Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184210
Published : 16/11/2016 19:4

دوستی کے اہم اصول(۲)

روح کی بے نیازی،بلند ہمتی،قناعت اور پرہیزگاری کا جذبہ انسان کو لالچ کا غلام بننے سے بچاتa ہے اور دوسروں کے مال و ثروت پر نظر رکھنا باعث ذلت و رسوائی بھی ہے اور روحی و وجدانی عذاب کا سبب بھی۔

ولایت پورٹل:
ہم نے اس سلسلے کی پہلی کڑی میں دوستی کے کچھ اہم اصول قارئین کی خدمت میں پیش کئے تھے،اگر ہر انسان اپنے دوست کے تئیں سچی محبت رکھتا ہو تو یہ اصول اس کی دوستی کو منزلت مقصود تک پہونچانے میں ضرور معاون ہوں گے،لہذا اس سے پہلے کے حصہ کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
 دوستی کے اہم اصول(۱)
 ۶۔عذر قبول کرنا
لغزش اور خطا کی بنا پر دوسروں سے معذرت چاہنا اور دوسروں کی معذرت خواہی کو قبول کرنا مکارم اخلاق اور کمال کی نشانی ہے۔
اگر ہمیں یہ بھی معلوم ہو کہ سامنے والا جو عذر بیان کررہا ہے وہ غلط ہے تب بھی تاکید کی گئی ہے کہ ہم اس کی معذرت خواہی کو قبول کریں،اسلئے کہ یہ برتاؤ،عزت و آبرو کا محافظ ہے اور مزید بے عزتی اور بے آبروی سے روکتا ہے اور آپسی میل محبت اور دوستی کا سبب بنتا ہے،حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:«اقبل اعذار الناس تستمتع باخائھم»۔(۱)
ترجمہ:لوگوں کے عذر کو قبول کرو تاکہ ان کی بھائی چارگی سے فائدہ اٹھا سکو۔
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ایک دن اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور فرمایا:«اے میرے بیٹوں! میں تمہیں ایک ایسی نصیحت کرتا ہوں کہ جو بھی اس پر عمل کرے گا وہ گھاٹے میں نہیں رہے گا؛اگر کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور داہنے کان میں ناپسند باتیں کہے اس کے بعد دوسری طرف جاکر بائیں کان میں تم سے معذرت چاہے کہ میں نے کچھ نہیں کہا تو اس کے عذر کو بھی قبول کرلو»۔(۲)
۷۔ لالچ سے گریز کرنا
جو شخص دوسروں کے مال و منال پر نظر رکھتا ہے اور حرص و طمع اسے مال کی زیادتی پر ابھارتی ہے وہ لوگوں کی نظروں سے گر جاتا ہے،اس لئے کہ حرص وطمع ذلت کا سبب ہے اور اس سے نجات،عزت بخش اور محبوبیت کاباعث ہے۔
حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب محمد حنفیہ سے فرمایا:«فان احببت ان تجمع خیر الدنیا و الآخرۃ فاقطع طمعک ما فی ایدی الناس»۔(۳)
ترجمہ:اگر تم خیر دنیا وآخرت چاہتے ہوتو لوگوں کے پاس موجود مال کو لالچ کی نگاہ سے مت دیکھو۔
روح کی بے نیازی،بلند ہمتی،قناعت اور پرہیزگاری کا جذبہ انسان کو لالچ کا غلام بننے سے بچاتa ہے اور دوسروں کے مال و ثروت پر نظر رکھنا باعث ذلت و رسوائی بھی ہے اور روحی و وجدانی عذاب کا سبب بھی۔
۸۔ کسی کو اذیت نہ دینا
کبھی کبھی نیک افراد کی تعریف میں کہا جاتا ہے کہ وہ تو ایک چیونٹی کو بھی اذیت نہیں پہونچاتا تھا،لیکن دوسری طرف کتنی نفرت،مذمت اور لعنت ہے جو ایذا رسانی کرنے والوں پر نچھاور کی جاتی ہیں۔
دنیا وآخرت کی عزت و آبرو اور لوگوں کے نزدیک محبوبیت،دوسروں کو اذیت نہ پہونچانے میں پوشیدہ ہے،چاہے وہ زبانی اور عملی اذیت ہو یا مالی اور معیشتی نقصان یا ظاہری آبرو اور اجتماعی ایذا رسانی،جو شخص دوسروں کو اذیت پہونچانے سے پرہیز کرتا ہے در حقیقت وہ اپنے آپ کو بہت سے آزار و اذیت سے بچا لیتا ہے،اسی حقیقت کو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایاہے:«جو شخص لوگوں کو اذیت دینے سے گریز کرتا ہے بے، وہ دوسروں کی ایذاء رسانیوں اور تہمتوں سے محفوظ و مامون رہتا ہے»۔(۴)
۹۔ راز داری
کبھی ایک راز کا تعلق انسان کی زندگی، حیثیت اور عزت و آبرو سے متعلق ہوتا ہے اور اس راز کو فاش کرنا،اس کی بے عزتی اور ہلاکت کا باعث ہوتا ہے اور کبھی راز کو فاش کردینا انسان یا سماج کے ساتھ خیانت شمار کیا جاتا ہے،پس اپنی زبان اور منھ کو رازداری کا عادی بنائیں اور اس طرح دوسروں کے حقوق ان کی حیثیت اور سماجی وحدت و یکجہتی کی حفاظت کریں،اس لئے کہ دوسروں کے راز کو فاش کرنا کینہ،عداوت اور اختلاف و تفرقہ کا سبب ہے۔
حضرت علی علیہ السلام قابل اعتماد برادران دینی اور ان کے سلسلہ میں ذمہ داری کو اس طرح بیان فرماتے ہیں:«واکتم سرہ و عیبہ و اظہر منہ الحسن»۔(۵)
ترجمہ:اس کے راز اورعیب کو پوشیدہ رکھو اور اس کی نیکیوں کو ظاہر کرو۔
لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بعض لوگ اس کے برخلاف عمل کرتے ہیں،ان کی زبان کبھی بھی دوسروں کی خوبیاں اور اچھائیاں بیان کرنے کے لئے نہیں کھلتیں،بلکہ وہ دوسروں کی بدگوئی اور عیوب بیان کرنے میں بہت تیز و طرار ہوتے ہیں!!
۱۰۔ایک دوسرے کے لئے آئینہ ہونا
برادران دینی و ایمانی کے ساتھ صادقانہ برتاؤ کے سلسلہ میں ایک مشہور و معروف حدیث ہے کہ:«المومن مرآۃ المومن»۔(۶)
ترجمہ:یعنی مومن، مومن کا آئینہ ہے۔
آئینہ کے خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بے لوث اوربے غرض ہوتا ہے،اشیاء کو بڑا بنا کر نہیں دکھاتا، خود انسان کو اس کے عیوب دکھاتا ہے اور ہم آئینہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے عیوب کو ہمیں بتانے اور دکھانے کا ذریعہ ہے، تاکہ ہم انھیں دور کرنے کی کوشش کریں،آئینہ خوبیوں اور حسن کو بھی دکھاتا ہے صرف عیوب اور کمیوں کو ہی نہیں۔
دوسروں سے صادقانہ برتاؤ،دلسوزی و رأفت کے ساتھ تنقید،ارشاد ورہنمائی،خیرخواہی و نصیحت،ایک دوسرے کے لئے باہمی آئینہ ہونے کے اہم مصادیق میں سے ہیں۔
چنانچہ رسول خدا (ص)نے ارشاد فرمایا:«مؤمن اپنے برادر مومن کا آئینہ ہے،اس کے پیٹھ پیچھے اس کا خیرخواہ ہوتا ہے اور اس کی موجودگی میں جو چیز اس کے لئے نازیباہوتی ہیں انھیں اس سے دور کرتا ہے»۔(۷)
..............................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ شرح غرر الحکم،ج۲،ص۵۱۲ ۔
۲۔ کشف الغمہ،ص۸۱۲۔
۳۔ من لایحضرہ الفقیہ،ج۴،ص۹۱۳۔
۴۔الکافی،ج۲،ص۸۱۱ ۔
۵۔الاختصاص،ص۱۵۲۔
۶۔تحف العقول،ص۳۷۱۔
۷۔قاموس الاخلاق و الحقوق،ص۰۳۲۔
razavi.aqr


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19