Tuesday - 2018 july 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184233
Published : 17/11/2016 19:43

کیا انسان گناہوں کے سبب،مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے؟

زندگی میں ہمیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ہمارے سرکردہ گناہوں کی بدولت ہوتی ہیں حتی کہ اگر ہم چلتے ہوۓ زمین پر بھی گر جاتے ہیں، وہ بھی روایات کے مطابق ہمارے کیۓ ہوۓ گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل:
زندگی میں ہمیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ ہمارے سرکردہ گناہوں کی بدولت ہوتی ہیں حتی کہ اگر ہم چلتے ہوۓ زمین پر بھی گر جاتے ہیں، وہ بھی روایات کے مطابق ہمارے کیۓ ہوۓ گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
خدا کے غضب کے معنی ؟
قرآن مجید میں 19 بار «غَضِبَ»کا لفظ آیا ہے اور اسی طرح خدا کے غصّے کو «سَخِطَ» سے ظاہر کیا گیا ہے اور ایک بار «آسَفُونَا»کے جملے سے بیان کیا گیا ہے،
خدا کا غضب،خدا کی فعلی صفت ہے ،ذاتی صفت نہیں،خدا کی ذاتی صفات مثلا  علم ، حیات قدرت،وغیرہ ہیں لیکن خدا کا غضہ خدا کی صفات فعل میں سے  ہے  یعنی خدا  کی طرف سے ہے ۔
کونسی چیز خدا کے غصے کا باعث بنتی ہے ؟
اگر کوئی شخص گناہ کا مرتکب ہو اور وہ اپنے گناہوں سے توبہ نہ کرے تو وہ جسارت  پر خدا کی ناراضگی مول لے لیتا ہے،پس جس شخص نے جس مقدار میں گناہ کیے  ہیں،اسی اندازے کے مطابق اسے اللہ تعالی کی ناراضگی کا سامنا کرنا ہوگا،اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ خدا کے غصے سے بچا رہے تو اسے چاہیۓکہ وہ ایسے کام ہی نہ کرے جس سے اللہ تعالی ناراض ہو،ہم زندگی میں جس مشکل کا بھی شکار ہوتے ہیں وہ کسی ایسے گناہ کے سبب پیش آتی ہے  جسے ہم پہلے انجام دیتے ہیں ،روایات کے مطابق تو یہاں تک بھی بیان گیا ہے کہ  انسان کو آنے والی چھوٹی سے چھوٹی مصیبت یعنی کوئی خراش یا ہلکا سا زمین پر گرنا بھی گناہوں کے اثرات کی وجہ سے ہوتا ہے۔
خداوند عالم  اپنے بندوں کو گناہوں سے معافی مانگنے کے بہت سے مواقع دیتا ہے،اس لیۓ ضروری ہے کہ خدا سے ہر لمحے دعا مانگتے رہنا چاہیۓ،کسی بھی طرح کی دعا کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیۓ، خداوند عالم نے اپنے ولی اور دوست، اپنے بندوں کے درمیان ہی پوشیدہ کیے ہوۓ ہیں جنہیں ظاہری حالت سے نہیں پہنچانا جا سکتا۔
تبیان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 july 17