Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184212
Published : 16/11/2016 19:39

حضرت نوح(ع) کی کشتی میں سوار ہونے والا پہلا اور آخری جانور کون تھا؟

بعض روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت نوح (ع) کی کشتی میں سب سے پہلے سوار ہونے والا جانور طوطا یا چیونٹی تھی، آور آخری جانور گدھا تھا اور ابلیس بھی گدھے کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔


ولایت پورٹل:
بعض روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت نوح (ع) کی کشتی میں سب سے پہلے سوار ہونے والا جانور طوطا یا چیونٹی تھی، آور آخری جانور گدھا تھا اور ابلیس بھی گدھے کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔
ہم اس قسم کی بعض روایات کو ان کی سند کے بارے میں بحث و تحقیق کے بغیر ذیل میں ذکر کرتے ہیں:
۱۔ ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ:«سب سے پہلا پرندہ جوحضرت نوح کی کشتی میں داخل ہوا، وہ طوطا تھا اور سب سے آخر میں سوار ہونے والا حیوان گدھا تھا اور ابلیس بھی گدھے کی دم کے ساتھ کشتی میں داخل ہوا»۔(۱)اس روایت میں لفظ «الدورة» آیا ہے جس کے معنی ایک خاص قسم کا طوطا ہے۔
۲۔بعض منابع میں«الدورة» کے بجائے «الذّرة»آیا ہے، جس کے معنی «چیونٹی» ہے، کہ اس بنا پر روایت کے معنی بدل جائیں گے:
پہلا جانور جو کشتی میں سوار ہوا،وہ«چیونٹی»تھی اور آخری گدھا تھا،جب حضرت نوح(ع) گدھے  کو کشتی میں سوار کرنے کے لئے لائے اور وہ کشتی میں داخل ہوا، ( اسی وقت) ابلیس نے گدھے کی دم پکڑ لی اور گدھے کے پاؤں کو کشتی میں سوار ہونے سے روکا،حضرت نوح(ع) نے گدھے سے خطاب کرکے فرمایا:«افسوس ہے تجھ پر! تو کشتی میں سوار کیوں نہیں ہورہا ہے؟»، لیکن گدھا داخل نہ ہوسکا، حضرت نوح(ع) نے کہا:«افسوس ہو تجھ پر ! کشتی میں داخل ہوجا،اگر چہ شیطان بھی تیرے ساتھ ہے»،جوں ہی یہ جملہ حضرت نوح(ع) کی زبان پر جاری ہوا، شیطان نے گدھے کو رہا کیا اور گدھا کشتی میں سوار ہوا اور شیطان بھی اس کے ساتھ کشتی میں سوار ہوا۔(۲)
۳۔ امام صادق (ع) فرماتے ہیں:«جب حضرت نوح(ع) حیوانوں کو کشتی میں سوار کر رہے تھے، تمام حیوان سوار ہوئے لیکن ان میں گدھا سوار نہیں ہوا، اس وقت ابلیس گدھے کے دو پیروں کے بیچ میں تھا،در نتیجہ حضرت نوح (ع) نے گدھے سے خطاب کرکے فرمایا:«اے شیطان! سوار ہو جا، شیطان نے اس کلام کو حضرت نوح(ع) سے سنا اور گدھے کی دم کو پکڑ کر گدھے کے ہمراہ کشتی میں سوار ہو گیا»۔(۳)
..................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ طبری،محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج ‏12، ص 23، بیروت، دار المعرفة، طبع اول، 1412 ہجری؛ اور تھوڑے فرق کے ساتھ ان کتابوں میں بھی یہ روایت نقل ہوئی ہے:ابن کثیر دمشقی‏، اسماعیل بن عمر، البدایة و النهایة، ج ‏1، ص 111، بیروت، دار الفکر، 1407 ہجری؛ بغدادی، علاء الدین علی بن محمد، لباب التاویل فی معانی التنزیل، تصحیح، شاهین‏، محمد علی، ج ‏2، ص 485، بیروت، دار الکتب العلمیة، طبع اول، 1415ہجری۔
۲۔طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک(تاریخ طبری)، تحقیق، ابراهیم، محمد أبو الفضل، ج ‏1، ص 184، بیروت، دار التراث، طبع دوم، 1387ہجری۔
۳۔قطب الدین راوندی، سعید بن هبة الله، قصص الأنبیاء(ع)، محقق، عرفانیان یزدی، غلامرضا، ص 83، مشهد، مرکز پژوهش های اسلامی، طبع اول، 1409 ہجری؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج ‏11، ص 323، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، طبع دوم، 1403ہجری۔
islamquest


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24