Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184230
Published : 17/11/2016 18:36

اربعین کے موقع پرپیدل کربلا جانے کا ثواب

آج کے د ن سید الشہداء(ع) کو چالیس دن پورے ہوئے ہیں،آج کے دن سن ۶۱ ہجری میں صحابی پیغمبر(ص) جناب جابر بن عبد ﷲ انصاری نے شہادت امام حسین کے بعد پہلی مرتبہ آپکی قبر مطہر کی زیارت کی اس واقعہ کو گزرے ہوئے 1376 سال ہوگئے ہیں،مگر ان سالوں میں بھی علماء اور اولیاء الہی چہلم کے دن امام مظلوم کی قبر اطہر کی زیارت کے لئے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے.


ولایت پورٹل:
اربعین یا چالیس ایک ایسا عدد ہے جو بڑی خصوصیتوں کاحامل ہے مثلاً زیادہ تر انبیاء(ع) چالیس سال کی عمر میں مبعوث بہ رسالت ہوئے، موسیٰ (ع) اور خدا کی خصوصی ملاقات چالیس شب قرار پائی،نماز شب میں بھی چالیس مؤمنین کے لئے دعا کی بھی سفارش کی گئی ہے، ہمسایوں کے احکام میں چالیس گھروں تک کو شامل کیا گیا ہے۔
روایتوں میں ہے کہ پہاڑ،زمین جہاں کہ کسی نبی،ولی یا کسی دیگر بندہ مؤمن نے عبادت کی ہے، انکے مرنے کے بعد چالیس دن تک زمین اس پر روتی ہے،یا لکھا گیا ہے کہ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد چالیس دن تک زمین وآسمان خون کے آنسو روتے رہے وغیرہ وغیرہ۔
بہر حال یہاں ہمارا مقصد ایک ایسے حیات بخش نسخے کی فضیلت بیان کرنا ہے جو 40 کے عدد سے انسانی معاشروں میں مشہور ہے، اور وہ ہے امام حسین (ع) کی پیدل اربعین کے موقع پر کربلا کی زیارت۔
آج کے د ن سید الشہداء(ع) کو چالیس دن پورے ہوئے ہیں،آج کے دن سن ۶۱ ہجری میں صحابی پیغمبر(ص) جناب جابر بن عبد ﷲ انصاری نے شہادت امام حسین کے بعد پہلی مرتبہ آپکی قبر مطہر کی زیارت کی  اس واقعہ کو گزرے ہوئے 1376 سال ہوگئے ہیں،مگر  ان سالوں میں بھی علماء اور اولیاء الہی چہلم کے دن امام مظلوم کی قبر اطہر کی زیارت کے لئے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے اور نجف اشرف سے کربلا تک پیدل سفر کیا کرتے تھے،اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ جابر بن عبد اللہ انصاری امام مظلوم کی قبر مطہر کے سب سے پہلے زائر رہے ہیں مگر یہ سنت حسنہ سالہا سال ائمہ معصومیں (ع) کے زمانہ میں بھی اموی اور عباسی حکومتوں کے مظالم کے باوجود جاری و ساری رہی ہے۔
شیخ انصاری اور اسکے بعد چہلم میں پیدل چلنے کی روایت
بعض تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ کربلا کا پاپیادہ سفر شیخ انصاری (وفات: 1281 ہجری) کے زمانے میں رائج تھا لیکن اس کے بعد یہ روایت برسوں تک متوقف ہو گئ اور لوگ اس سنت حسنہ کو بھول گئے،آخرکار شیخ مرزا حسین نوری کے توسط سے اس کا از سر نو احیاء ہوا،اس بزرگ عالم دین نے پہلی بار عید الاضحی کے موقع پر نجف سے کربلا تک پیدل سفر کیا، تین دن چلتے رہے اور تقریباً تیس اور لوگوں بھی اِس سفر میں ان کے ہمراہ تھے،اس کے بعد «محدث نوری» نے ہر سال یہ سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا،آخری بار وہ سن 1319 ہجری میں امام حسین علیہ السلام کے حرم مقدس کی پیدل زیارت کی۔
سید الشہداء علیہ السلام کی پیدل زیارت کا ثواب:
امام صادق علیہ السلام سے ایک  روایت نقل ہوئی ہے  جو نہایت خوبی سے اس موضوع کے پوشیدہ پہلوؤں کو آشکار کرنے کے لئے کافی ہے،امام صادق علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے پاپیادہ سفر کے بارے میں فرماتے ہیں:«جو شخص بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے پیدل سفر کرتا ہے،خدا اس کے ہر قدم کے بدلے اس کے لئے ایک حسنہ لکھتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے اور اس کا ایک رتبہ بڑھا دیتا ہے،جب وہ زیارت کے لئے جاتا ہے تو حق تعالی دو فرشتوں کو مقرر فرماتا ہے تاکہ اس کے منھ سے خارج ہونے والا ہر خیر تحریر کریں اور جو بھی شر اور برائی ہو، اسے ضبط تحریر میں نہ لائیں اور لوٹتے وقت اسے الوداع کرتے ہوئے کہتے ہیں:«اے خدا کے ولی! تیرے گناہ بخش دیے جاچکے ہیں اور تو حزب اللہ، حزب رسول الله(ص) اور حزب اہل بیت علیہم السلام میں شامل ہوچکا ہے،خدا کی قسم! تو کبھی (جہنم کی) آگ نہیں دیکھے گا نہ (جہنم کی) آگ کبھی تجھے دیکھ سکے گی اور نہ تجھے اپنا لقمہ بنا سکے گی۔(۱)
....................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ:
۱۔کامل الزیارات، ص ۱۳۴۔
welayatnet


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14