Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184198
Published : 16/11/2016 17:6

گھر ایک مکمل معاشرہ ہے، جس کی نگراں خاتون ہوتی ہے

ماہر نفسیات کے مطابق جو میاں بیوی ایک عرصے کے بعد ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں،اس سے دونوں کوہی بے انتہاحیرت ہوتی ہے،لیکن اس سے ضرور یہ پتہ چلتاہے کہ وہ ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں لیکن اپنی اپنی انا کی آڑ میں اس کا اظہار نہیں کرپاتے،اصل میں ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہنے سے دونوں کے دل میں محبت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل:
گھر یوں تو چھوٹی سی چار دیواری کا نام ہے مگر گھر کا ماحول سہانا ہو تو یہ ایک نعمت ہے،گھر ایک چھوٹا سا معاشرہ ہے اور بڑے معاشرے کی ترقی اس گھر سے مربوط ہوتی ہے،یہ چھوٹا سا خاندانی معاشرہ اگرچہ بڑے معاشرے کا چھوٹا سا جزء ہے مگر کسی حد تک ذاتی آزادی اور استقلال سے بہرہ مند ہے،اس لئے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ سماج کی اصلاح کرنی ہو تو اس کی شروعات خاندانوں کی اصلاح سے کرنی چاہے،زندگی کی اہم بنیاد اور سماج کی اس عظیم تعلیم و تربیت گاہ کے نظم و نسق کی ذمہ داری خواتین پر ہے،یعنی کسی بھی سماج کی ترقی و تنزلی اور اچھائی و برائی کا دارو مدار خواتین کے اختیار میں ہے،اسی لئے خانہ داری کو نہایت قابل فخر اور باعزت کام قرار دیا گیا ہے،ایک خانہ دار عورت کو فخر کرنا چاہئے کہ اس کو نہایت اہم عہدہ سونپا گیا ہے کہ اپنی قوم و ملت کی ترقی و خوشحالی کے لئے ایثار و قربانی کرتی ہے،تعلیم یافتہ خواتین کی اس سلسلے میں زیادہ ذمہ داری ہے ،ان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بنیں اور عملی طور پر اپنے علم سے فائدہ اٹھائیں اور ثابت کردیں کہ تعلیم کبھی بھی کسی قسم کی ایثار قربانی میں رکاوٹ نہیں بنتی بلکہ تعلیم تو زندگی کے آداب و اطوار سے اور اچھی طرح آشنا کراتی ہے،موجودہ دور میں مشرق میں بھی یہ رجحان دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے کہ لڑکے اور لڑکی اپنی پسند کے مطابق شادی کریں،بہت کم گھرانوں میں ماں باپ کی پسند سے شادی کا رواج ہے،لڑکے اور لڑکی کی اپنی پسند کی شادی کی صورت میں انہیں ایک دوسرے کے مزاج،عادات و اطوار اور پسند اور ناپسند کے بارے میں کافی حد تک معلومات ہوتی ہیں اور شادی کے بعد ان کی زندگی کافی حد تک ایک دوسرے کے ساتھ انڈر اسٹینڈنگ کی بنیاد پر گزرتی ہے،لیکن وہ گھرانے جہاں شادیاں ماں باپ کی پسند کے مطابق ہوتی ہیں اور لڑکے نے لڑکی کو اور لڑکی نے لڑکے کودیکھا تک نہیں ہوتا ،وہاں لڑکیوں کے لئے سسرال جا کر سب سے پہلا اور اہم مسئلہ اپنے شوہر کو سمجھنے کا ہوتاہے،شادی کے بعد کچھ عرصہ وہ ایک دوسرے میں مگن ہوکر زندگی گزارتے ہیں، وہ دنیا کے تمام جھمیلوں سے آزاد ہوتے ہیں اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہوتے ہیں، لیکن پھر جیسے جیسے زندگی کی حقیقتیں سامنے آتی ہیں تو زندگی میں تلخ اور جمود طاری ہونے لگتاہے لیکن اگر اس لمحے پر دونوں فریق سمجھداری سے کام لیں تو ہر قسم کے اختلاف اور کھینچاؤ سے بچا جاسکتاہے اور الجھے مسائل پر قابو پایا جاسکتاہے،ایسی دلہنوں کیلئے جنہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ سسرال پہنچ کر شوہر کو کس طرح خوش رکھنا ہے، ذیل میں چند ضروری باتیں بتا رہے ہیں جن پر عمل کرکے نہ صرف شوہر کاپیار محبت اور توجہ حاصل کرسکتی ہیں بلکہ ایک مثالی جوڑے کے طورپر زندگی گزار سکتی ہیں،عام طورپر جب میاں بیوی میں ناراضگی ہوتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی خامیوں پر نظر ڈالتے ہیں اور اچھی اور مثبت باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں،ایسا کرنا بالکل غلط ہے،کرنا یہ چاہئے کہ ناراضگی،اختلاف پیدا ہوجانے کی صورت میں شام کی چائے دونوں ساتھ بیٹھ کر پئیں اور اچھے خیالات کا تبادلہ کریں،ایک دوسرے کی خوبیوں کا کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے،ماہر نفسیات کے مطابق جو میاں بیوی ایک عرصے کے بعد ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں،اس سے دونوں کوہی بے انتہاحیرت ہوتی ہے،لیکن اس سے ضرور یہ پتہ چلتاہے کہ وہ ایک دوسرے کو بہت چاہتے ہیں لیکن اپنی اپنی انا کی آڑ میں اس کا اظہار نہیں کرپاتے،اصل میں ایک دوسرے کی تعریف کرتے رہنے سے دونوں کے دل میں محبت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ایک دوسر ے کے مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے میں بھرپوردلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں،خلاصہ یہ کہ اگر گھر کا ماحول سہانا ہوتا ہے تو یہاں سے ایک مکمل معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے اور اس تشکیل میں خاتون کا اہم رول ہوتا ہے۔
chauthiduniya


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19