Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184554
Published : 11/12/2016 19:36

معرفت امام زمانہ علیہ السلام کی ضرورت

جو شخص بھی امام برحق سے سنے اور احکام حاصل کئے بغیر خدا کی پرستش کرے ،خدا وندعالم یقینا اسے رنج ومشقت میں مبتلا کرتا ہے اورجو شخص اللہ کے معین کردہ باب کے علاوہ کسی اور باب سے سنے اورحاصل کرنے کا دعوی کرے وہ مشرک ہے۔


ولایت پورٹل:
امام خصوصا امام زمانہ یعنی اپنے زمانہ کے رہبر ،پیشوا ،نمونۂ عمل اور خدا سے رابطہ کے اکلوتے ذریعہ کی معرفت کی ناقابل انکار اہمیت کے پیش نظر پیغمبراسلام(ص)نے ارشاد فرمایا:«من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ جاھلیة»۔(۱)
ترجمہ:جو شخص بھی اپنے زمانہ کے امام(ع) کو پہچانے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
اپنے زمانہ کے امام(ع) کو نہ پہچاننے کا مطلب یہ ہے کہ امام وقت سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور امام سے کوئی رابطہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خدائی ہدایت سے تعلق ختم ہو گیاہے اور اسی کا نام جاہلیت کی موت ،گمراہی اور دین کے دائرے سے خارج ہونا ہے۔
پیغمبر اسلام(ص) کے اسی ارشاد کا تذکرہ فرمانے کے بعد امام محمد باقر(ع) نے فرمایا:«لا یعذر الناس حتیّٰ یعرفوا امامھم»۔(۲)
امام کی معرفت کے سلسلے میں لوگوں کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے۔
رہبر و قائد کی معرفت ہر انسان کے اولین واہم ترین فرائض میں شامل ہے اور اس سلسلہ میں کسی بھی قسم کی کوتاہی ناقابل معافی جرم ہی نہیںبلکہ ناقابل تلافی نقصان بھی ہے۔
سعادت و شقاوت اور قیادت    
عرض کیا گیا کہ خداوندعالم کی نظر میں الٰہی ہدایت انسانوں کی سعادت و خوش نصیبی کی بنیاد ہے،اس کے علاوہ کوئی ہدایت انسان کے شایان شان نہیں ہے چنانچہ خدائی قوانین کے علاوہ کسی بھی دین ومذہب اور آئین ودستور کو خداوند عالم باطل اور جاہلانہ آئین قرار دیتا ہے۔
اس بیان کی روشنی میں اب ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ دین خدا کا ایک اہم اور بنیادی قانون اور دستور یہ ہے کہ الٰہی ہدایت اور خداسے رابطہ کے لئے تمام انسانوں کا خدائی نمائندہ اور امام معصوم سے تعلق رکھنا ضروری ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو انسان کا رابطہ خدا سے منقطع ہو جائے گا اور وہ حقیقی ہدایت سے محروم ہوجائے گا۔ اسی لئے قرآن مجید نے انسان کے انجام اور سعادت وشقاوت کو زمانہ کے امامؑ سے رابطہ کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:«یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِہِمْ »۔(۳)
ترجمہ:قیامت کا دن وہ ہوگا جب ہم ہر گروہ انسانی کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔
اس آیۂ کریمہ کے ذیل میں امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں:«اس دن رسول خداؐ، امیرالمؤمنین(ع)، امام حسن(ع)اور امام حسین(ع) اپنی اپنی قوم کے ہمراہ تشریف لائیں گے اور جو شخص بھی جس امام (ع)کے دور میں اس دنیا سے رخصت ہوا ہو گا وہ دنیا میں اس امام(ع) کے ساتھ محشور ہوگا»۔(۴)
جی ہاں! قیامت کے دن ہر شخص اپنے زمانہ کے امام کے ساتھ محشور ہوگا تاکہ عدالت الٰہی میں اس سوال کا جواب دے سکے کہ زمانہ کے جس اما م کو خدا نے منصوب کیا تھا، جس کی معرفت، اطاعت اور تعلق کو واجب قرار دیا تھا اس کے ساتھ تم نے کیا کیا؟ خوش نصیب ہیں وہ افراد کہ جو غیر معصوم ،جعلی ،نقلی اور نا اہل آئیڈیل کو اپنانے کے بجائے رہبران الٰہی اور آئمہ معصومین(ع) کی پیروی کرتے ہوئے اس اطاعت و پیروی کے نتیجہ میں معصومین(ع) کے جوار میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سعادت ابدی اور خوش نصیبی کی معراج اور حیات طیبہ سے سرفراز ہوں گے۔
امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں:«کیا تم اس بات پر خد اکی حمد و ثنا نہیں کرتے ہو کہ روز قیامت ہر قوم کو اس کی طرف بلایا جائے گا کہ جس سے وہ محبت کر تی تھی (اس دن) ہم رسول خدا(ص) کا دامن تھامے ہوں گے اورتم لوگ ہمارا دامن»۔(۵)
یقینا یہ عظیم بشارت ہے جس کے لئے انسان کو حد درجہ حمد وثناکرنا چاہئے، شکر گذار ہونا چاہئے یہ بشارت آئمہ معصومین(ع) کے ماننے والوں، ان سے متوسل ہونے والوں کے لئے حد درجہ خوشی کا سبب ہے مگر خوشی صرف انہیں افراد کو حاصل ہوگی جنھوں نے اس دنیا میں واقعا اہلبیت(ع) کا دامن تھاما ہو، اور ان کے علاوہ کسی کا راستہ منتخب نہ کیاہو، ان کے علاوہ کسی کو نمونۂ عمل تسلیم نہ کیا ہو۔ اس صورت میں انسان قرآنی اعلان کے مطابق اپنے امام کے ساتھ محشور ہو کر ان کے جوار رحمت میں جگہ پائے گا۔
آپ(ع) ہی کا ارشاد ہے:«زمین کبھی امام(ع)کے وجود سے خالی نہیں ہو سکتی جو حلال خدا کوحلال اور حرام خدا کوحرام کرتاہے اورخدا کے اعلان «اس دن ہم ہر قوم کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے»۔  
کا یہی مطلب ہے۔ پھر آپ(ع)نے فرمایا: رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے:«جو شخص اپنے زمانہ کے امام(ع)کے بغیر مر جائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے»۔(۶)
اسی آیہ کریمہ کے ذیل میں آپ(ع) کا ارشاد ہے:«قیامت کے دن پروردگار عالم سوال کرے گا کہ »کیا تمہارے پروردگار کی عدالت کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ وہ ہر قوم سے کہے کہ آج اسی کے پیچھے جائو کہ دنیا میں جس کے پیچھے چلتے تھے ؟سب جواب دیں گے یقینا یہ بات عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ تب سب سے کہا جائے گا کہ الگ الگ ہو جائو(اور ہر آدمی اس کے ساتھ ہو جائے کہ جس کے پیچھے دنیا میں چلتا تھا) اس طرح سب لوگ الگ الگ ہوجائیں گے»۔(۷)
ہر انسان اپنے قائد ،رہبر، نمونۂ عمل اور امام(ع) کے ساتھ محشو رہوگا اگر اس کا امامؑ جنتی ہوگا تو وہ شخص بھی جنت میں جائے گا اور اگر امام جہنمی ہوگا تو پیروبھی جہنم میں جائے گا۔
بنابر ایں آیات و روایات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ جنتی و جہنمی اور سعید وشقی ہونے کا مکمل تعلق اس بات سے ہے کہ انسان نے اپنے آپ کو کس امام اور قائد ورہبر کے حوالے کیا ہے اور کس نمونۂ عمل کے نقش قدم پر چل کر زندگی بسر کی ہے ۔اگر حقیقی رہبروں اور الٰہی نمائندوں کی ولایت ورہبری کی پیروی کرتے زندگی بسر کی ہے تو ان کی راہ ہدایت پر چل کر جنت اور خداوندعالم تک پہونچ جائے گا اور اگر ایسا نہیں ہے تو جن کا اتباع کیا ہے انہیں کے ہمراہ محشور ہوگا۔
چونکہ معصومین(ع) کے علاوہ کسی کے پاس رہبری کی صلاحیت اور فلاح وکامیابی کے لئے ضروری معلومات ولیاقت نہیں ہے لہذا اس کی قیادت و رہبری جاہلانہ ہے ا ور انسانی مقام و عظمت کے شایان شان نہیں ہے لہذا خواہ نخواہ اس کی ہدایت جہنم کی جانب ہو گی نتیجہ میں وہ اپنے پیروکاروں کو جہنم کے حوالہ کر دے گا ۔اس لئے ہر انسان کو اپنی زندگی میں اس مسئلہ کی جانب بھر پور توجہ کرنا چاہئے کہ وہ کسے اپنا رہبر تسلیم کررہا ہے اور کس کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔
حقیقت میں رہبر وہی ہوتا ہے کہ عملی طورپر انسان جس کی پیروی کرتا ہے، دل کی گہرائیوں سے جس کی حاکمیت کو قبول کرتا ہے، جس کی فکر اور احکام کو دل وجان سے چاہتا ہے،لہذا اگر کوئی انسان اس بات کا مدعی ہو کہ امام مہدی(ع) اس کے امام ہیں لیکن عمل کے میدان میں، رفتار و گفتار و کردار میں ان لوگوں کی پیروی کرتاہے جو فاسق و فاجر ہیں، امام زمانہ(ع) کی نگاہ میں لعنت و نفرت کے حقدار ہیں جنھیں حضرت(ع) سے کوئی نسبت نہیں ہے اگر ایسے افراد کو نمونۂ عمل بناتاہے تو یہ شخص دراصل اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے اس لئے کہ ہر شخص کاامام واقعی اس کا حقیقی آئیڈیل اور نمونۂ عمل ہوتاہے نہ کہ وہ امام کہ جس کا نام وہ اپنی زبان پر رکھتا ہے اور جس کے نعرے لگاتا ہے۔
یہاں تک یہ بات واضح ہوگئی کہ امام بھی دو طرح کے ہوتے ہیں اور پیروی کرنے والے (شیعہ) بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔
اماموں کا ایک گروہ وہ ہے جو حقیقی اور امام برحق ہے جنھیں خدا نے اپنے نور علم و ہدایت سے آراستہ کیا ہے، انھیں پاکیزہ او ر معصوم بنا کر لوگوں کی ہدایت کے لئے پیش کیا ہے اور ان کے شیعہ بھی حقیقی شیعہ اور پیرو ہیں یہ حضرات حقیقی سعادت اور خوش نصیبی سے ہمکنار ہوں گے۔
دوسرا گروہ کاذب اور جھوٹے اماموں کا گروہ ہے جو خدا کی جانب سے منصو ص ومنصوب نہیں ہیں نہ ان کے پاس فلاح وسعادت کے لئے لازمی علوم پائے جاتے ہیں۔ ان کے پیرو گمراہ اور راہ سعادت سے دور ہوتے ہیں۔
امام جعفر صادق(ع) ایسے افراد کے بارے میں فرماتے ہیں:«من دان اللّٰه بغیر سماع عن صادق َالزمه اللّٰه البتة الی العناء ومن ادعی سماعا من غیر الباب الذی فتحه اللّٰه فھو مشرک»(۸)
جو شخص بھی امام برحق سے سنے اور احکام حاصل کئے بغیر خدا کی پرستش کرے ،خدا وندعالم یقینا اسے رنج ومشقت میں مبتلا کرتا ہے اورجو شخص اللہ کے معین کردہ باب کے علاوہ کسی اور باب سے سنے اورحاصل کرنے کا دعوی کرے وہ مشرک ہے۔
جی ہاں! خدائی نمائندوں اور معصومین (ع)کو چھوڑ کر غیروں کی راہ اختیار کرنے والے کی قسمت میں زحمت ومشقت ،ندامت وپشیمانی اور دردر کی ٹھوکروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے ایسے افراد کبھی منزل مقصود تک نہیں پہونچ سکتے صرف خدا کی جانب سے منصوص ومنصوب صادق اور برحق آئمہ کی پیروی کے ذریعہ ہی انسان ندامت و پشیمانی اور اضطراب سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔
.....................................................................................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔بحارالانوار،ج ۸،ص ۳۶۸۔   
۲۔بحارالانوار،ج۲۳ ،ص۸۸۔  
۳۔سورہ اسراء،آیت:۷۱۔
۴۔الفصول المھمہ، ج ۱ ،ص ۳۵۵۔    
۵۔بحارالانوار، ج ۸،ص۸۔
۶۔بحارالانوار :ج ۸،ص۱۲۔    
۷۔بحارالانوار،ج ۸،۲۶۔
۸۔اصول کافی: ج۱،ص۳۷۷۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24