Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184579
Published : 13/12/2016 18:31

حلب کی آزادی شامی فوج کی کامیابیوں کا اہم موڑ(ایک تجزیہ)

شام کی فوج نے کہا ہےکہ مشرقی حلب میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانے سے ان کو باہر نکال دیئے جانے سے یہ شہر پانچ سال کے بعد دہشت گردوں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد ہوگیا ہے۔


ولایت پورٹل:بعض رپورٹوں سے حلب شہر میں پراگندہ طور پر جھڑپوں کی نشاندہی ہوتی ہے،لیکن شام کے باخبر ذرائع نے اعلان کیا ہےکہ آئندہ چند گھنٹوں کے دوران یہ شہر دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک ہوجائے گا اور اسے محفوظ علاقہ قرار دے دیا جائے گا،حلب میں دہشت گرد گروہوں کی شکست کے بعد ان گروہوں کے عناصر نے آپس میں ایک دوسرے پر خیانت اور جاسوسی کرنےکا الزام لگایا ہے۔  یوں دہشت گردوں کے اختلافات اور بوکھلاہٹ کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے،حالیہ ہفتوں کے دوران حلب میں دہشت گردوں کو شدید شکست کا سامنا کرناپڑا ہے،ان کے حامیوں نے مختلف اجلاس بلا کر مشرقی حلب میں شام کی فوج اور اس کے اتحادیوں کے آپریشن کو روکنے کی کوشش کی،لیکن یہ اقدامات شام میں دہشت گردوں کو شکست سے نہ بچا سکے اور وہ حلب میں اپنی شکست دیکھ رہے ہیں لیکن ان کو اپنی شکست پر یقین نہیں آرہا ہے،شام کے حکام ، علاقائی اور بین الاقوامی عہدیدار اور حلقے اس صورتحال اور اس کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں،بلاشبہ دمشق اور حمص کے بعد اس ملک میں دہشت گردوں کی آخری امید حلب ہی ہے اور اس کی مکمل آزادی سے شام میں جنگ کی صورتحال بدل جائے گی۔ اس تناظر میں حلب میں دہشت گردوں کی شکست حالیہ مہینوں میں دہشت گردوں کے مقابلے میں شام کی فوج کی کامیابیوں کا ایک اہم موڑ شمار ہوتی ہے اور اس کے بعد شام کے دوسرے علاقوں میں ان کی شکستوں کا نیا مرحلہ شروع ہو جائے گا،یہی وجہ ہے کہ حلب میں دہشت گردوں کی شکست کو شام میں ان کے خاتمے کی الٹی گنتی سے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ حلب شہر کی آزادی خطے میں مغرب والوں، صیہونیوں اور دہشت گردی کے حامی بعض عرب ممالک اور ترکی کے منصوبے کی ناکامی کے مترادف بھی ہے،اسرائیل مغرب کے ساتھ مل کر خطے میں سازشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور یہ ممالک گستاخی سے کام لیتے ہوئے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں صیہونی وزیر جنگ اویگڈور لیبرمین نے کچھ عرصہ قبل صراحت کے ساتھ کہا تھاکہ عراق اور شام کی تقسیم خطے کے بحرانوں کا اصل حل ہے۔ اس سے مشرق وسطی کے علاقے میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور مخاصمانہ اہداف کی نشاندہی ہوتی ہے،شام کے خلاف کی جانے والی سازش کا جائزہ مشرق وسطی کے علاقے میں اس علاقے سے باہر کی طاقتوں کی مداخلت کے تناظر میں لیا جانا چاہئے۔ مغرب نے یہ مداخلت علاقائی ممالک کی تقسیم کو مدنظر رکھ کر ہی شروع کی ہے،شام کے خلاف سازش تیار کرنے والوں کے نزدیک حلب اس ملک کا ایک اہم شہر ہے۔ اور اسی وجہ سے حلب کے خلاف دہشت گردوں کی سازش شروع ہوئی۔ سازش یہ تیار کی گئی تھی کہ حلب پر دہشت گردوں کے مکمل قبضے کے اسے سرزمین شام سے الگ ہونے والے حصے کا دارالحکومت قرار دے کر شام کو تقسیم کر دیا جائےلیکن شام کی فوج ، کہ جس کو خطے کے بعض ممالک کی عوامی رضاکار فورس کی حمایت بھی حاصل ہے، کی مثالی استقامت نے ایک بار پھر خطے میں توسیع پسند طاقتوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا،یہ بات مسلّم ہے کہ حلب میں دہشت گردوں کی شکست علاقے کے لئے اچھےنتائج کی حامل ہوگی اور دہشت گردوں کے مقابلے میں استقامت اور عوامی رضاکار فورس کے اہلکاروں کے حوصلے بلند ہوں گے۔مشرق وسطی کے علاقے میں دہشت گردوں کے کمزور ہونے سے خطے میں مزید علاقوں منجملہ عراق میں موصل اور لیبیا کے مزید علاقوں کی آزادی کا راستہ ہموار ہوگا۔ مجموعی طور پر حلب میں شام کی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی گرانقدر کامیابی سے مستقبل میں دہشت گردی کا قلع قمع ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
سحر
 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17