Thursday - 2018 july 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184261
Published : 21/11/2016 14:20

اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(3)

اہل بیت (ع) کو کشتی نوح سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصول دین وفروع دین میں اہل بیت (ع) کے علم سے ہدایت حاصل کریں اور ان کی رفتار و گفتار کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں،ورنہ وہ مذاہب ونظریات کے اختلاف میں گھر کر ڈوب جائیں گے اوران کی نجات ممکن نہیں ہوگی۔

ولایت پورٹل:ہم نے گذشتہ مضمون میں اہل بیت طاہرین(ع) کی پیروری اور اتباع کے وجوب پر آیت تطھیر  اور حدیث ثقلین کو بطور سند پیش کیا تھا اور اس کے متعلق علماء کے اقوال بھی قارئین کی خدمت میں پیش کئے تھے آج اسی سلسلے کی تیسری بحث ہے کہ جس میں ہم حدیث سفینہ اور حدیث امان  کے متعلق گفتگو کررہے ہیں لہذا پچھلی بحث سے مرتبط ہونے کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کیجئے!
اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(1) 
اہل بیت اطہار(ع) کی پیروی کیوں واجب ہے؟(2)
۳۔حدیث سفینہ

پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت (ع) کے بارے میں ارشاد فرمایا:«انما مثل اھلبیتی فیکم کسفینة نوح من رکبھا نجی ومن تخلف عنھا غرق»۔(۱)
ترجمہ:میرے اہل بیت کی مثال تمہارے درمیان نوح کی کشتی جیسی ہے کہ جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگردانی اختیار کی وہ غرق ہو گیا۔
اہل بیت (ع) کو کشتی نوح سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصول دین وفروع دین میں اہل بیت (ع) کے علم سے ہدایت حاصل کریں اور ان کی رفتار و گفتار کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں،ورنہ وہ مذاہب ونظریات کے اختلاف میں گھر کر ڈوب جائیں گے اوران کی نجات ممکن نہیں ہوگی،ابن حجر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے:«اہل بیت (ع) کو کشتی ٔنوح سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو شخص بھی خداوند عالم کے حضور اس شکرانے کے طور پر (کہ اس نے اہل بیت (ع) کو عظمت وفضیلت عطا کی) اہل بیت(ع) سے محبت کرے ان کی عظمت کا قائل ہو اور ان کے علماء سے ہدایت حاصل کرے تو وہ مخالفتوں کی تاریکی سے نجات پا جائے گا،اور جو شخص ان سے منھ موڑے گا تو وہ کفران نعمت کے دریا میں غرق ہو جائے گا اور گمراہی کے  بھنور میں پھنس کر ہلاک ہو جائے گا»۔(۲)
4۔حدیث امان
ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے اہل بیت(ع)کو آسمان کے ستاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:«النجوم امان لاھل الارض من الغرق واھل بیتی امان لامتی من الاختلاف فاذاخالفتھا قبیلة من العرب اختلفوا فصاروا حزب ابلیس»۔(۱)
ترجمہ:ستارے زمین والوں کو ڈوبنے سے بچاتے ہیں اور میرے اہل بیت (ع) میری  امت کو اختلاف سے بچاتے ہیں لہٰذا اگر عرب کا کوئی بھی قبیلہ ان سے اختلاف کرے گا تو وہ شیطانی گروہ بن جائے گا۔
مذکورہ احادیث کے علاوہ جن دوسری حدیثوں میں اہل بیت(ع) کی پیروی کرنے کو واجب قرار دیا گیا ہے وہ اہل بیت(ع) کی علمی اورشرعی قیادت ورہبری پر واضح انداز سے دلالت کرتی ہیں اور ان سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد اہل بیت (ع) کی رفتار وگفتار ہی اصول دین وفروع دین کی شناخت کا واحد سر چشمہ اور اہم ذریعہ ہے۔ (۲)
.............................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔المستدرک علٰی الصحیحین،ج۳،ص۱۵۱،اور اسی طرح،ج۲،ص۳۴۳،حدیث سفینہ کی شیعہ اور سنی طرق کے بارے میں مزید معلومات کے لئے علامہ سید ہاشم بحرانی کی کتاب غایۃ المرام، ج۳،ص۱۳،تا ۲۴ ملاحظہ فرمائیں۔
2۔المراجعات،مراجعہ ۸ ،بحوالہ صواعق محرقہ،ص۹۱ ،باب۱۱ ،تفسیر آیت:۷۔
3۔المستدرک علٰی الصحیحین،ج۳،ص۱۴۹،اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد حاکم نیشاپوری نے یہ کہا ہے کہ:یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اسے نقل نہیں کیا ہے،اس حدیث کی (شیعہ وسنی)اسناد سے مزید واقفیت کے لئے:«غایة المرام»،ج۳،ص۱۳۷تا ۱۴۰ملاحظہ فرمائیں۔
4۔ستاروں کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت ملتی ہے اس کا تذکرہ خود قرآن مجید میں بھی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«و بالنجم ھم یھتدون»،اور ستاروں سے وہ لوگ ہدایت پاتے ہیں۔(سورہ نحل:آیت۱۶)۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 july 19