Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184251
Published : 19/11/2016 19:51

انڈے میں پائے جانے والے قدرتی فوائد

آہن (آئرن)خون کے خلیات اور ہیموگلوبن کی ساخت کے لئے ایک لازمی جزء ہے،اس کی کمی سے عورتیں خون کی کمی کی شکار ہوجاتی ہیں اور بچے ذہنی طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں،آہن کے ساتھ جست بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کی کمی سے خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے اور جلد پر زخم ظاہر ہوجاتے ہیں،کیلشیم ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لئے اہم ترین غذائی جزءہے،یہ دل ،دماغ جوڑوں اور پٹھوں کی کارکردگی کے لئے بے حد ضروری معدنی جزء ہے،اس کی کمی سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں،دانت گرنے لگتے ہیں اور دل ودماغ کی کارکردگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں،آیوڈین کی کمی سے تھائرائڈگلینڈ کی کارکردگی پر بے حد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور فرد ہائپوتھائراڈزم کا شکار ہوجاتاہے۔

ولایت پورٹل:
دنیا میں  پہلے مرغی آئی یاانڈا  اس سوال کا جواب کس کے پاس ہے؟ کیا آپ انڈے کھاتے ہیں ؟کیا اپنے خون میں  کولیسٹرول کی سطح زیادہ ہونے کی وجہ سے انڈے کو چھوتے بھی نہیں؟کیا آپ بھی یہی سوچتے ہیں  کہ انڈے کھانے سے وزن بڑھتا ہے،موٹاپا گلے لگاتاہے،انڈے کھانے سے پیٹ میں  گیس پیدا ہوتی ہے، پیٹ پھول جاتاہے،بدہضمی ہوجاتی ہے،کھٹی ڈکاریں ستانے لگتی ہیں،آپ نے سنا ہوگا کشمیری انڈے اور پنچابی انڈے میں  بہت فرق ہے،کشمیری مرغی کا انڈا زیادہ مزے دار اور طاقتور ہوتاہے،دل کی بیماری میں  مبتلا مریض کے لئے انڈے کی طرف دیکھنا بھی جرم ہے،گال بلیڈر (کیسہ صفرا)جسم سے نکالنے کے بعد انڈاکھانا گناہ ہے،بدپرہیزی ہے،وغیرہ وغیرہ۔
انگریزی زبان میں  ایگ،اردو میں  انڈا،فارسی میں  تخم مرغ،کشمیری میں  ٹھول اور ڈاکٹری اصطلاح میں  اووم مادہ پرندے یا چرند کے جسم سے نکلا ہوا اور سخت چھلکے سے ڈھکاہوا سیال مادہ جس میں  نئی زندگی کے آثار ہوتے ہیں،انڈا تب تک کچا اور تازہ ہوتا ہے جب تک اسے کسی طرح (اْبال کر ،تل کر یا پکا کر) کھانے کے قابل نہ بنایا جائے،اردو اور کشمیری زبان میں،انڈوں  کے اِردگرد، کئی محاورے اور ضرب المثل گردش کرتی ہیں،انڈے اڑانا اکثر کشمیری کا محبوب مشغلہ ہے،مثل مشہور ہے فاختہ انڈے سیے  اور کوّے بچے کھائیں  یا انڈے سیے کوئی بچہ لے جائے کوئی،ہمارے سماج میں  اکثر ایسا ہی ہوتاہے سرکاری ملازم اپنے فرائض دینے کی بجائے گھروں  اور دفتروں  میں  انڈوں  پر ہی بیٹھے رہتے ہیں، انڈا نیم برشت ، فرائی کرکے ،آملیٹ بناکر ، کانگڑی میں  بھون کر کھایا جاسکتاہے،انڈے کا حلوا  بھی بنایا جاتاہے یا پھر مونگ دال کے ساتھ ملا کر ایک بڑی مزے دار اور تعذیہ سے بھر پور ڈِش تیار کی جاسکتی ہے۔
انڈے کی اہمیت اس بات سے صاف ظاہرہے کہ اس میں  پروٹین،چربی، کاربوہائیڈریٹ،فیٹی ایسڈز،وٹامنز اور کچھ اہم نمکیات موجود ہیں،وٹامن اے آنکھوں  کی بینائی اورصحت مند جلد کے لئے لازمی ہے،یہ وٹامن کئی طرح کی کینسر سے بچاتاہے،وٹامن ڈی ہڈیوں  کی مضبوطی، سالمیت اور صحت کے لئے بے حد ضروری ہے،یہ ایک معجزاتی وٹامن ہے جو کیلشیم جذب کرنے میں  اہم ترین رول اداکرتاہے،تازہ ترین تحقیقات سے ثابت ہواہے کہ وٹامن ڈی کئی طرح کے کینسرز  سے بچانے میں  ایک اہم رول اداکرتا ہے، اس وٹامن کی کمی سے ہڈیاں  کمزور اور مسام دار ہوجاتی ہیں  اور عمر رسیدہ افراد (خاص کر عورتیں)اور سیٹوپوروسس میں  مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وٹامن اے جسم کے سبھی خلیات کی صحتمندی کے لئے ضروری ہے، یہ ایک مانع تکسیدی وٹامن ہے جو نارمل خلیات کو سرطانی خلیات میں  تبدیل ہونے سے بچاتاہے، وٹامن اے ،سی اور ای تینوں  انٹی آکسیڈنٹ وٹامنس ہیں،یہ تینوں  مل کر،بڑھاپے کو ٹالنے،میں  مددگار ثابت ہوتے ہیں،وٹامن بی ون نشاستہ والی غذائوں  سے اور وٹامن بی چربی اور پروٹین سے توانائی حاصل کرنے میں  مدد کرتے ہیں،وٹامن بی 6 پروٹین مٹابولزم کو متحرک کرنے میں  اہم رول اداکرتا ہے،وٹامن B12دماغ نظامِ اعصاب مرکزی،نسوں  اور پٹھوں  کی فعالیت کے لئے سب سے اہم وٹامن ہے، یہ خون کے خلیات بنانے میں  اہم رول اداکرتاہے، اس کی کمی سے فرد خون کی کمی میگلا بلاسٹک انیمیا کا شکار ہو جاتاہے اور وہ جسمانی وذہنی طور پربہت ہی کمزور ہوجاتاہے،اس کی کمی سے نسیں  کمزور ہوجاتی ہیں،اس کی کمی سے کئی دماغی بیماریوں  میں  مبتلا ہونے کے امکانات میں  کئی گنا اضافہ ہوجاتاہے۔
آہن (آئرن)خون کے خلیات اور ہیموگلوبن کی ساخت کے لئے ایک لازمی جزء ہے،اس کی کمی سے عورتیں  خون کی کمی کی شکار ہوجاتی ہیں  اور بچے ذہنی طور پر ناکارہ ہوجاتے ہیں،آہن کے ساتھ جست بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس کی کمی سے خون کی کمی واقع ہوجاتی ہے اور جلد پر زخم ظاہر ہوجاتے ہیں،کیلشیم ہڈیوں  اور دانتوں  کی مضبوطی کے لئے اہم ترین غذائی جزءہے،یہ دل ،دماغ جوڑوں  اور پٹھوں  کی کارکردگی کے لئے بے حد ضروری معدنی جزء ہے،اس کی کمی سے ہڈیاں  کمزور ہوجاتی ہیں،دانت گرنے لگتے ہیں  اور دل ودماغ کی کارکردگی پر منفی اثرات پڑتے ہیں،آیوڈین کی کمی سے تھائرائڈگلینڈ کی کارکردگی پر بے حد منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں  اور فرد ہائپوتھائراڈزم کا شکار ہوجاتاہے۔
مندرجہ ذیل چارٹ سے ظاہر ہے کہ انڈے میں  بے شماری غذائی اجزاء موجود ہیں،کمسن بچے سے لے کر عمررسیدہ بزرگ (مرد یا عورت) شوق سے روزانہ انڈا کھا سکتے ہیں،انڈا صحت کے لئے ایک بے حد ضروری قدرتی غذا ہے،کہ نہ صرف جسم کو توانائی بخشتا ہے بلکہ کئی اہم ترین غذائی اجزاء بھی مہیا کرتا ہے،ہمارے یہاں بعض دیہاتی عورتیں  بچوں  کو کچا انڈا کھلاتی ہیں،یہ ایک غلط طریقہ ہے،کچا انڈا کھانے سے یا اسے کچے دودھ کے ساتھ ملا کر کھانے سے آنتوں  کی بیماری کے لئے راہ ہموار ہوجاتی ہے، انڈاہمیشہ ابال کر ،فرائی کرکے یا آملیٹ بناکرکھانا چاہئے اور کھانے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ انڈا سالم اور تازہ ہو، سڑا ہوا انڈا(گندہ انڈا) کھانے سے معدہ اور آنتوں پر زبردست منفی اثرات پڑتے ہیں  اور کھانے والا اسہال و استفراغ کا شکار ہوسکتاہے،اس لئے پہلے انڈے کودیکھئے پھر پرکھیں  اور پھر ابال کر،تل کر یا آملیٹ بناکر کھائیں،کچا انڈا کھانے سے پرہیز کریں،اگر آپ موٹاپے کے شکار ہیں  اور آپ کے خون میں  کولیسٹرول کی سطح نارمل سے زیادہ ہے تو ابلے ہوئے انڈے کی سفیدی کھائیں اور زردی اپنے بچے وغیرہ کو کھلادیں،اگر آپ انڈے نہیں  کھاتے ہیں  تو آپ اپنے آپ کو قدرت کی ایک بہترین نعمت سے محروم کرکے اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے ہیں۔
تحریر:ڈاکٹر نذیر مشتاق
shianet


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21