Saturday - 2018 Dec 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184279
Published : 22/11/2016 15:11

اپنے بچے کو معاشرے کا ذمہ دار فرد کیسے بنائیں؟

والدین ہرگز ہرگز اس بات کے انتظار میں نہ رہیں کہ یہ تربیت گاہیں اور اسکولس اپنے فرائض پورے کرکے ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں، انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ انفرادی طور پر اپنے بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنائیں،والدین کو چاہئے کہ اس کام کو اہمیت دیں کیونکہ اولاد کی تربیت ایک ایسا مشکل کام ہے جسے ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے کرنا ہوتا ہے۔


ولایت پورٹل:
والدین ہرگز ہرگز اس بات کے انتظار میں نہ رہیں کہ یہ تربیت گاہیں اور اسکولس اپنے فرائض پورے کرکے ان کی اولاد کو اچھا شہری بنائیں، انہیں خود اس ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا کہ انفرادی طور پر اپنے بچوں کو معاشرے کا ذمہ دار فرد بنائیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ والدین گھروں میں ہی کچھ ایسے ہلکے پھلکے قانون بنائیں جن پر عمل کرکے بچوں کے کردار میں پختگی آئے اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو۔
ہم ذیل میں کچھ وہ بنیادی قوانین پیش کررہے ہیں کہ جن پر عمل کرکے بچوں میں قوانین کی رعایت جیسے اہم امور میں دلچسپی پیدا ہوسکتی ہے،لہذا والدین کو ان میں جو مناسب لگیں وہ اختیار کرسکتے ہیں یا اگر ضرورت محسوس کریں تو ان میں ترمیم و اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
1۔ گھر کا ہر فرد نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے گا۔
2۔«برائے مہربانی» اور «شکریہ» کے کلمات بنیادی ضوابط ہونگے جن سے کوئی بھی بری نہیں ہوگا۔
3۔کوئی«مار پٹائی»، کوئی «گالی گلوچ» یا کوئی بھی «لعن طعن» والی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے بدذوقی کا احساس ہو۔
4۔اپنے محسوسات اور خیالات کو ادب و احترام اور وضاحت کے ساتھ گھر میں پیش کیا جائے گا۔
5۔جو کوئی بھی جس جس چیز کو (دروازہ، کھڑکی، ڈبہ، پلیٹ) کھولے گا اُسے بند بھی کرے گا، کچھ گر جائے تو اُسے اٹھائے گا اور جگہ کو اُس سے زیادہ صاف کر کے رکھے گا جیسے پہلے تھی۔
6۔آپ کا کمرہ خالص آپ کی ذمہ داری ہے۔
7۔جو کوئی بات کرے گا اُسے ٹوکے بغیر سنی جائے گی اور بات کو درمیان میں سے کوئی نہیں کاٹے گا۔  
8۔ گھر میں داخل اور جارج ہوتے ہوئے سلام کرنا ہوگا۔
9۔گھر کا ہر فرد روزانہ قرآن مجید سے ایک چوتھائی کی تلاوت کرے گا۔
10۔جو ہم سے ملنے آئے وہ ہمارے قوانین کا احترام کرے گا۔
11۔ گھر کا کوئی بھی فرد اپنے کمروں میں جا کر کچھ نہیں کھائے گا۔
12۔رات کو (11:00) کے بعد کوئی بھی نہیں جاگے گا۔
13۔سمارٹ فون اور ڈیوائسز صرف صبح 8 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان میں استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
14۔والدین کیلیئے احتراما کھڑا ہونا، اُن کے سر پر بوسہ دینا یا اُن کے ہاتھ چومنا ضروری شمار ہوگا۔
15۔مل کر بیٹھتے وقت،کسی قسم کی مواصلاتی ڈیوائس (فون/پیڈ) کا استعمال منع ہوگا۔
16۔کھانے پینے کے وقت میں سب کی حاضری اور شمولیت ضروری ہوگی۔
17۔رات11 بجے کے بعد مثلاً کسی قسم کی تعلیمی سرگرمی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
18۔گھر کے سارے افراد گھر اور گھر میں موجود ہر شئی کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔
19۔اپنا کام ہر کوئی خود کرے گا، کوئی کسی دوسرے پر حکم نہیں چلائے گا ہاں مگر گھر کے سربراہان اپنا کام کسی کو کہہ سکتے ہیں۔
20۔خاندان اور اُس کی ضروریات کسی بھی دوسری ضرورت پر مقدم اور پہلے کی جانے والی شمار ہونگی۔
21۔کوئی بھی کسی کے کمرے یا علیحدگی والی جگہ پر درزاہ کھٹکھٹائے یا اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر محمد راتب نابلسی کہتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کو بہت ہی مفید پایا ہے،والدین کو چاہئے کہ اسے اہمیت دیں کیونکہ اولاد کی تربیت ایک ایسا مشکل کام ہے جسے ہفتے کے سات دن اور دن کے چوبیس گھنٹے کرنا ہوتا ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Dec 15