور میرے دادا کی حدیث حضرت امام حسین(ع) کی حدیث ہے اور حضرت امام حسین(ع) کی حدیث امام حسن(ع)کی حدیث ہے،امام حسن(ع) کی حدیث امیر المؤمنین(ع) کی حدیث ہے،امیر المؤمنین(ع) کی حدیث رسول اللہ(ص)کی حدیث ہے اور رسول اللہ(ص)کی حدیث اللہ تعالٰی عزوجل کا قول ہے۔

ولایت پورٹل:
ہم اس سے پہلے والے حصوں میں قرآن مجید اور سنت پیغمبر اکرم(ص) سے متعلق تفصیل کے ساتھ قارئین کی خدمت میں مضامین پیش کرچکے ہیں لہذا اسی تسلسل کے لئے ذیل کے لنکس پر کلک کیجئے!
(1)شیعہ مذہب کے نزدیک سنت پیغمبر اکرم(ص) کی حجیت
(2)قرآن مجید کی حجیت کے متعلق شیعیوں کا موقف 
ائمہ معصومین(ع) سے منقول روایات میں بھی سنت کی عظمت بیان ہوئی ہے اور ان روایات میں قرآن کریم کے بعد سنت کواحکام کے استنباط کی دلیل قرار دینے کے بارے میں تأکید ہوئی ہے جیسا کہ امام جعفرصادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں:«مامن شیء الا وفیه کتاب اوسنة»ـ(۱)
ترجمہ:کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کا حکم کتاب یا سنت میں موجود نہ ہو۔
جناب سماعہ بن مہران نے امام موسیٰ کاظم(ع) سے یہ سوال کیا کہ قرآن کریم وسنت میں ہر چیز کا حکم بیان ہوچکا ہے؟یا یہ کہ آپ بھی (کتاب وسنت سے الگ)اس کے بارے میں کوئی حکم دیتے ہیں؟تو آپ(ع) نے ارشاد فرمایا:«بل کل شیء فی کتاب اللّٰه وسنة نبیه»۔(2)
ترجمہ:قرآن مجید اور سنت پیغمبر اکرم(ص) میں ہر حکم موجود ہے۔
جس طرح احادیث کے صحیح یا ضعیف ہونے کا معیار قرآن مجید ہے اسی طرح ائمہ طاہرین(ع) کی احادیث کے لئے پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث معیار ہیں چنانچہ جب عبد اللہ بن ابی یعفور نے امام جعفر صادق(ع) سے ائمہ معصومین(ع)کی مختلف احادیث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:«اذا ورد علیکم حدیث فوجدتم له شاھداً من کتاب اللہ اومن قول رسول اللہ صلی اللہ علیه وآله والا فالذی جاء کم به اولیٰ به»۔(۳)
ترجمہ:جب تم تک کوئی حدیث پہنچے اور تمہیں قرآن یا حدیث پیغمبر(ص)  سے اس کی شاہد مل جائے تو اسے قبول کر لو ورنہ بہتر یہی ہے کہ اس کی نسبت اسی کی طرف دی جائے جس نے اسے تم سے نقل کیا ہے۔
جناب زرارہ نے امام محمد باقر(ع)سے یہ روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا ہے:«کل من تعدی السنة رد الیٰ السنة»۔(۴)
ترجمہ:جو شخص بھی پیغمبر اکرم(ص)کی سنت سے آگے بڑھے اسے سنت  کی طرف پلٹا یا جائے۔
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر امام جعفر صادق(ع) نے ارشاد فرمایا:«من خالف کتاب اللّٰه وسنة محمد صلی اللہ علیه وآله فقد کفر»۔(5)
ترجمہ:جو شخص اللہ کی کتاب اور حضرت محمد(ص)کی سنت کی مخالفت کرے وہ کافر ہے۔
اشکال:ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ شیعہ حضرات اپنی کلامی،فقہی اور اخلاقی کتابوں میں زیادہ تر ائمہ طاہرین(ع) کی احادیث کو ہی سند کے طور پر پیش کرتے ہیں اور بہت کم مواقع پر رسول اکرم(ص) کی احادیث کو سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس بنا پر شیعہ علماء عملاً آنحضرت(ص) کی احادیث کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے ہیں؟
اس کا جواب ہم پہلے ہی ذکر کرچکے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث کی حجیت کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے لیکن پیغمبر(ص) کی احادیث کو کس طرح حاصل کیا جائے اس بارے میں ان کے یہاں حتی کہ بسا اوقات ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتاہے کیونکہ یہ حضرات سنت نبوی کے لئے جن شرائط کے قائل ہیں ان میں اتفاق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ احکام کے باب میں حنفی فرقہ کے امام ابوحنیفہ بہت ہی کم روایات کو معتبر سمجھتے ہیں ابن خلدون کے مطابق ان کی تعداد بیس بھی نہیں ہے لیکن امام مالک نے ان کی تعداد تین سو قرار دی ہے۔(6)
امامیہ شیعوں کے نزدیک احادیث رسول(ص)کو حاصل کرنے کا سب سے معتبر ذریعہ ائمہ معصومین(ع) ہی ہیں یعنی جو امام صادق(ع) نے بیان فرمایا ہے وہ در حقیقت وہی ہے جو پیغمبر اکرم(ص) کی سنت ہے جیسا کہ ہشام بن سالم اور حماد بن عیسیٰ اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق(ع)نے فرمایا ہے:«حدیثی حدیث ابی،حدیث ابی حدیث جدی،وحدیث جدی حدیث الحسین وحدیث الحسین حدیث الحسن وحدیث الحسن حدیث امیر المؤمنین،وحدیث امیر المؤمنین حدیث رسول اللّٰه صلی اللہ علیه وآله، وحدیث رسول اللّٰه صلی اللہ علیه وآله قول اللّٰه عز وجل»(7)
ترجمہ:یعنی میری حدیث میرے بابا کی حدیث ہے،میرے بابا کی حدیث میرے دادا کی حدیث ہے،اور میرے دادا کی حدیث حضرت امام حسین(ع) کی حدیث ہے اور حضرت امام حسین(ع) کی حدیث امام حسن(ع)کی حدیث ہے،امام حسن(ع) کی حدیث امیر المؤمنین(ع) کی حدیث ہے،امیر المؤمنین(ع) کی حدیث رسول اللہ(ص)کی حدیث ہے اور رسول اللہ(ص)کی حدیث اللہ تعالٰی عزوجل کا قول ہے۔
یہ بیان کرنے کے بعد کہ کتاب وسنت کے مآخذ ومدرک شرعی ہونے کے سلسلہ میں شیعوں اور اہل سنت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے علامہ کاشف الغطاء نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ سنت پیغمبر اکرم(ص) کے سلسلہ میں شیعوں کا امتیاز یہ ہے کہ یہ حضرات صرف اسی سنت کو معتبر سمجھتے ہیں جو اہل بیت(ع)کے ذریعہ ان تک پہونچی ہو جیسے امام جعفر صادق(ع) نے اپنے والد امام محمد باقر(ع)سے روایت کی ہو،انہوں نے اپنے والد امام زین العابدین(ع)،انہوں نے امام حسین(ع) سے اور انہوں نے امیر المؤمنین(ع) سے اور انہوں نے پیغمبر اکرم(ع) سے روایت کی ہو،لیکن ان کی نظر میں ابو ہریرہ،سمرہ بن جندب،مروان بن حکم ،عمران بن حطال خارجی اور عمرو بن عاص جیسے لوگوں کی روایت کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور شیعہ انہیں معتبر نہیں سمجھتے ہیں۔(8)
.......................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔اصول کافی،ج۱،ص۵۹،باب الرد الٰی الکتاب والسنة حدیث۴۔
2۔اصول کافی،ج۱،ص۵۹،باب الرد الٰی الکتاب والسنة حدیث۲۔
3۔اصول کافی،ج۱،ص۵۹،باب الاخذ بالسنة و شواهدالکتاب حدیث۲ـ
4۔اصول کافی،ج۱۱،ص۷۱،باب الاخذ بالسنة و شواهدالکتاب حدیث ۲ ـ
5۔اصول کافی ج۶،ص۷۰،باب الاخذ بالسنة و شواهدالکتاب حدیث ۲ـ
6۔مقدمہ ابن خلدون،ص۴۴۴،دار العلم،بیروت:«ابو حنیفة  یقال بلغت روایته الی سبعۃ عشر حدیثاً اونحوھا ومالک رحمه اللہ انما صح عندہ ما فی کتاب الموطاء وغایتھا ثلاثمآة حدیث او نحوھا»۔
7۔ وسائل الشیعة، ج۱۸،ص۵۸۔
8۔اصل الشیعة واصولھا،ص 164۔ 165۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17