Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184593
Published : 14/12/2016 17:20

امت واحدہ کا تصور اور طاغوت پرستی

دراصل طاغوت عالم اسی ایک نقطے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہےکہ انسانوں کواپنے خالق ومالک کامطیع نہ ہونے دیا جائےکیونکہ اگر انسان اس ایک خالق ومالک کےمطیع ہوگئے تو یہ اپنی گردن سے طاغوت کی غلامی کاطوق نکال دیں گے۔


ولایت پورٹل:
اللہ تبارک وتعالیٰ نےکس قدر اس کائنات کوحسین وجمیل بنایا اس کائنات میں بکھرا ہوا حسن خدائی مذاج ،اس کی پسند اورمحبت کامظہر ہےکائنات کی ہرچیز اپنے فطری کمال کوچھورہی ہے اوریہ نظام کائنات ایک مکمل نظم وضبط اوراعتدال پرقائم ہے ہر چیز اپنی خاصیت سےبھری ہوئی ہے اوراس کی اصل اپنی تخلیق کےفلسفے اورمقصد کو کماحقہ پورا کررہی ہے کائنات کاہر ذرہ اپنی ذمہ داری پوری کرتا دکھائی دیتا اوراپنے اندر چھپے ہوئے فیض سےخود سے وابستہ اشیاء تک اس فیض کوپہنچاتا نظر آتاہے۔
کائنات کی ہر چیز انسان کےسامنے مسخرہے اوراس کائنات سےاصل فائدہ تو حضرت انسان ہی اٹھارہا ہے وہ جس چیز کو جس طرح چاہے استعمال کرے یہ کائنات قانونِ فطرت کے تحت کماحقہ انسان کی مطیع اورفرماں بردار ہے۔
سوال یہ ہےکہ جب کائنات کا ذرہ ذرہ اور ہر شے انسان کی فرماں بردار اورمطیع ہے توآخر حضرت انسان اپنے خالق کامطیع وفرمابردار کیوں نہیں ہے؟ دراصل طاغوت عالم اسی ایک نقطے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہےکہ انسانوں کواپنے خالق ومالک کامطیع نہ ہونے دیا جائےکیونکہ اگر انسان اس ایک خالق ومالک کےمطیع ہوگئے تو یہ اپنی گردن سے طاغوت کی غلامی کاطوق نکال دیں گےدراصل اس طاغوت کی غلامی کو ہی دین سے دوری سے تعبیر کیا گیا ہےاور یہ دین سےدوری ہی انسانوں کےدرمیان فساد قتل وغارت گری اورتباہی وبربادی کاباعث بنتی ہے،ہم یہاں مذہب سے مراد دین اسلام لےرہے ہیں کیونکہ یہ واحد دین ہے جوانسانوں کوتفریق سےبچاتا ہے اورامت واحدہ کےتصور کواجاگر کرتا ہے اوریہ تصور ہی طاغوتی قوتوں کےلیے بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ تصور انسانیت کو جوڑنے کا تصور ہے تو ثابت ہوا کہ مذہب کےنام پرفسادات کے بنیادی وجہ طاغوت پرستی ہے۔
چنانچہ جب مذہب کی بنیاد پر  مذھب کے پیروکاروں کے درمیان دانستہ طور پر جہالت و بیخبری کو پھیلایا جائے گا اور«میرا عقیدہ» کی بنیاد پر ،،میں اور میرا ،کا تصور سامنے آئے گا تو پھر اس کےاندر ذاتیات کا عنصر غالب آجائے گا پھر معاملہ اسی طرح ہوگا کہ جیسے میرا گھر،میرا کاروبار ،میری گاڑی اورمیرا ادارہ لیکن اسلام اس طرح نہیں ہے اسلام سب کا ہے اور یہ تصور دین ہی امت واحدہ کی دعوت دیتا ہے  لیکن جب’ میرا ‘ کا تصور اجاگر ہو گا تو اس کا ردّ عمل فرقوں اورمسلکوں کی صورت میں سامنے آئے گا ،پھر اسی طرح میرا فرقہ، میرا مسلک،میرادھرم، میرا نظریہ، میراخیال کےتصورات سامنے آئیں گے۔پھراس کےنتیجے میں میری مسجد، میری امام بارگاہ،میرامدرسہ،میرا ادارہ ، میری عبادت گاہ ،کےمعاملات سراٹھائیں گے پھر ان مسلکی مفادات کےٹکراؤ کی صورت میں مذہب کےنام پرفسادات کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
اور پھر جب خالق پر یقین کا فقدان ہوجائے گااور امت واحدہ کا تصور دم توڑ جائے گا تو پھر بت پرستیاں شروع ہوجائیں گی، اوریوں نفس پرستی، فرقہ پرستی، قوم پرستی،نسل پرستی، کا ایک دور چل نکلے گا۔پھر جب انہی بتوں کی پرستش میں معاشرہ لگ جائےگا تو انسانی اقدار پامال ہونا شروع ہوجائیں گی اورنتیجہ کےطورپر انسانی معاشرہ ایک حیوانی اوردرندہ معاشرے کاروپ دھارلے گا۔
آج پوری دنیا میں یہی صورت حال ہے نہ مذہبی لوگوں کا کوئی حال ہے اورنہ ہی سیاسی لوگوں کا،سب کا بُرا ہی حال ہے مذہب کانام بھی بدنام ہورہا ہے اورسیاست کوبھی مفافقت کا لباس پہنا دیا گیا ہے۔
رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں،ہر مسافر یہاں لٹیرا ہے
معبدوں کےچراغ گل کردو ،قلبِ انسان میں اندھیرا ہے
 
ابلاغ


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16