Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184262
Published : 21/11/2016 14:52

اولاد کی تربیت میں منصوبہ بندی کی اہمیت(2)

بچے والدین کی زندگی میں کس حد تک اور کیسی خوشحالی لاتے ہیں یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جسمانی کمزوریاں تو علاج معالجے سے دور ہوجاتی ہیں لیکن اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کا درست سمت دینے کے لئے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے، اس کے لئے بچے کے طرز عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ولایت پورٹل:
ہم نے پچھلے حصہ میں، تربیت اولاد کے کچھ اہم منصوبوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا تھا،اور اس مرحلے میں ہم مزید کچھ دیگر منصوبوں کو پیش کر رہے ہیں لہذا سابق بحث کو پڑھنے کے لئے کلک کیجئے!
اولاد کی تربیت میں منصوبہ بندی کی اہمیت(1)
منفی احکامات نہ دیں
بچے کو منفی احکامات دینے سے گریز کریں،عام طور پر ایسا مت کریں یہاں مت بیٹھو، وہ مت اٹھاﺅ جیسے جملے بچے کو کہے جاتے ہیں، جس سے وہ اپنی آزادی سلب ہوتی ہوئی محسوس کرتا ہے،اگرچہ روک ٹوک ضروری ہے لیکن اس میں شدت اور غیر ضروری احکامات شامل نہ ہوں اس کے برعکس بچے کو کسی کام سے روکنے کے لئے اس کے نقصانات کے بارے میں بتانا چاہئے اس طرح وہ خود اس سے باز رہنے کی کوشش کرے گا۔
بچے کا کسی دوسرے سے تقابل نہ کریں
ماہرین مقابلے اور موازنے کے عمل کو والدین کی بڑی غلطی تصور کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک بچے سے دوسرے بچے کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے اس سے بچوں میں احساس کمتری پیدا ہوتا ہے اور وہ دوسروں سے حسد محسوس کرتے ہیں جو ایک منفی رجحان ہے۔
بچوں سے سمجھداری کی امید نہ کریں
ایک اور غلطی والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ بچوں سے دانش مندی کی امید کرتے ہیں نئے معاملات اور تجربات سے گزرنے والے بچے کے والدین اس سے یوں گویا ہوتے ہیں کہ ایسا نہیں کرتے! تمہیں نہیں معلوم یہ غلط ہے! تم نے ایسا کیوں کیا؟ یہ وہ جملے ہیں جو بچے کے کانوں میں پڑتے ہیں مگر وہ یہ سب کہاں سوچ سکتا ہے،والدین کو ایسی امید نہیں کرنی چاہئے کہ ان کا بچہ کسی موقعے پر بڑوں کی طرح دانشمندی اور سمجھداری سے کام لے گا۔
بچوں کو کھیلنے سے منع نہ روکیں
بچے کو مٹی میں کھیل کود کرنے یا بعض ایسے کام کرنے سے نہیں روکنا چاہئے جس سے اس کی جسمانی گندگی کا امکان زیادہ ہو یاد رکھئے کہ ایسے کاموں سے بچوں میں ارتقاء پیدا ہوتا ہے۔
بچے کو کسی چیز سے نہ ڈرائیں
ایک اور بڑی غلطی بچوں کو ذہنی طور پر کمزور اور بزدل بناسکتی ہے اس کے علاوہ ان میں غلط رجحانات بھی فروغ پاتے ہیں بچوں کے دل میں کسی شئ، والدین یا کسی بڑے کا ڈر نہیں بٹھانا چاہئے بلکہ اسے ہر ایک چیز سے مانوس ہونے کا موقع فراہم کرنا چاہئے،بچوں کے روبرو والدین کو اپنے قول و فعل پر کنٹرول اور توازن رکھنا چاہئے کیونکہ انہی کی چال چلن سے بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔
بچے والدین کی زندگی میں کس حد تک اور کیسی خوشحالی لاتے ہیں یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جسمانی کمزوریاں تو علاج معالجے سے دور ہوجاتی ہیں لیکن اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کا درست سمت دینے کے لئے زیادہ محنت درکار ہوتی ہے، اس کے لئے بچے کے طرز عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بچے کہیں روٹی نہیں کھاتے اور ماں کو طرح طرح سے پریشان کرتے ہیں نہاتے وقت اودھم مچاتے ہیں، گھر سے پیسے چرا کرلے جاتے ہیں، اکثر جھوٹ بولتے ہیں، محلے کے بچوں سے بات بات پر لڑتے ہیں، پڑھنے میں دل نہیں لگتا، گھر میں ہنگامہ برپا کرتے رہتے ہیں وغیرہ ایسی حالت میں والدین اپنیز ندگی کو دوزخ تصور کرنے لگتے ہیں لیکن والدین اپنے سلوک پر تحمل سے غور نہیں کرتے سچ تو یہ ہے کہ 99 فیصد ماں باپ بچے کی برائیوں یا غلطیوں کو دور کرنے کے لئے مارپیٹ سے کام لیتے ہیں، یہ سراسر غلط ہے اپنے بچے کی اچھی پرورش کریں یہ وہ چیز ہے جو آگے چل کر آپ کا سہارا بنے گا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21