Friday - 2018 Dec 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184232
Published : 17/11/2016 19:24

زندان شام میں جناب سکینہ(س) کی شہادت

جناب سکینہ(س): اے کوفیوں! تمہارے لیے ہلاکت ہے، رسول اللہ(ص) نے تمہارے ساتھ کیا برا کیا تھا جس کے بدلے میں تم نے اس کے بھائی اور میرے دادا علی ابن ابی طالب (ع) کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا اور اس کی پاک عزت کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا؟ ہمارے مردوں کو قتل اور ہمیں قیدی بنا کر تم فخر کرتے ہو کیا یہ امت اس پاک گھرانے کے قتل پر فخر محسوس کرتی ہے جسے اللہ نے پاک و پاکیزہ بنایا اورجس سے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا ؟


ولایت پورٹل:
جناب سکینہ(س) بنت الحسین(ع) کی زندان شام میں شہادت تاقیام قیامت یزیدیت کے منہ پر طمانچہ ہے،یزید لعین کا ظلم صرف کربلا میں جاری نہیں رہا بلکہ سن ۶۱ سے  سن ۶۴ ہجری تک یزید نے وہ ظلم کئے کہ منجنیق سے خانہ کعبہ و مسجد نبوی بر پتھر برسا کر حرمت کعبہ کو پامال کیا، اور واقعہ کربلا کے بعد محمد (ص) و آل محمد (ص) کے گھرانے اہلبیت اطہار(ع) کے خواتین و بچوں کو بے کجاوہ اونٹوں پر سوار کرکے ہاتھ پاؤں باندھ کر،اسیر  بنا کر شام و کوفہ کے بازاروں میں پھرا کر قید کردیا گیا،ان اذیتوں سے درجنوں کمسن بچے شہید ہوئے جن میں سے ایک امام حسین (س) کی چار سالہ کمسن  بیٹی جناب سکینہ(س) بھی ہیں کہ جن کی شہادت زندان شام میں ہوئی،حق کی راہ میں ہر سن و عمر کے افراد حتی کہ کمسن بچوں و بچیوں تک نے قربانیاں دی ہیں،اگر ایک طرف میدان کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے چھ ماہ کے شیر خوار فرزند علی اصغر(ع) نے یزیدی فوج کے مقابل اپنے امام کی اطاعت میں شہادت کا نذرانہ پیش کیا،تو دوسری طرف امام حسین (ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین(ع) نے دمشق و کوفہ کے بازاروں و زندانوں اور درباروں میں حق کی خاطر قربانیاں دے کر آخر کار تیرہ صفر المظفر  یا بعض روایات کے مطابق 10 یا 11 صفر المظفر 62 ہجری میں زندان دمشق کے خرابہ میں جام شہادت نوش کیا، بی بی سکینہ بنت حسین (ع) امام علی (ع) کی پوتی اور امام حسین (ع) کی لاڈلی بیٹی فاطمہ بنت الحسین (ع) جو تاریخ میں سیدہ سکینہ (ع) کے نام سے معروف ہیں اور جن کا سن مبارک صرف ۴ برس  تھا،جب یزید تخت حکومت پر آیا تو اس نے کربلا میں خاندان عصمت و طہارات اہل بیت آل محمد (ص) کو شہید کیا تو صرف ان کی شہادت پر اکتفا نہ کیا بلکہ محمد و آل محمد (ع) کےمخدرات عصمت و طہارت پاک بیبیوں حتی کہ یتیم بچوں و بچیوں کو دس محرم کے بعد قیدی بنا کر بے کجاوہ اونٹوں کے ذریعے اپنے پایہ تخت دمشق و کوفہ کے بازاروں و درباروں تک بلایا ،اور یہ پروپیگنڈہ تک کروایا گیا کہ نعوذ باللہ ان ان لوگوں  نے خلیفۃ المسلمین یزید ابن معاویہ کے خلاف بغاوت کی تھی، اگر کوئی اس طرح کرے گا تو اس کا بھی یہی انجام ہو گا،شاید یزید کو معلوم نہ تھا کہ خاندان رسالت اور عصمت و طہارت کی خواتین و بچے ہوں یہ سب مفسر قرآن ہیں،رسول (ص) اور علی (ع) کی تربیت کی وجہ سے اپنے خطبات کے ذریعے بازاروں و درباروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہیں اور ایسا ہوا بھی، علی (ع) کی بیٹی زینب سلام اللہ و بی بی ام کلثوم اور امام حسین(ع) کی کمسن بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین (ع) نے اپنے کردار و خطبات کے ذریعے یزید اور یزیدیت کو تاقیامت لعنت کا حقدار بناکر ،ہمیشہ کے لئے باطل کی علامت قرار دیدیا،اس کا ذکر حکیم الامت علامہ اقبال نے بھی یوں کیا:
حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق
یکی حسین  رقم کرد و دیگری زینب
جناب سکینہ بنت حسین(ع) نے کوفہ میں ایک ایسا عظیم خطبہ ارشاد فرمایا کہ اہل کوفہ آپ (ع) کی بلاغت و فصاحت پر دنگ رہ گئے اس خطبہ نے لوگوں کے دلوں کو کاٹ ڈالا اور لوگ غم کے سمندر میں غوطہ زن ہو گئے اس خطبہ کا لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر پڑا اور ان کو احساس ہوا کہ ان سے کتنا عظیم گناہ سرزد ہوا ہے۔
حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا کے خطبے کا متن کچھ یوں ہے۔«حمد ہے اللہ کی ریت کے ذروں اور سنگریزوں کے برابر ،عرش کے وزن سے لے کر زمین تک میں اس کی حمد بجا لاتی ہوں،اس پر بھروسہ کرتی ہوں ،گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ یکتا ہے اسکا کوئی شریک نہیں اور محمد (ص) اللہ کے عبد اور رسول ہیں اور آپ (ص) کی طاہر اولاد کو فرات کے کنارے پیاسا ذبح کر دیا گیا۔ اے اللہ ! تو نے اپنی مخلوق سے علی ابن ابی طالب (ع) کی ولایت کا عہد لیا اور ان کو اس عہد کی وصیت کی لیکن مخلوق نے تیرا یہ عہد توڑ ڈالا اور آپ (ع) (امیرالمؤمنین(ع)) کے حق کو غصب کر لیا گیا اور آپ (ع) کو شہید کر دیا جیسے کل ان کے بیٹے (حسین(ع) کو شہید کیا گیا،اے اللہ تو جانتا ہے کہ میرے دادا (ع) کو تیرے گھر میں شہید کیا گیا جس میں دیگر مسلمان بھی موجود تھے اور انہوں نے اپنی زبانوں سے ان کی مظلومی کا اقرار کیا ان پر ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا لیکن انہوں نے تیری خاطر صبر سے کام لیا اور وہ اس حال میں دنیا سے گئے کہ ان کی حمد بیان کی گئی اور ان کے فضائل و مناقب ہر جا معروف ہیں اور کوئی بھی ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکا،اے اللہ! میرا سن بہت چھوٹا ہے اور میرے دادا کے مناقب بہت عظیم ہیں، میں اس پر ان کی تعریف کرتی ہوں، اے اللہ! تو جانتا ہے میرے دادا نے ہمیشہ تیری توحید اور تیرے رسول(ص) کی حفاظت کی اور آپ کو دنیا سے کوئی غرض نہ تھی،آپ نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تونے ان کو چن لیا اور اپنی صراط مستقیم قرار دیا،اے کوفیوں! اے مکروفریب اور دھوکہ دینے والوں! اللہ نے ہم اہل بیت (ع) کے ذریعے تمہارا امتحان لیا اور تم کو ہمارے ذریعے آزمایا اور ہماری آزمائش کو حسن قرار دیا،اللہ نے اپنا علم ہمیں ودیعت فرمایا، ہم اس کے علم کے امانتدار ہیں اور ہم ہی اللہ کی حکمت کے مخزن ہیں اور ہم ہی آسمان و زمین پر اللہ کی حجت ہیں اللہ نے ہمیں اپنی کرامت سے شرف بخشا اور ہمیں ہمارے جد محمد (ص) کے ذریعے اپنی ساری مخلوق پر فضلیت بخشی، تم نے ہمیں جھٹلا کر اللہ سے کفر کیا اور تم نے ہمارا قتل حلال جانا اور ہمارے مال کو لوٹا گویا ہم اولاد رسول نہیں، کہیں اور کے رہنے والے ہیں اور جس طرح کل تم لوگوں نے ہمارے دادا کو قتل کیا تھا تمہاری تلواروں سے ہمارا خون ٹپکا رہاہے کیونکہ تمہارے سینوں میں ہمارا بغض و کینہ بہت عرصے سے پرورش پا رہا تھا تم نے ہمیں قتل کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی اور تمہارے دل خوش ہوئے تم نے اللہ پر افتراء باندھا اور خود فریب کھایا،اللہ فریب کرنے والوں کے فریب کو ناکام بنانے والا ہے تم نے جو ہمارا خون بہایا ہے اس سے اپنے نفسوں کو خوش نہ کرو اور جو تم نے ہمارا مال لوٹا ہے اس سے بھی تمہیں کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ ہمیں جو مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے یہ اللہ کی محکم کتاب میں پہلے سے ہی مذکور تھا، ہم پر ظلم و ستم ڈھا کر خوش نہ ہوں، بےشک اللہ تکبر اور غرور کرنے والوں پر لعنت کرتا ہے،تمہارے لیے ہلاکت ہو عنقریب تم پر لعنت اور عذاب نازل ہو گا اور وہ تمہارا مقدر بن گیا ہے اور آسمان سے کثرت کے ساتھ تم پر عذاب آئیں گے اور تم عذاب عظیم دیکھو گے اور سختی کا تلخ ذائقہ چکھو گے اللہ کی ظالمین پر لعنت ہو»۔
لوگوں کے دلوں میں اس خطاب کا گہرا اثر ہوا جس سے لوگوں کے دل جلنے لگے اور فریاد بلند کی،اے طاہرین کی بیٹی! خدارا اپنے کلام کو روک لیجئے آپ نے ہمارے دلوں میں آگ لگا دی اور ہماری سانسیں ہمارے حلق میں اٹک گئی ہیں حتی کہ اس مجمع میں موجود بعض افراد نے یزید ملعون اور اس کی افواج کے خلاف علم جہاد اٹھا کر جام شہادت نوش کیا۔
ابنا


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Dec 14