Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184203
Published : 16/11/2016 18:11

شہادت کی قدر و منزلت کے متعلق رہبر انقلاب کا نظریہ:

اسلامی انقلاب اور نظام اسلامی سے رسم شہادت کا احیاء ہوا:رہبر انقلاب

موت تو سب کے نصیب میں لکھی ہے،لیکن اگر راہ خدا میں جاں بحق ہوجائیں تو مادی و ظاہری اصول و قوانین کے مطابق ہم کوئی نقصان نہیں اٹھائیں گے،موت ہم سب کی سرنوشت و مقدّر میں ایک حتمی امر ہے،یہ ایسا سرمایہ ہے جو سرانجام ہم سب سے چھین لیا جانے والا ہے۔


ولایت پورٹل:
ہمیں جس حقیقت پر فخر و مباہات کرنا چاہئے یہ ہے کہ قتل فی سبیل اللہ کی روایت اور سنت خداوندی کا رواج، اسلامی نظام کے ذریعہ زندہ ہوگیا، ماضی میں راہ خدا میں مصائب و مشکلات اٹھانے والوں کی تعداد بہت کم تھی اور کچھ لوگ تو اپنی زندگی کے سترسالہ دور میں بھی راہ خدا میں چھوٹی سی پریشانی بھی برداشت کرنے کے لائق نہ تھے اور وہ خدا کی راہ میں ذرہ برابر پریشانی جھیلنے کو تیار نہ تھے چہ جائیکہ راہ خدا میں جان و مال کا نذرانہ پیش کریں۔
اس قوم کے لئے جو اسلام کے نام پر زندگی بسر کررہی ہے یہ بات بہت بری ہے کہ اس عظیم مقصد کے حصول کی راہ میں کوئی بھی پریشانی برداشت کرنے کے لئے خود کو آمادہ و مہیا نہ کرے،ظاہر ہے کہ ایسے معاشرے میں اسلام تدریجی طور پر اپنی آب و تاب گنوا کر کمزور اور بے اثر ہوتا جائے گا۔
افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ماضی میں ہمارے ملک اور دیگر اسلامی ممالک میں دین کے لئے سرمایہ لگانے اور خود کو مشکل و پریشانی میں ڈالنے کی رسم بالکل ختم یا بہت کمزور پڑچکی تھی،راہ خدا میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کی تو بات ہی الگ ہے،ایرانی قوم اوراسلام کے تئیں امام خمینی(رہ) اور انقلاب اسلامی کی ایک بہت بڑی خدمت،راہ خدا میں فداکاری کے جذبے کا(چاہے وہ ایران میں ہو یا دیگر اسلامی ملکوں میں) احیاء تھا آج بہت سے طیب و طاہر اور نفوس قدسیہ خدا کے لئے کوشش و خدمت اور خالصانہ طور پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں کہ جس کا سب سے بڑا جلوہ ہمارے یہی عزیز شہداء ہیں کہ جن کی عزیز یادگار و پسماندگان میں سے آپ عزیز لوگ ہیں۔
موت تو سب کے نصیب میں لکھی ہے،لیکن اگر راہ خدا میں جاں بحق ہوجائیں تو مادی و ظاہری اصول و قوانین کے مطابق ہم کوئی نقصان نہیں اٹھائیں گے،موت ہم سب کی سرنوشت و مقدّر میں ایک حتمی امر ہے،یہ ایسا سرمایہ ہے جو سرانجام ہم سب سے چھین لیا جانے والا ہے، لیکن یہ متاع ہستی و جان دو طرح سے ہاتھ سے جاتی ہے، ایک تو یہ کہ اس کو کھودیں اور دوسرے یہ کہ اس کو بیچ دیں،اب کونسی بہتر ہے؟ جو لوگ راہ خدامیں مارے نہیں جاتے وہ اپنی جان کو گم کردیتے ہیں، اور اس کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ہے لیکن جولوگ اپنی جان کو راہ خدا میں دے دیاکرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی جان کو بیچ دیا اور اس کے عوض میں کچھ حاصل کیا ہے:«اِنَّ اللہَ اشْتَریٰ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ»۔(۱)
ترجمہ: بیشک اللہ نے صاحبان ایمان سے ان کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیا ہے۔
.................................................................................................................................................................................
حوالہ:
۱۔سورہ برائت:آیت ۱۱۱۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16