Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184213
Published : 17/11/2016 15:4

اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(1)

ارادۂ تکوینی کا مطلب عصمت اور گناہوں سے محفوظ رہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور گناہوں سے محفوظ رہنا فعل کے اختیاری ہونے کے منافی نہیں ہے،کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں اور یہ اسباب خدا وندعالم نے معصومین(ع) کو عطا کئے ہیں اور یہ حضرات خدا وندعالم کی عظمت کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں اور دوسری جانب گناہوں کے مہلک اثرات سے بھی کما حقہ واقف ہیں۔


ولایت پورٹل:ہم اس سے پہلے مضامین میں سنت پیغمبر اکرم(ص) کی حجیت کا معیار،نیزآئمہ اہل بیت(ع)اور سنت نبوی کے درمیان پائے جانے والے رابطے کو بیان کرچکے ہیں،تکمیل مطالب کے لئے ذیل میں دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے:
(1)۔شیعہ مذہب کے نزدیک سنت پیغمبر اکرم(ص) کی حجیت
(2)۔آئمہ اہل بیت(ع)اور سنت نبوی کے درمیان کیا رابطہ ہے؟
اہل بیت پیغمبر(ص)سے وہ حضرات مراد ہیں جن کا تعارف آیۂ تطہیر اور احادیث نبوی میں کرایا گیا ہے اور وہ ہر قسم کی غلطی اور خطا سے معصوم ہیں۔
1۔آیت تطہیر
«إِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْھبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَھلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْھیرًا»۔(1)
ترجمہ:بس اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ اے اہل بیت(ع) کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔
نحوی لحاظ سے لفظ «انما»ادوات حصر میں سے ہے کہ جو حصر و قصر پر دلالت کرتاہے اس بنا پر اہل بیت(ع) کی طہارت کے بارے میں پروردگار عالم کا ارادہ ایک خاص ارادہ ہے یعنی ان کے لئے خاص طہارت کا ارادہ کیا گیاہے یہ تشریعی (قانونی مطالبہ)ارادہ نہیں ہے بلکہ تکوینی ارادہ ہے کیونکہ ارادۂ تشریعی اور اس کے ذریعہ حاصل ہونے والی طہارت توعام ہے جیسا کہ وضو و غسل اور تیمم کا حکم بیان کرنے کے بعد یہ ارشادہوتا ہے:«مَا یُرِیدُ اﷲُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَکِنْ یُرِیدُ لِیُطَہِّرَکُمْ»۔(2)
ترجمہ:خداوندعالم تمہیں زحمت میں نہیں ڈالنا چاہتا ہے بلکہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ تمہیں پاکیزہ بنادے۔
یا زکات کے بارے میں ارشادہوتا ہے:«خُذْ مِنْ أَمْوَالِهمْ صَدَقَۃً تُطَهِرُہُمْ وَتُزَکِّیهمْ بِها»۔(3)
ترجمہ:ان کے اموال سے صدقہ (زکات)لے لیجئے اور اس کے ذریعہ ا ن کو پاک وپاکیزہ بنا دیجئے۔
ارادۂ تشریعی اور ارادۂ تکوینی کے درمیان ایک فرق یہ ہے کہ ارادۂ تشریعی میں جس چیز کا مطالبہ کیا گیاہے اس کا دارومدار انسان کے انتخاب اور اس کی خواہش پر ہے لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ انسان اسے اختیار نہ کرے اسی طرح ممکن ہے کہ اس کی مراد بھی حاصل نہ ہو سکے یادوسرے الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ارادۂ تشریعی سے ہدایت تشریعی ہی مراد ہے یعنی سعادت وطہارت کا راستہ دکھانا اور اس کی طرف رہنمائی کرنا اور کیونکہ انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے اور اسے اپنی مرضی سے انتخاب کا حق حاصل ہے لہٰذا یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سعادت کا راستہ اختیار کرلے اور یہ بھی ہو سکتا کہ وہ اس راستہ پر نہ چلے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّا ہَدَیْنَاہُ السَّبِیلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوراً»۔(4)
لیکن ارادۂ تکوینی میں کیونکہ ایصال الیٰ المطلوب یعنی منزل مقصود تک پہونچایاجاتا ہے اس لئے اس کامنزل مقصودتک پہونچنا یقینی امر  ہے جیسا کہ ارشاد ہے:«إِنَّمَا أَمْرُہُ إِذَا أَرَادَ شَیْئًا أَنْ یَقُولَ لَہُ کُنْ فَیَکُونُ»۔(5)
اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
الف:خداوند عالم نے ہرطرح کے رجس اوربرائی سے اہل بیت اطہار(ع) کی طہارت کا تکوینی ارادہ کیا ہے۔
ب:خداوندعالم کا تکوینی ارادہ قطعی طور پر پورا ہوتا ہے لہٰذا اہل بیت(ع) کی ہر برائی سے طہارت ایک طے شدہ امر ہے جو محقق ہو چکی ہے۔
دوسری جانب غلطی اور گناہ معنوی روحانی رجس اوربرائی ہیں اس بنا پر اہل بیت(ع) ہر قسم کی غلطی اور خطا سے بھی پاک اور معصوم ہیں۔
اب مندرجہ ذیل نکات کے سہارے ہم اہل بیت(ع) کے مصادیق کو بھی آپ با آسانی پہچان سکتے ہیں:
۱۔کوئی بھی اسلامی فرقہ جناب فاطمہ زہرا(س) آپ کے شوہر نامدار اور آپ کے دونوں بیٹو ں کے علاوہ بقیہ خاندان نبوت حتی کہ ازواج پیغمبر(ص) کی عصمت کا قائل نہیں ہے،لیکن شیعہ جناب فاطمہ زہرا (س) اور ان کے شوہر نامدار اور بیٹوں کو معصوم سمجھتے ہیں اور اگر ہم شیعوں کے اس نظریہ کو قبول نہ کریں تو آیہ تطہیر کا کوئی مصداق خارج میں  باقی نہیں  رہے گا جو اس آیت کے نزول کے سراسر خلاف ہے۔
۲۔
آیت تطہیر کے قبل وبعد اور اس کے بعد والی آیات آنحضرت(ص)کی ازواج کے بارے میں ہیں اور ان میں جمع مونث کی ضمیر استعمال ہوئی ہیں:«وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اﷲَ»«مَنْ یَأْتِ مِنْکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ»«وَقَرْنَ فِی بُیُوتِکُنَّ،وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلَی فِی بُیُوتِکُنَّ» جبکہ آیت تطہیر میں جو ضمیر استعمال ہوئی ہے وہ جمع مذکر کی ضمیر ہے«عنکم،یطھرکم»اس بنا پر ازواج پیغمبر اکرم(ص)کو اس کا مصداق نہیں قرار دیا جا سکتاہے لیکن شیعوں کے نظریہ پر اس کی تطبیق ممکن ہے کیونکہ جناب فاطمہ زہرا(س)اس کے علاوہ تمام اہل بیت(ع) «حضرت علی(ع)،امام حسن(ع) اور امام حسین(ع)»۔مرد ہیں اور کیونکہ مردوں کی تعداد کی اکثریت ہے اس لئے ادبی لحاظ سے مذکر کی ضمیر استعمال کرنا صحیح ہے۔
۳۔آیت تطہیر کی شان نزول کے بارے میں جو حدیثیں نقل ہوئی ہیں انہوں نے اس کا مصداق صرف اورصرف حضرت علی(ع)،جناب فاطمہ زہرا (ع)،امام حسن(ع) اور امام حسین (ع) کو ہی قرار دیا ہے کیونکہ جب آنحضرت(ص) کی قابل احترام زوجہ جناب ام سلمہ نے آپ سے یہ دریافت کیا کہ کیا میں بھی اہل بیت(ع)میں شامل ہوں اور آیت تطہیر کاحکم میرے لئے بھی ہے یا نہیں؟تو پیغمبر اکرم(ص) نے ان کو یہ جواب دیا:«انک الٰی خیر»تم خیر کے راستہ پرہو۔(6)،لیکن آنحضرت(ص) نے انہیں اہل بیت(ع) میں شامل نہیں کیا۔
صحیح مسلم میں جناب عائشہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول خدا(ص) سیاہ دھاگوں سے بنی ہوئی عبا اوڑھے ہوئے تھے،آپ(ص) نے حسن وحسین اور فاطمہ وعلی کو اس کے اندر لے کر کہا:«إِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیراً»۔(7)
آیت تطہیر رسول خدا(ص) جناب فاطمہ(ع) آپ کے بیٹوں اور آپ کے شوہر نامدارکے بارے میں نازل ہوئی ہے،اس سلسلہ میں بکثرت(سترسے زیادہ)حدیثیں موجود ہیں جن میں سے تقریباً چالیس حدیثیں اہل سنت نے ام سلمہ،عائشہ،ابوسعید خدری،ابن عباس، عبد اللہ بن جعفر ،وائلہ بن اسقع ،حضرت علی(ع)، حضرت امام حسن(ع) اور دوسرے لوگوں سے روایت کی ہیں۔
اور شیعہ کتب حدیث میں حضرت علی(ع)، امام زین العابدین(ع)،امام محمد باقر(ع)امام جعفر صادق (ع) اور امام رضا(ع)، جناب ابوذر،ابولیلی،ابو الاسود دوئلی اور دوسرے حضرات سے تیس سے زیادہ روایتیں نقل ہوئی ہیں۔(8)     
ایک اعتراض کاجواب
جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ آیت تطہیر میں ارادۂ تکوینی مراد ہے اور ارادۂ تکوینی کا پورا ہونا قطعی اور حتمی ہے اس لئے ہر قسم کی برائی اور رجس سے اہل بیت(ع) کی طہارت بھی قطعی چیز ہے تو اس مقام پر یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ کیا اہل بیت(ع) کی غیر اختیاری عصمت ان کے مختار ہونے کے منافی نہیں ہے؟یا دوسرے الفاظ میں یوں کہاجائے کہ آیت تطیہر سے اہل بیت اطہار (ع) کا اپنے افعال میں مجبور ہونے کا شبہہ پیدا ہوتاہے۔
اس کا جواب:یہ ہے کہ اس ارادۂ تکوینی کا مطلب عصمت اور گناہوں سے محفوظ رہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور گناہوں سے محفوظ رہنا فعل کے اختیاری ہونے کے منافی نہیں ہے،کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں اور یہ اسباب خدا وندعالم نے معصومین(ع) کو عطا کئے ہیں اور یہ حضرات خدا وندعالم کی عظمت کے بارے میں مکمل علم رکھتے ہیں اور دوسری جانب گناہوں کے مہلک اثرات سے بھی کما حقہ  واقف ہیں۔
اس مخصوص علم کے نتیجہ میں ہی یہ حضرات طاعت اور ترک گناہ کا قطعی ارادہ کرتے ہیں اور جس کا مطلب گناہ سے عصمت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اب اس میں کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ مخصوص علم ابتداء سے ہی کچھ لوگوں کو عطا کر دیا جائے یعنی یہ ان پر ایک قسم کی خاص عنایت ہو یا یہ کہ ایک مدت گذرنے کے بعد کچھ اعمال کے بدلے یہ علم عطا کیاجائے یعنی یہ علم اکتسابی ہو،اہم بات یہ ہے کہ عصمت سے معصوم کی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی،اور انسان ہی رہتا ہے اورکیونکہ انسان ہے اس لئے اس سے گناہ کا ارتکاب ہونا ممکن ہے،لیکن عصمت کی بنا پر ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔
کسی حد تک یہ بات ان حضرات کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے جو تقوے کی اعلٰی منزل پر فائز ہیں مثلاً کوئی متقی وپرہیزگار کبھی بھی کسی کو جان بوجھ کر، ناحق قتل نہیں کرتا وہ اس گناہ سے معصوم ہے یعنی اس کا تقوٰی اس کے لئے اس فعل سے مانع ہو جاتا ہے، جب کہ ایک انسان ہونے کے اعتبار سے اس سے یہ گناہ سرزد ہونا ممکن ہے۔
اسی طرح ماں باپ عام حالات میں اپنی اولاد کو کبھی بھی قتل نہیں کر سکتے ہیں اگر چہ ایک انسان ہونے کے اعتبار سے ان کے اندر اس کی صلاحیت موجود ہے لیکن باپ اور ماں کی ممتا ان کے لئے اس حد تک رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ اس کا تصور بھی نہیں کرتے ہیں،اسے عملی شکل دینا تو بہت دور کی بات ہے۔(9)
........................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔سورہ احزاب:آیت۳۳۔
2۔سورہ مائدہ:آیت۶۔
3۔سورہ توبہ:آیت۱۰۳۔
4۔سورہ انسان:آیت۳۔
5۔سورہ یٰس:آیت۸۲۔
6۔اسباب نزول،ص۲۳۹۔
7۔صحیح مسلم،ج ۲۴،ص ۱۸۸۳،کتاب فضائل الصحابة،باب۹۔
8۔آیت تطہیر کے سلسلہ میں مزید معلومات کے لئے تفسیر تبیان،ج ۸،ص۳۴۰،مجمع البیان،ج۴،ص۳۵۷،المیزان فی تفسیر القرآن،ج۱۶، ص۳۰۹ تا ۳۱۳ ،اور علامہ مرتضٰی عسکری کی کتاب حدیث کساء،(ترجمہ:سید کمیل اصغر زیدی)یا آیۃ اللہ شیخ محمد مہدی آصفی کی کتاب آیۂ تطہیر ملاحظہ فرمائیں۔
9۔اس سلسلہ میں تفسیر المیزان،ج۱۱،ص۱۶۳،اور کتاب«الکلام المقارن»، ص۲۵۹،ملاحظہ فرمائیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23