Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184597
Published : 14/12/2016 18:9

پیغمبر اکرم(ص) کے حکیمانہ اقوال

رسول اللہ (ص) نے جناب ابوذر سے نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت شمار کرو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت و سلامتی کو بیماری سے پہلے، مالداری کو غربت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔

ولایت پورٹل: ۱۷  ربیع الاول کو سب سے بلند و بالا مقام رکھنے والا بندہ خدا، محبوب خدا اور خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) اس دنیا میں تشریف لائے اور آپ نے اپنے نور سے عالم کائنات کو منور کردیا۔
جس پیغمبر کو خداوندعالم نے شاہد و مبشر و نذیر اور سراج منیر جیسے الفاظ سے نوازا، اور ان کی شان میں فرمایا:«و ماارسلناک الا رحمة للعالمین»، وہ پیغمبر رحمت، دریائے مہربانی اور خوبیوں کی مجسم تصویر تھے،وہ پیغمبر جس کو لوگوں نے پتہر مارے، جن کے سر پر مٹی ڈالی اور جن کی شان میں گستاخیاں کیں لیکن آنحضرت (ص) نے ان پر نفرین اور بددعا کے بجائے ان کے لئے دعا کی، لہٰذا ان کا دین بھی دین رحمت اور دین مہربانی ہے۔
آنحضرت (ص) کے فضائل و مناقب کو کوئی درک نہیں کرسکتا، اور نہ ہی ان کو شمار کیا جاسکتا ہے، آپ کی ذات مبارک نے اولین و آخرین میں سب سے پہلے خدا کی ربوبیت کا اقرار کیا، آپ امام الائمہ، حبیب خدا اور ایک کلام میں خداوندسبحان کی مثل اعلیٰ ہیں۔
آپ خداوندعالم کی ایسی عبادت  کیا کرتے تھے کہ  آپ کے پائے مبارک پر ورم آجاتا تہا،جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں: جب بھی حضرت رسول اکرم (ص)سے کوئی سوال کیا جاتا تہا تو آپ اس کا جواب منفی نہیں دیتے تھے۔
آپ کے دشمن آپ کو امانت دار کے نام سے جانتے تھے، یہاں تک کہ آپ ،اپنے دشمنوں کے درمیان «امین» کے نام سے مشہور تھے، اور وہ آپ کو صادق اور سچا مانتے تھے، آپ کی بزم، علم و حلم اور حیا اور وقار کی بزم ہوتی تہی، آپ بہت زیادہ خاموش رہتے تھے، اور جب تک گفتگو کی ضرورت نہیں ہوتی تہی، کلام نہیں کرتے تھے، آپ کا ہنسنا تبسم تہا، آپ خوشی اور غضب کے عالم میں حق کے علاوہ کچہ نہیں کہتے تھے، جب کوئی شخص آپ کے پاس آکر بیٹھتا تہا تو اس کے جانے سے پہلے نہیں اٹھتے تھے۔
۱۷ ربیع الاول ہی کو حضرت امام صادق علیہ السلام کی ولادت با سعادت بھی ہے، آپ کی ذات مبارک سے تعلیمات نبوی کے دریا بہہ کر ہمارے لئے اب بھی یادگار کے عنوان سے باقی ہیں، آپ نے حضرت رسول خدا(ص) کے بہت سے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:
”حضرت رسول اکرم (ص) اپنے خوشی کے لمحات کو اپنے اصحاب کے درمیان تقسیم فرمایا کرتے تھے اور سب اصحاب کو مساوی دیکہا کرتے تھے، آپ نے کبھی بھی اپنے اصحاب کے درمیان اپنے پائے مبارک نہیں پھیلائے اور اگر کوئی شخص آپ سے مصافحہ کرتا تھا تو آپ اس کا ہاتھ اس وقت تک نہیں چھوڑتے تھے کہ جب تک وہ خود نہ چھوڑ دے۔
اس ذات کے مناقب کس طرح بیان کئے جاسکتے ہیں کہ جس کو معراج پر بلانے کے سبب خداوندعالم خود اپنی تسبیح و تقدیس کرتا ہے اور فرماتا ہے:«سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ»۔
یعنی پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندہ کو راتوں رات، مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک۔
اور انہیں منتخب کیا تاکہ ان سے ملاءاعلیٰ میں نجوا کریں:«فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحیٰ»۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے چند اقوال زرین :
آنحضرت (ص) نے جناب ابوذر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
۱۔يا اباذر،أعبد الله كأنك تراه فإن كنت لا تراه فإنه يراك۔
اے ابوذر! خدا کی ایسی عبادت کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اُسے نہیں دیکھ رہے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
۲۔يا اباذر ،اغتنم خمسًا قبل خمس: شبابك قبل هرمك ، و صحّتك قبل سقمك ، و غناك قبل فقرك و فراغك قبل  شغلك، و حياتك قبل موتك.
اے ابوذر! پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت شمار کرو، جوانی کو بڑھاپے سے پہلے، صحت و سلامتی کو بیماری سے پہلے، مالداری کو غربت سے پہلے، فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔
۳۔يا اباذر ، لا تنظر إلی صغر الخطيئة و لكن انظر إلی من عصيت۔
اے ابوذر! گناہ کے چہوٹے ہونے پر نگاہ نہ کرو، بلکہ یہ دیکہو کہ کس کی نافرمانی کر رہے ہو، یہ اس بات کا کنایہ ہے کہ کسی بھی گناہ کو چھوٹا نہ سمجہنا چاہئے کیونکہ وہ نافرمانی خدا ہے۔
۴۔ يا اباذر ، من لم يأت يوم القيامة بثلاث فقد خسر ، قلت : و ما الثلاث فداك أبي و امي ؟ قال ورع يحجزه عمّا حرّم الله عزّوجّل عليه ، و حلم يردّ به جهل السفيه ، و خلق يداري به الناس۔
اے ابوذر! جو شخص روز قیامت تین چیز ساتھ نہ لائے گا وہ خسارہ میں ہوگا، ابوذر کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، وہ تین چیزیں کیا ہیں: تو آنحضرت (ص) نے فرمایا: ایسا ورع [اور تقویٰ] جو اُسے خداوندعالم کی حرام کردہ چیزوں سے روکے، ایسا حلم [بردباری] جو کسی جاہل کی نادانی کا اپنے حلم کے ذریعہ جواب دے۔ اور ایسا اخلاق جس کے ذریعہ لوگوں کے ساتھ مدارا اور تواضع کرے۔
۴۔طوبي لمن عمل بعلمه و أنفق الفضل من ماله، و أمسك الفضل من قوله۔
خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے علم پر عمل کرے، اور اپنے اضافی مال سے راہ خدا میں خرچ کرے، اور اپنے کلام میں زیادہ گوئی سے پرہیز کرے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16