Monday - 2018 july 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184242
Published : 19/11/2016 17:27

اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(2)

ہر زمانے میں ایک ہستی ایسی ضرور موجود رہی ہے کہ جو گناہ اور خطا سے معصوم ہو اس بناپر حدیث ثقلین امام زمانہ (ع) کے وجودکی دلیل بھی ہے کیونکہ پیغمبر اکرم(ص)کے اہل بیت(ع)میں ان کے علاوہ کوئی اور معصوم نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ مضمون میں اہل بیت طاہرین(ع) کی پیروری اور اتباع کے وجوب پر آیت تطھیر کو بطور سند پیش کیا تھا اور اس کے متعلق علماء کے اقوال بھی قارئین کی خدمت میں پیش کئے تھے آج اسی سلسلے کی دوسری بحث ہے کہ جس میں ہم حدیث ثقلین کے متعلق گفتگو کررہے ہیں لہذا پچھلی بحث سے مرتبط ہونے کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کیجئے!
اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(1)
۲۔حدیث ثقلین
حدیث ثقلین متواتر حدیث ہے جسے شیعہ اور سنی دونوں علماء نے پیغمبر اکرم(ص)سے نقل  کیا ہے حدیث کا متن یہ ہے:«یا ایھا الناس انی تارک فیکم الثقلین،کتاب اللہ وعترتی،اهلبیتی ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی ابداً وانھما لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض فانظروا کیف تخلفونی فیھما»۔(۱)
ترجمہ:اے لوگو!میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑرہا ہوں ،اللہ کی کتاب اور اپنی عترت اہل بیت(ع) جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے میرے بعد کبھی بھی گمراہ نہ ہونگے ،اور یہ دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں، لہٰذا یہ دھیان رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیساسلوک کرتے ہو۔
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ حدیث ثقلین کی سند میں کوئی شبیہ نہیں ہے اور یہ حدیث آنحضرت (ص) کے تیس سے زیادہ صحابیوں سے منقول ہے۔(۲)
حدیث ثقلین سے مندرجہ ذیل باتوں کا استفادہ ہوتا ہے:
۱۔دینی احکام میں پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت(ع) کی اطاعت وپیروی واجب ہے اور تمام علمی مسائل میں وہی مرجع ہیں کیونکہ کتاب وسنت سے تمسک کا مطلب ان کی پیروی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جیسا کہ علمائے اہل سنت نے بھی اس کو قبول کیا ہے سعد الدین تفتازانی کا کہنا ہے:«الاتری انه علیه السلام ترنھم بکتاب الله تعالیٰ فی کون التمسک بھما عن الضلالة ولا معنی للتمسک بالکتاب الا الاخذ بمافیه من العلم والھدایة فکذا فی العترة»۔(۳)
ترجمہ:کیا تمہیں نہیں دکھائی دے رہا ہے کہ آنحضرت(ص) نے ان کو کتاب الٰہی کا قرین اور ساتھی قرار دیا ہے کہ ان دونوں سے وابستگی گمراہی سے نجات دینے والی ہے اور کتاب خد ا سے تمسک کے معنی اس کے علم اور ہدایت پر عمل کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے یہی حال عترت کا بھی ہے۔
۲۔پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت(ع) ہر قسم کی خطا اور غلطی سے معصوم ہیں کیونکہ:
الف :آپ(ص) نے اہل بیت (ص) کو قرآن مجید کے برابر قرار دیا ہے،لہٰذا جس طرح قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور بطلان سے محفوظ ہے اسی طرح اہل بیت (ع) پیغمبر(ص) بھی معصوم ہیں۔
ب:دوسرے یہ کہ آپ نے ان سے تمسک اختیار کرنے کے بارے میں کسی قسم کی قیدیاشرط نہیں لگائی ہے اور اس کو قرآن مجید سے تمسک کی طرح گمراہی سے مانع قرار دیا ہے اور یہ طے ہے کہ اگر اہل بیت(ع) کے یہاں کسی قسم کی گمراہی کا امکان ہوتا تو پھر مطلق طور پران سے وابستگی اور تمسک گمراہی سے مانع نہیں ہو سکتی تھی۔
تیسرے یہ کہ وہ قرآن مجید سے ہر گز جدا نہیں ہوں گے کیونکہ قرآن مجید میں کسی قسم کا انحراف  نہیں ہے لہٰذا اہل بیت (ع) میں بھی کسی قسم کا انحراف نہیں ہو سکتا ہے۔
۳۔ہر زمانہ میں ایک معصوم کا وجود ضروری ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ عترت کبھی بھی قرآن سے جدا نہ ہوگی اور قرآن مجید بھی کبھی ان سے جدا نہیں ہوگا۔
لہٰذا ہر زمانے میں ایک ہستی ضرور موجود رہی ہے جو گناہ اور خطا سے معصوم ہو اس بناپر حدیث ثقلین امام زمانہ (ع) کے وجودکی دلیل بھی ہے کیونکہ پیغمبر اکرم(ص)کے اہل بیت(ع)میں ان کے علاوہ کوئی اور معصوم نہیں ہے۔(4)
اہل بیت پیغمبر(ص) کی عصمت کے ساتھ ساتھ ان کی دینی مرجعیت وقیادت پر بھی حدیث ثقلین کی دلالت بالکل واضح ہے کیونکہ اہل بیت(ص) سے تمسک کو قرآن سے تمسک کی طرح گمراہی سے نجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا جس طرح قرآن کریم ہر طرح کے انحراف اور خطا سے محفوظ ہے «لاَیَأْتِیه الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْهِ وَلاَمِنْ خَلْفِه»ـ(5)،اسی طرح اہل بیت (ع) کا قول ،فعل بھی ہر قسم کی غلطی اورانحراف سے محفوظ ہے ،دوسری جانب ان دونوں کا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت تک قرآن مجید  کے ساتھ اہل بیت (ع) کے فرمان پر بھی عمل ضروری ہے ،یعنی اہل بیت طاہرین (ع)میں سے ہمیشہ ایک معصوم رہبر کی ضرورت ہے ،اور یہ خصوصیت شیعوں کے اماموں کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی ہے کیونکہ اہل بیت(ع) کے علاوہ پیغمبر اکرم  (ص) کے گھرانے میں(جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا)کوچھوڑ کر کسی کے لئے عصمت کا دعوی نہیں کیا گیا ہے۔
...............................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔ یہ حدیث مختلف عبارتوں میں نقل ہوئی ہے مذکورہ عبارت مشہور روایت ہے۔
2۔اس حدیث کی سند اوراس کے راویوں کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے  عبقات الانوار،ج 1 اور 2، نیز  کتاب المراجعات کا اردو ترجمہ (دین حق )ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔
3۔شرح المقاصد،ج۵،ص۳۰۳ ،منشورات شریف رضی ،قم۔
4۔نفحات الازھار فی خلاصة عبقات الانوار ،ج۲،ص 247 ۔۲۶۹۔
5۔ سورہ فصلت:آیت۴۲۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 july 16