Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184215
Published : 17/11/2016 15:46

الٹا چور توکوال کو ڈانٹے

اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے نے کہا ہے کہ دہشت گردی برآمد کرنے والی حکومتوں کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کا الزام ، مضحکہ خیز ہے-



ولایت پورٹل:اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے غلام علی خوشرو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام متحدہ عرب امارات سمیت گیارہ عرب ممالک کے حالیہ خط کے جواب میں اپنے خط میں لکھا ہے کہ نہایت مضحکہ خیز ہے کہ عراق اور شام میں انتہاپسندی اور تکفیریت برآمد کرنے والے ممالک اب ایران پردہشت گردی کی حمایت کا الزام  لگا رہے ہیں،غلام علی خوشرو نے  اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام اپنے جوابی خط میں ایران پر عائد ان عرب ممالک کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ان  کے  اس خط کو دستاویز کے طور پر شائع کیا جائے- غلام علی خوشرو نے لکھا ہے کہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ خط لکھنے والے جو ممالک ایران پر دوسرے ممالک میں مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں ، وہی یمن کے بے گناہ عوام پر بمباری کررہے ہیں اور انھوں نے دوغلے پن کی انتہا کردی ہے،غلام علی خوشرو نے کہا کہ ان ممالک کی جانب سے ایران پر دہشت گردی کی حمایت کا بے بنیاد الزام عائد کرنے کی وجہ بھی ان الزامات کی بچکانہ پیروی ہے جو دوسری طاقتیں تہران کی جانب سے فلسطینی عوام اوران کے کاز کی حمایت کی بنا پرلگاتی ہیں ،قوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بحرین کے امور میں ایران کی مداخلت کا الزام بھی بے بنیاد ہے کہا کہ بحرین کے خود مختار کمیشن کی رپورٹ میں بھی بحرین میں ایران کی جانب سے ہرطرح کی مداخلت کو پوری طرح مسترد کیا گیا ہے- غلام علی خوشرو نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے شامی فوجیوں کی مشورے کی حد تک مدد بھی ، شام کی قانونی حکومت کی درخواست پر، بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں اور اقوام متحدہ کی اکانویں شق کے مطابق انجام پا رہی ہے،غلام علی خوشرو نے کہا کہ اگر ایران اور دیگر ممالک شامی حکومت کی مدد نہ کرتے تو خط پر دستخط کرنے والے ممالک کے حمایت یافتہ جرائم پیشہ تکفیری دہشت گرد گروہ اب تک شام پر مسلط ہو چکے ہوتے اور پورے شام نیز مشرق وسطی کے دیگر علاقوں پر اپنا کالا جھنڈا لہرا چکے ہوتے-
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22