Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184269
Published : 21/11/2016 16:45

سعودی عرب کیوں کرتا ہے ہر جگہ ایران کی مخالفت(ایک تجزیہ)

آل سعود سے وابستہ سیاسی حلقوں نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف سیاسی لابنگ تیز کردی ہے،ان اقدامات کا مقصد علاقائی اور عالمی سطح پر ایران پر دباؤ ڈالنا ہے۔


ولایت پورٹل:سعودی عرب اور اس کے علاقائی اتحادی ، بےبنیاد الزامات اور بے جا دعؤوں کے ذریعے ایران کو علاقے کی سیکورٹی کے لئے ایک خطرہ بنا کر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں- البتہ  یہ اقدامات  علاقے سے باہر کی طاقتوں کے مفادات و مقاصد  اور علاقے میں اسرائیل کی پالیسیوں سے ہماہنگ  ہیں اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات اور چند دیگر عرب ممالک نے بھی گذشتہ ہفتے ریاض کے اکسانے پر اقوام متحدہ کے نام ایک خط میں ایران کے خلاف علاقے کے ممالک میں مداخلت پر مبنی بے بنیاد دعوے کئے ہیں اور اس کا اثر اسلامی تعاون تنظیم میں بھی،جہاں سعودی عرب کا گہرا اثر و نفوذ ہے،پوری طرح نمایاں ہےاس سلسلے میں خلیج فارس کے ممالک کے عالمی تعلقات کی کونسل کوگیر  (cogir) کے سربراہ طارق آل شیخان نے اتوار کو کہا کہ ہم او آئی سی سے ایران کی رکنیت ختم کرنا چاہتے ہیں طارق آل شیخان نے یہ دعوی کرتے ہوئے،کہ تہران یمن میں مداخلت کر رہا ہے،تمام اسلامی ممالک سے اپیل کی کہ اسے تمام اسلامی تنظیموں سے باہر نکالنے کا اقدام کریں،انھوں نے اپنی اس بے بنیاد لفاظی کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک میں ایران کی مداخلتوں کے باعث کشیدگی اور عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے،ان بے بنیاد بیانات کے ساتھ ہی قاہرہ میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے بھی دعوی کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے میں اپنی دشمنانہ روش جاری رکھے ہوئے ہے،قاہرہ میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس وقت یمن میں جاری بدامنی اور عدم استحکام،علاقے میں امن و استحکام کو درہم برہم کرنے، فرقہ وارانہ اختلافات پیدا کرنے اور بحران یمن کے ہرطرح کے راہ حل کو شکست سے دوچار کرنے کی غرض سے یمن کے امور میں ایران کی مداخلت کا تسلسل ہے،سعودی عرب کے ان اقدامات کے دو اسٹریٹیجک اہداف ہیں،پہلا یہ کہ ریاض،یمن میں اپنی جارحانہ جنگ کو قانونی حیثیت دلانا چاہتا ہے،سعودی عرب کی کوشش ہے کہ ایران کو علاقے میں کشیدگی و عدم استحکام پیدا کرنے اور ان سانحوں کا سبب قرار دے کہ جو اس نے  گذشتہ ڈیڑھ برس سے یمن میں اپنے حملوں سے جنم دیئے ہیں،سعودی عرب کی اس سیاسی چال کا دوسرا ہدف  ایران اور اس کے دیگر عرب پڑوسی ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے،سعودی عرب نے اپنی اس پالیسی کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے ہی مسلط کردہ جنگ میں صدام کی حمایت کر کے اپنے ایجنڈے میں شامل کیا اور خلیج فارس تعاون کونسل اور سپر جزیرہ نامی ادارے قائم کر کے ایران کو عرب ممالک کے لئے مشترکہ خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے،ایٹمی مسئلے میں بھی ریاض نے اسی فکر اور نظریے کو اختیار کر رکھا ہے،سعودی عرب سے جہاں تک ہو سکا اس نے مشترکہ جامع ایکشن پلان کی مخالفت کی،اوپیک میں ایران کے ساتھ تیل کی پیداوار کے سلسلے میں رقابت اور حج تک کو اپنے سیاسی ہدف تک پہنچنے کے لئے ہتھکنڈہ بنایا اور سانحہ منی جیسے سانحے و المیوں کو جنم دیا- سعودی عرب نے درحقیقت ایران کے ساتھ دشمنی کے تمام حربے آزما لئے ہیں لیکن وہ اس سے زیادہ کچھ اور نہیں کرسکتا،سعودی عرب کی غیرمتوازن اور غیرمنطقی پالیسیوں نے پورے علاقے کو متاثر کردیا ہے جبکہ مشرق وسطی کے بحران،شام،یمن،عراق کی جنگوں اور لبنان و بحرین کے بحران کے پس پشت صیہونی حکومت کے مفادات پورے ہو رہے ہیں،سعودی عرب کی جانب سے تکفیری اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کے مشرق وسطی کے اکثر علاقے میدان جنگ میں تبدیل ہوچکے ہیں لیکن ریاض کے تابع ممالک نے،دہشت گردی کے خلاف براہ راست لڑنے کے بجائے اپنا سیاسی انجام سعودی عرب کے حوالے کردیا ہے اور ریاض انھیں سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہا ہے،ان پالیسیوں کے نتیجے میں علاقے کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں،سعودی عرب کو اس وقت اندرون ملک اپنی سیاسی قانونی حیثیت کے فقدان کا سامنا ہے اور وہ یہ قانونی حیثیت  ایران کی جانب سے سیکورٹی خطرات کے بہانے بھاری مقدار میں ہتھیاروں کی خریداری  اور علاقے میں آہنی ہاتھوں کی پالیسی اختیار کر کے حاصل کرنا چاہتا ہے،ریاض نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے خلیج فارس کے عرب ممالک کو یرغمال بنا لیا ہے اور ایرانوفوبیا کی آڑ میں ایران مخالف نام نہاد اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اسلامی تعاون تنظیم میں ایران کے خلاف سعودی اقدامات،ریاض کے انہیں نام نہاد اتحادیوں کی حمایت سے  انجام پا رہے ہیں-
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22