Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184246
Published : 19/11/2016 18:51

جنت البقیع تاریخ کے پس منظر میں

پہلے ان قبروں پر منار اور ضریح ہوتی تھی لیکن اب کھلے آسمان کے نیچے ان پر صرف ایک پتھر کو علامت کے عنوان سے رکھا ہوا ہے کچھ مؤمنین اور تشنہ زیارت کے لئے ابھی کچھ قبریں ہیں ورنہ ، نہ جانے ان وہابیوں نے کتنی قبروں کو زمیں بوس کردیا ،جب بھی کسی مسلمان کی نظروں کے سامنے وہ دلخراش منظر آجاتا ہے کہ جس وقت بنت نبی(ص) کی قبر مطہر سے روضہ اور گنبد کو توڑا گیا تھا تو پورے جسم میں ایک لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے جزبہ انتقام کی لہر دل و ماغ کو ٹہوکے دینے لگتی ہے کہ اے کاش !یہ سانحہ نہ ہوا ہوتا ؟اے کاش!مدینہ میں ایک بار پھر بنت نبی کے گھر کے چراغ نہ بجھائے جاتے؟اے کاش! یہ زمین کیوں نہ پھٹ گئی ؟اس آسمان نےخون کے آنسو کیوں نہ برسائے۔


ولایت پورٹل:
خداوند عالم  نے انبیاء(ع)اور اوصیاء(ع) کو اپنے نور سے خلق فرمایا اور انھیں اپنے اسرار کا رازداں،اور اپنی میراث علم و حکمت کا ورثہ دار بنایا تاکہ زمانے میں اٹھنے والی   ظلم و استبداد اور جہالت  کی آندھیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں  اورتمام امور پر مطلع کیا تاکہ  امت کی کشتی کسی بھنور میں نہ پھنس جائے اور اس  کے  سوار  ساحل مراد تک پہونچ  سکیں  بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ انھیں مشعل راہ بنایا تاکہ دنیا کے کسی بھی بشر کے لئے منزل مقصود  وبال جان نہ بن جائے اور راہ راست تک پہونچنا کوئی دشوار امر نہ ہوجائے کہ جس کے لئے وہ اپنے خالق سے دور ہی رہے اور لذت قرب الٰہی کو چکھ نہ سکیں۔
لہٰذا اس نے ان ہستیوں کو اپنے کمالات کا مظہر بنا کر بھیجا  اور یہ افراد اس دنیاوی حیات سے  ظاہری طور پردہ  اختیار کرنے کے بعد بھی آسمان ہدایت پر آفتاب بن کر اپنی ضیاء پاشی کرتے رہے اور اس کائنات کو اپنے الٰہی اور ایمانی نور  سے منور کرتے رہے جس کے نتیجہ میں  ہر دور کا ظالم ان کے آثار،تبرکات اور یادگار چیزوں سے حراساں رہا،چونکہ میراث انبیاء(ع) اور  اوصیاء(ع)،اپنے دامن میں قوموں کے عروج و زوال پر مشتمل ایک تاریخ رکھتی ہے جس کے ذریعہ ہر انسان کی عقل اسے  یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ یہ افراد کیا ہوئے ؟،کیوں اللہ نے کسی قوم کی تقدیر کا فیصلہ ان کے ہاتھوں میں دیا ؟، اور ان کی قوم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ ،اور اس کے نتیجہ میں کس طرح عذاب الٰہی کا نوالہ بنے ؟،غرض بیداری اور شعور کا ایک گہرا سمندر  اپنے دامن میں سموئے  ہوئے ہیں،اسی وجہ سے خداوندعالم نے بھی قرآن مجید میں متعدد مقامات پر ان سب کو اپنی آیات کہہ کر تعبیر کیا ہے    
قرآن مجید میں انبیاءو اوصیاء(ع) کے آثار کا تذکرہ
اس جدید دور میں ایک مستقل شعبہ قائم ہوا ہے جس کو محکمہ آثار قدیمہ کا نام دیا جاتا ہے ، ہر ملک اور ہر علاقہ میں موجود آثار قدیمہ کی دیکھ ریکھ اور ان کو ضائع ہونے سے  بچانا اس شعبہ کا اہم اور بنیادی مقصد ہے چنانچہ اس سے متعلق افراد شب و روز سرگرم عمل رہتے ہیں ،اور  اپنے ملک و ملت کی تمام یادگاروں کو محفوظ رکھنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں  اور اپنے بزرگوں کی ان نشانیوں کو آباد رکھ کر ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
لہٰذا قرآن مجید نےبھی انبیاء(ع)،اوصیاء(ع) اور اولیاء کرام کے ان آثار کو باقی رکھا ہے اور اگر قرآنی آیات میں  تتبع کی جائے تو ہم کو دو طرح کے آثار نظر آتے ہیں کبھی کھنڈرات اور ویرانوں کی شکل میں، ﴿کہ جو کسی سرکش قوم اور ظالم و سفاک حکمرانوں کے ظلم و استبداد کی روداد بیان کرتے ہیں ،اور اللہ کی نافرمانی اور اپنے نبی(ع) کے ساتھ کئے ہوئے پیمان اطاعت کو توڑا کہ جس کے  نتیجہ میں  عذاب الٰہی نے انھیں اپنی  چپیٹ میں لے لیا ﴾ اور کبھی صفاو مروہ ،تابوت بنی اسرائیل اور مقام ابراہیم کی صورت زندہ ہیں ،اور صرف اللہ نے ان کو زندہ ہی نہیں رکھا بلکہ لوگوں کو مسلسل پیغام بھی  دیا کہ جاؤ اور ان کو قریب سے دیکھو!لہٰذا ارشاد ہوتاہے:«أَ وَ لَمْ يَسيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كانَ عاقِبَةُ الَّذينَ كانُوا مِنْ قَبْلِهِمْ كانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَ ما كانَ لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ واقٍ»۔(1)
ترجمہ:کیا ان لوگوں  نے زمین میں سیر نہیں کی کہ دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ہے جو ان سے زیادہ زبردست قوت رکھنے والے تھے اور زمین میں آثار کے مالک تھے  پھر خدا نے انھیں ان کے گناہوں کی گرفت میں لے لیا اور اللہ کے مقابلہ میں ان کا کوئی بچانے والا نہیں تھا۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اپنے مخلص اور اطاعت شعار بندوں کی ان علامتوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو بعض  یادگاروں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«إِنَّ الصَّفا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَإِنَّ اللَّهَ شاكِرٌ عَليم»۔(2)
ترجمہ:یقیناً صفا و مروہ یہ دونوں پہاڑیاں اللہ کی عظیم نشانیاں ہیں پس جو بھی حج کرے یا اعمال عمرہ بجا لائے اس کے لئےکوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا بھی طواف کرے ،اور جو مزید خیر کرے گا تو اللہ اس کے اس عمل کا قدردان اور اس سے خوب واقف ہے۔
اور دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:«فيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ مَقامُ إِبْراهيمَ وَ مَنْ دَخَلَهُ كانَ آمِناً وَ لِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطاعَ إِلَيْهِ سَبيلاً وَ مَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعالَمين»۔(3)
ترجمہ:بیشک کعبہ میں اللہ کی واضح نشانیاں ہیں ان میں سے ایک مقام ابراہیم(ع) ہے جو اس میں داخل ہوگیا گویا اس کو امان الٰہی نصیب ہوگئی ،اور لوگوں میں سے جو شخص بھی مستطیع ہے اس پر اللہ کے لئے اس کے گھر  میں جاکر حج کرنا واجب ہے اور اگر کوئی کافر ہوجائے تو اللہ تمام عالمین سے بے نیاز ہے۔
اس کے علاوہ اور بہت سی آیات ہیں جو  آثار انبیاء(ع) کو وضاحت کے ساتھ  بیان کرتی ہیں ،لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ  اللہ تبارک وتعالٰی نے  ان کو کیوں زندہ رکھا ؟اس کا جواب مذکورہ آیات میں غور و فکر کرنے سے حاصل ہوجاتا ہے کہ پروردگارعالم کی غرض ان سب کے باقی رکھنے سے یہ دو چیزیں ہو سکتی ہیں:  
۱۔ عبرت:یعنی  لوگ ان سے  عبرت حاصل کریں ،اور اپنے لئے ان کے اندر وہ نشانیاں تلاش کریں جن کے سبب حق کا راستہ میسر آجائے۔
۲۔انبیاء(ع) اور اوصیاء(ع) کی زحمات کی قدردانی اور عزت افزائی کرنا:جیسا کہ آیت مذکور کے سلسلے میں مفسرین بیان کرتے ہیں کہ:«فیه آیات بینات مقام ابراھیم»،خانہ کعبہ میں بہت ساری نشانیاں ہیں زمزم،صفاء و مروہ،رکن و حطیم ،حجر الاسود،و حجر اسماعیل لیکن ان سب کے درمیان مقام ابراہیم(ع)  کو ایک  امتیاز حاصل ہے چونکہ یہ وہ ایک پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم(ع)  تعمیر کعبہ کے دوران کھڑے ہوکر کعبہ کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے جس کے سبب آپ کے پیروں کے نشان اس پر باقی رہ گئے۔(4)
اگر اس رو سے دیکھا جائے تو  قبرستان جنت البقیع بھی  اللہ کی  اہم نشانیوں میں سے ایک ہے،جس میں وہ ہستیاں آرام فرما  ہیں جنھوں نے شمع رسالت کی پروانہ وار حفاظت کی اور بقاء اسلام کی خاطر اپنی جان و مال ،اولاد اور اعزاء و اقارب تک کی پرواہ نہ کی ،لہٰذا اپنے گھروں  کو راہ خدا میں جلتے دیکھنا گوارہ کیا لیکن اس کی لپٹیں خرمن  اسلام تک نہ پہونچے دیں ۔
جنت البقیع پر ایک نظر  
اس قبرستان کا اصلی نام ﴿البقیع الغرقد ﴾ہے لہٰذا ارباب لغت اس کا اس طرح معنیٰ کرتے ہیں:«البقیع،المکان المتسع ولا یسمیٰ بقیعاً الا و فیه شجر»۔(5)
یعنی بقیع ایک   وسیع و عریض جگہ کو کہتے ہیں ،اور کسی جگہ کو بقیع اسی وقت کہیں گے جب اس میں درخت پائے جائیں۔
الغَرْقَدُ:«ھو  شجر الشَّوْك» ۔(6)
غرقد ایک کانٹے دار پیڑ  کو کہتے ہیں،چونکہ غرقد نامی  پیڑ اس قبرستان میں بہت زیادہ اگتے تھے لہٰذا اس  کو بقیع الغرقد کہا جاتا تھا۔
یہ قبرستان مسجد النبی(ص) کے مشرق میں دوسو مٹر کے فاصلہ پر واقع ہے سو سال پہلے تک یہ شہر مدینہ کے باہری علاقہ میں  محسوب ہوتا تھا لیکن اب یہ خود شہر مدینہ کا جزء شمار ہونے لگا، اور اب اس کے چاروں طرف روڑ نکال دیئے  گئے   جن کے نام یہ ہیں، ستین،عبد العزیز ،ابی ذر،باب العوالی۔(7)
ظہور  اسلام سے پہلے یہ قبرستان یثرب کے باشندوں کا مدفن تھا  لیکن ہجرت رسول(ص) اسلام کے بعدیہ مسلمانوں  سے مخصوص ہوگیا اور تاریخ عالم کے بڑے قبرستانوں میں اس کا شمار ہونے لگا کہ جس میں ہزاروں صحابہ و تابعین،اور تبع تابعین غرض عالم بشریت کی بڑی مقتدر ہستیاں  دفن ہوئیں، کتب احادیث کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس مقدس و محترم قبرستان کا تذکرہ سابق آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے جیسا کہ کعب الاحبار یہودی سے نقل ہوا ہے۔
۱۔ عن کعب الاحبار الیھودی انہ قال:«نجد مکتوباً في الکتاب {التوراة ] ان مقبرة بغربي المدینة علی حافة السبیل،یحشر منھا سبعون الفاً لیس علیھم حساب»ـ(8)
ترجمہ:کعب الاحبار بیان کرتا ہے کہ ہم نے اپنی کتاب توریت میں پڑھا کہ شہر مدینہ کے سمت مغرب  میں شاہ راہ پر  ایک قبرستان ہے کہ روز قیامت جس  سے  ستر ہزار افرد ایسے اٹھائیں جائیں گے  کہ جو بغیر حساب و کتاب کے بہشت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔
۲۔قال سعید المقبری:«قدم مصعب بن زبیر حاجاً و معتمراً و معه ابن رأس الجالوت{عالم و حبر الیھود الاعظم}فدخل المدینة من نحو البقیع،فلما مرّ بالمقبرة ،قال ابن رأس الجالوت :انھا لھی :قال مصعب:و ما ھی؟
قال:اننا نجد في کتاب اللہ [التوراة ] صفة   مقبرة فی شرقھا نخیل و غربھا بیوت ،یبعث منھا سبعون الفاً کلھم علی صورة القمر لیلة البدر،و قد طفت مقابر الارض فلم ار تلک الصفة حتی رایت ھذہ المقبرة ،و في روایة اخری:ھذہ التي نجدھا في کتاب اللہ»۔(9)
ترجمہ:سعید مقبری کا بیان ہے کہ جب مصعب ابن زبیر بصرہ سے حج و عمرہ کے لئے مکہ آیا تو اس کے ہمراہ یہودیوں کا ایک  بہت بڑا عالم بھی تھا ﴿یہ  رأس الجالوت کا بیٹا تھا ﴾ جب یہ لوگ اپنے سفر کے دوران مدینہ پہونچے تو اس نے کہا:کیا یہ وہی قبرستان ہے ؟مصعب نے چونک کر پوچھا :کون سا ؟ تو اس نے کہا ہم نے اپنی کتاب توریت میں دیکھا ہے کہ ایک ایسا قبرستان کہ جس کے مشرقی حصہ میں درخت اور مغربی حصہ میں گھر آباد ہیں روز حشر اس میں سے ستر ہزار افراد ایسے محشور ہونگے کہ جن کی صورتیں چودھویں کے چاند کی مانند  چمک رہی ہوں گی ،اور میں نے زمین پر موجود تمام قبرستان کا مشاہدہ کیا لیکن کسی میں بھی اس صفت کو نہیں پایا مگر میں نے  اس میں ان علامتوں کو  دیکھا ہے جو ہماری کتاب توریت میں ذکر ہوئیں ہیں ـ
اور ایک دوسری روایت میں یہ لفظیں وارد ہوئی ہیں کہ اس یہودی عالم نے یہ کہا کہ واقعاً یہ وہی قبرستان ہے کہ جس کا ذکر ہماری آسمانی کتاب ﴿توریت ﴾میں ہے۔
جنت البقیع  کی فضیلت
جس طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے کچھ دنوں اور مہینوں کو بافضیلت بنایا جیسے روز جمعہ ،روز عید ،ماہ رمضان المبارک ،ماہ ذی الحجہ کے وہ ایام جن میں مناسک حج بجا لائے جاتے ہیں ،اسی طرح اللہ نے کچھ ایسی جگہیں بھی اس روئے زمین پر بنائی ہیں جنکا شرف ذاتی ہے جیسے مکہ ،مدینہ ،نجف اشرف، کربلا مقدسہ ،انہیں مقامات میں سے ایک جنت البقیع بھی ہے لیکن  کبھی کبھی شرف مکانی اور زمانی ایک ساتھ مل جاتے ہیں جس کے سبب نورانیت میں اضافہ ہو جاتا ہے اگرچہ جنت البقیع خود بافضیلت ہے لیکن اس کا شرف چند برابر ہوجاتا ہے چونکہ اس میں یہ طیب وطاہر ہستیاں مدفون ہیں  جن کو اللہ نے اپنے دین کی اساس اور بنیاد بنایا اور جن کے وجود کو اپنے نور سے  خلق فرمایا لہٰذا  عربی کا ایک مقولہ ہے:«المکان بالمکین ،والدار بساکنھا،والارض باھلھا»۔
یعنی مکان کی اہمیت اس کے مکین سے ہوتی ہے،اور گھر کی عظمت اس میں رہنے والے کے مطابق ہوتی ہے ،اور اسی طرح ہر خطہ ارضی کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ اس پر آباد باشندوں کی عظمت پر منحصر ہوتا ہے۔
اور جیسا کہ کتب احادیث کے مطالعہ سے  پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) ہر روز جنت البقیع  کے مدفون افراد  کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور ان کے لئے بارگاہ خداوندمتعال میں  طلب مغفرت  کیا کرتے تھے  لہٰذا ابی موہبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ(ص) نے  ارشاد فرمایا:«انی امرت ان استغفر لاھل البقیع»۔(10)
ترجمہ:مجھے اللہ کی جانب سے اس امر پر مامور کیا  گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لئے استغفار کیا کروں۔
اور اسی طرح ام قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:«مقبرتان تضیئان لاھل السماء کما تضیئ الشمس و القمر لاھل الدنیا،البقیع بقیع اھل المدینة،و مقبرة بعسقلان»۔(11)
ترجمہ:دو قبرستان ایسے ہیں جو آسمان میں رہنے والوں کے لئے اس طرح چمکتے ہیں جس طرح دنیا میں رہنے والوں کے لئے سورج و چاند،ایک اہل مدینہ کا قبرستان ،بقیع ،اور دوسرا  اہل عسقلان کا قبرستان۔
بقیع میں مدفون ہستیاں
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ اس مقدس قبرستان میں عالم اسلام کی بزرگ ہستیاں محو آرام ہیں دس ہزار سے زیادہ صحابہ و تابعین،کی قبریں اس کے اندر ہیں ان میں سے کچھ کے نام ہم یہاں بیان کرتے ہیں تاکہ قارئین کی معلومات میں مزید  اضافہ ہوجائے۔
حضرت فاطمہ زہرا(س)،امام حسن مجتبٰی(ع)،امام زین العابدین(ع) ،امام محمد باقر(ع)،امام جعفر صادق(ع)،حضرت ابراہیم بن رسول اللہ(ص)  ،اسماعیل بن امام صادق(ع)،عباس بن عبد المطلب(رض)،عقیل بن ابی طالب(رض)،عبد اللہ بن جعفر طیار(رض)،محمد بن حنفیہ بن علی(ع) ،مقداد بن اسود(رض)،اسامہ بن زید(رض)،بن حارثہ،فاطمہ بنت اسد(س)، صفیہ بنت عبد المطلب(رض)،ام البنین(س)،حلیمہ سعدیہ(رض)،اور اسی طرح  ازواج رسول(ص) میں سے سودہ بنت زمعہ،عائشہ بنت ابی بکر،حفصہ بنت عمر، ام سلمہ،زینب بنت جحش،جویریۃ بنت حارث،ماریہ القطبیہ ،ام ابراہیم،اور ان کے علاوہ  اس میں بہت سی بزرگ شخصیات دفن ہیں۔
جنت البقیع سب سے بڑی زیارت گاہ
ان حضرات کے دفن سے لے کر آل سعود کی ظالمانہ حکومت کے قیام سے پہلے تک بقیع تمام مسلمانان عالم کی سب سے بڑی زیارت گاہ رہی ہے جو بھی عاشق رسول(ص) اور خانہ خدا کا زائر مکہ آتا تو وہ قصداً مدینہ آکرحاضری کا شرف ضرور حاصل کرتا اور روضہ رسول(ص) کی جالی کو چوم کر آئمہ بقیع(ع) کے حضور اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتا اور اسلام کی سربلندی میں دی گئی ان کی عظیم قربانیوں  کو خراج عقیدت پیش کرتا لیکن افسوس!آج گلشن اسلام میں ہر طرف  الوّؤں  کا ہجوم ہے نہ جانے کون سی یادگار اسلام منہدم کردی جائے اور  کس رکن اسلام کو خراب کردیا جائے،کس مسجد کو مسمار کردیا جائے اور کس جگہ قرآن کو پارہ پارہ کردیاجائے، لیکن  ایک سربستہ اداسی ہے کہ جس نے  تمام عالم اسلام،خصوصاً عالم عرب کو اپنی چپیٹ میں لے رکھا ہے ،کہیں سے ان کے خلاف  کوئی آواز بھی نہیں اٹھتی کوئی یہ تک نہیں پوچھتا کہ تم ان ایمان کے روشن چراغوں کو کیوں بجھانا چاہتے ہو ؟پہلی بات تو یہ کہ ان ظالم حکرانوں سے کوئی  یہ پوچھ نہیں سکتا کہ اس عمل شکست و ریخت سے تم کو کیا حاصل ہوگا ؟اگر کوئی جرأت کربھی لے تو اس کو جواب میں دو لفظیں کہی جاتی ہیں جیسا کہ نقش اول کے مولف گرانقدر نے لکھا:«توسیع ،شرک»،یعنی ان قبروں کو منہدم نہیں بلکہ ہم قبرستان کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور دوسرے یہ کہ اہل مدینہ ان قبوّں اور روضوں کو پوجتے ہیں اور ان سے توسل کرتے ہیں اور یہ شرک ہے۔(12)، لہٰذا ہم ان کو اس وادئ شرک سے نکالنا چاہتے ہیں۔
کیا توسیع اس انداز و قرینہ سے نہیں  کی جاسکتی تھی کہ  جس حوصلے کے ساتھ ترکوں نے کی؟ اور کیا شرک کے مٹانے کا طریقہ صرف یہی تھا کہ ان حضرات کی باوفاہڈیوں کے نشانات کو مٹا دیا جائے ۔
جنت البقیع کے  روضوں کی تعمیر
آئمہ بقیع(ع) کے مزارات  پر سب سے پہلے قبّے مجد الملک ابو الفضل اسعد بن محمد بن موسی مادستانی قمی نے سن ۴۸۸ عیسوی میں بنائے جو  سلطان سلجوقی کے وزیر تھے  پھر انکی آرایش کا کام عباسی خلیفہ ناصر الدین بن المستضیء باللہ نے سن ۵۶۰ ھ میں انجام دیا پھر اس کے بعد ترکی کی خلافت عثمانیہ نے مسلسل ۱۵ برس تک گنبد خضراء سمیت تمام یثرب کے مزارات مقدسہ کی تعمیر و آرایش کا کام انجام دیا۔(13)
آل سعود کا حجاز پر ناحق قبضہ  
یہ خاندان حجاز کی  ریاست نجد کے ایک  گاؤں «درعیہ» میں سکونت پذیر تھا  اور اسی  خاندان کی  ایک فرد محمد بن سعود اس  میں ایک نواب کی مانند وہاں کے سادہ لوح افراد پر اپنے احکام  تھونپتا تھا اور ان سے کثیر تعداد میں غلّہ وصول کیا  کرتا تھا ،اسی زمانہ میں محمد بن عبد الوہاب ﴿فرقہ وہابیت کا بانی ﴾ نے اپنی منحرفانہ تبلیغ کا آغاز کر دیا جس کے نتیجے میں باپ نے عاق کر کے گھر سے نکال دیا اور جب کچھ نہ بن پڑا تو  شیخ محمد ابن عبد الوہاب خانہ خدا کا قصد کرکے راہی مکہ ہوئے  وہاں سےواپسی پر  مدینہ پہونچے اور وہاں پر اہل مدینہ کو روضہ رسول (ص)،اور جنت البقیع میں توسل  کرتا ہوا پایا تو دل برداشتہ ہوکر اپنے ایک شاگرد کے یہاں «درعیہ»  پہونچے اور ایک عرصہ تک کد کاوش کرتے رہے آخر کار  محمد بن سعود تک رسائی حاصل ہوئی لہٰذآ اس روداد کو ہم ایک سنی مؤرخ کی زبانی نقل کرتے ہیں تاکہ ہمارے دعوے کو ایک اور مضبوط دلیل مل جائے ،تاریخ نجد و حجاز کے  مؤلف بیان کرتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اپنی مہم کا آغاز اپنے وطن عینیہ سے کیا  ﴿انبیاء کی تعظیم نہ کی جائے ،اور ان سے طلب شفاعت نہ کی جائے ﴾اس کامیابی کے لئے تلوار کی ضرورت تھی ورنہ ان کے افکار بھی ابن تیمیہ کی طرح صفحہ قرطاس تک محدود رہ جاتے ،اس نصب العین کے لئے ان کی آنکھوں نے نجد کے سرداروں کا جائزہ لینا شروع کیا بالآخر ان کی نظر انتخاب محمد بن سعود پر آٹھہری اور محمد بن سعود کی بیوی کے ذریعہ انہوں نے ابن سعود کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔(14)  
لہٰذا عثمانی خلافت کے زوال کے بعد یہ گروہ برطانیہ،اور کلیسا کے ساتھ کئے گئے عہد کے سبب سن ۱۲۲۰ ہجری کو مکہ اور ۱۲۲۱ ہجری میں مدینہ منورہ پر قابض ہوئے ،اور ابن عبد الوہاب کے ساتھ  کئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے آل سعود کے پاس اس سے اچھا اور کوئی سنہرا موقع نہیں تھا لہٰذا سب سے پہلے  اطرف کعبہ میں موجود آثار انبیاء خصوصاً پیغمبر ختمی مرتبت(ص) کے تمام آثار  کو تاراج کرنا اپنا اصلی ہدف قرار دیا اور   ہر اس یادگار  کو منہدم کرنا اپنا فرض سمجھا جس جس سے آپ کی کوئی یاد وابستہ تھی لہٰذا نئی حکومت نے مکے سے مدینہ تک جانے کا نیا راستہ اختیار کیا ،یہ راستہ مکے سے مقام بدر تک سمندر کے ساتھ ساتھ جاتا ہے ،یاد رہے یہ وہی راستہ ہے کہ جس سے ابوسفیان ،لشکر اسلام کی روانگی کی خبر سن کر اپنے قافلے کو بچا کر مکے کی جانب فرار ہوگیا تھا۔(15)   
انہدام جنت البقیع
پہلے ان قبروں پر منار اور ضریح ہوتی تھی لیکن اب  کھلے آسمان کے نیچے ان پر  صرف ایک پتھر کو علامت کے عنوان سے رکھا ہوا ہے  کچھ مؤمنین اور تشنہ زیارت کے لئے ابھی کچھ قبریں ہیں ورنہ ، نہ جانے ان وہابیوں نے کتنی قبروں کو زمیں بوس کردیا ،جب بھی کسی مسلمان کی نظروں کے سامنے وہ دلخراش منظر آجاتا ہے کہ جس وقت بنت نبی(ص) کی قبر مطہر سے روضہ اور گنبد کو  توڑا گیا  تھا  تو پورے جسم میں ایک لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے جزبہ انتقام کی لہر دل و ماغ کو  ٹہوکے دینے  لگتی ہے  کہ اے کاش !یہ سانحہ نہ ہوا ہوتا ؟اے کاش!مدینہ میں ایک بار پھر بنت نبی کے گھر کے چراغ نہ بجھائے جاتے؟اے کاش! یہ زمین کیوں نہ پھٹ گئی ؟اس آسمان نےخون کے آنسو کیوں نہ برسائے ؟مجھے ایسا لگتا ہے  کہ ۸ شوال ۱۳۴۴ ہجری مطابق ۲۱ اپریل ۱۹۲۵ عیسوی میں   سن ۱۱ ہجری کا  سورج دوبارہ نکل آیا ہو اور اسی طرح نبی زادی کے دروازے سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہو جس طرح ۱۱ ہجری میں ہوئے تھے ،حسن(ع) کل بھی ماں پر ہونے والے مظالم کے چشم دید گواہ تھے اور آج خود ماں کے ساتھ خود ماں کی مظلومیت کے شریک ،کل جس طرح علی(ع) کے گلے میں رسی کا پھندا ڈالا گیا تھا آج اسی کا پوتا جو ایک عرصہ تک بنی امیہ کے طوق و سلاسل میں جکڑا رہا ،دادی کی قبر کےساتھ ساتھ اس کا روضہ بھی ویران کیاگیا ،جنہوں نے کبھی امت  اسلامی کے گھروں  میں علم و حکمت کے دیئے جلائے تھے آج جاہل اور نادان  دشمن ان کی قبروں کے روشن چراغ بجھانا چاہتے ہیں ،لیکن افسوس صدافسوس ! آج ۸۹ سال گذر گئے  لیکن عالم عرب کے سر میں جوں تک نہ رینگی  کہ کوئی بڑھ کر یہ کہہ سکے کہ اے  ظالموں !تم نے یہ کیا ظلم کردیا، اولاد رسول کو کم از کم قبر میں تو چین لینے دیتے ، لیکن کوئی نہیں جو ہماری آوازوں کو سنے فقط اللہ ہی ہے  جو سب کےدلوں کے حال سے خوب واقف اور آگاہ  ہے ،ظاہراً   آل سعود نے ان روضوں کو توڑ کر اپنے اموی کردار کا ثبوت دیا لیکن بقول شاعر:
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا  کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خداکرے

لیکن اللہ نے اہل بیت علیہم السلام سے وعدۀ:«فَاذْكُرُوني‏ أَذْكُرْكُم»۔(16) کرکے آل سعود کے ارادوں کا طلسمی محل زمیں دوز کردیا:«يُريدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَ يَأْبَى اللَّهُ إِلاَّ أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَ لَوْ كَرِهَ الْكافِرُون»۔(17) یہ چاہتے ہیں کہ نور خداکو خاموش کردیں لیکن اللہ اپنے نور کو ساری دنیا میں پھیلا کر رہے گا  ! اور اب  وہ دن دور نہیں کہ  جب ان عتبات عالیہ کا سرپرست پردۀ غیبت سے آئے اور اس روئے زمین پر«يملأ الأرض قسطا و عدلا كما ملئت ظلما و جوراً»۔(18)، کا نقارہ ہر طرف بجنے لگے۔
آخر میں اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ بقیع کے اصلی وارث کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور وہ دن دیکھنا نصیب ہو  کہ جب پرچم اسلام مکہ و مدینہ کےایوانوں پر لہرائے اور ظالم کے لئے اپنی  حقیقت اور مظلوم کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو میں اپنی بات کو شاعر کے اس قطعہ کےساتھ ختم  کرتا ہوں ۔
غیبت سے جب آئے گا وہ زہر ا(س) کا دلارا
تب مرقد زہرا (س) کی ہم تعمیر کریں گے
اور فرش عزا کعبے کے پردے کو بنا کر
تب کعبہ میں ہم مجلس شبیر(ع) کریں گے۔

.....................................................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔سورہ غافر:آیت ۲۱ ۔
2۔سورہ بقرہ:آیت ۱۵۸ ۔
3۔سورہ آل عمران:آیت ۹۷ ۔
4۔مجمع البیان،فضل بن حسن طبرسی،ج ۲ ،ص۲۱۶ ،ناشر،ناصر خسرو تہران،۱۳۷۲ شمسی۔
5۔لسان العرب مادہ: ب ،ق، ع ۔
6۔لسان العرب،مادہ:غ ،ر ،ق ،د۔
7۔زیارت مدینہ منورہ ڈاکو مینٹری،چودہری نظر علی،گجرات۔
8۔فاحعِة البقیع،جلال معاش ،ص ۷۸ ،موسسة الامامة بیروت ،لبنان ۱۴۲۷ ہجری۔
9۔فاجعة البقیع ،جلال معاش ،ص،۷۹ ،موسسة الامامة ،بیروت لبنان ،۱۴۲۷ ہجری۔
10۔بحار الانوار ،ج۲ ص ۴۶۶ ۔
11۔مستدرک الوسائل ،ج۲ ،ص ۳۰۹ ۔
12۔نقش اول کی تلاش ،سفرنامہ صلاح الدین محمود،ص ۲۰ ۔
13۔تاریخ نجدو حجاز ،ص ۳۵ ۔
14۔تاریخ نجد و حجاز،عبد القیوم قادری،ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور،اگست ۲۰۰۴ ۔
15۔تاریخ نجد و حجاز ،ص ۱۹۔
16۔سورہ البقرة:آیت ۵۲ ۔
17۔سورة التوبة:آیت ۳۲ ۔
18۔آلاالرحمٰن فی تفسیر القرآن ،محمد جواد بلاغی نجفی ،ج ۱ ص ۲۶۵ ناشر ،بنیاد بعثت ،قم ۱۴۲۰ ہجری۔
مقالہ از: سجاد ربانی مقیم حوزہ علمیہ قم مقدسہ ایران، شوال المکرم سن،1434 ہجری


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23