Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184602
Published : 15/12/2016 11:35

مذہب تشیع کے نزدیک عقل کی اہمیت اور حجیت

شیعہ مذہب کا ایک منبع و مآخذ عقل بھی ہے،اور عقل کے معتبراور حجت ہونے کی سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ خداوند عالم کاوجود اور دین وشریعت کا اثبات عقلی استدلال سے ہی وابستہ ہے۔


ولایت پورٹل:
ہم نے سابق ابحاث میں شیعہ مذہب میں قرآن اور سنت نبوی کی حجیت نیز اہل بیت اطہار علیہم السلام کے واجب الاطاعۃ ہونے پر فریقین کی کتابوں سے استدلال کیا اور ان سب کی حجیت پر قانع کنندہ دلائل بھی آپ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کئے اسی سلسلے کی تیسری اور اہم بحث آج پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں لہذا سابق موضوعات کے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے!
(1)اصو ل دین اور فروع دین کے لئے شیعہ مآخذ
(2)قرآن مجید کی حجیت کے متعلق شیعیوں کا موقف
(3)شیعہ مذہب کے نزدیک سنت پیغمبر اکرم(ص) کی حجیت
قرآن مجید اور عقل
قرآن مجید نے عقلی تفکر کوتسلیم کیا ہے او ر اس سلسلہ میں بے حد تاکید کی ہے چنانچہ ارشاد ہوتاہے:«إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَآیَاتٍ لِأُولِی الْأَلْبَابِ،الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اﷲَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَ عَلَی جُنُوبِھِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ،ِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»۔(1)
قرآن کریم نے جہاں نظام کائنات کے بارے میں غور و فکر کرنے والوں کی مدح وثناکی ہے وہیں ان لوگوں کی مذمت بھی کی ہے جو کائنات کے اسرار کو پہچاننے کے لئے اس طرح غور و فکر نہیں کرتے ہیں کہ جس سے انسان خدا کی معرفت حاصل کر لیتا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:«إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اﷲِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ »۔(2)
«وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ»(3)
خود قرآن مجید نے بھی دینی عقائد کو ثابت کرنے کے لئے عقلی برہان کے ذریعہ استدلال کیا ہے جیسا کہ توحید کے بارے میں یوں استدلال کیا گیا ہے:«لَوْکَانَ فِیھِمَا آلِهَةٌ إِلاَّ اﷲُ لَفَسَدَتَا»۔(4)
ترجمہ:اگر ان دونوں (زمین وآسمان)کے اندر دو خدا ہوتے تو وہ دونوں تباہ وبرباد ہو جاتے۔
قیامت کے اثبات کے لئے مندرجہ ذیل برہان پیش کیا ہے:«أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لاَتُرْجَعُونَ»۔(5)
اور معصوم رہبروں کی پیروی کے واجب ہونے کے بارے میں یہ استدلال کیا ہے:«أَفَمَنْ یَھْدِی إِلَی الْحَقِّ أَحَقُّ أَنْ یُتَّبَعَ أَمَّنْ لاَیَھِدِّی إِلاَّ أَنْ یُھْدَی فَمَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُونَ»۔(6)
قرآن کریم نے کفارومشرکین سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ اپنے دین کے بارے میں واقعاً سچے دل سے ایمان رکھتے ہیں تو اس کی دلیل پیش کریں:«قُلْ ھَاتُوا بُرْھَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ »۔(7)
ترجمہ:اے پیغمبر(ص)!آپ کہہ دیجئے کہ تم اپنی برہان پیش کرو ،اگر واقعاً سچے ہو ۔
اس کے بعد صاف الفاظ میں یہ بیان کردیا گیا کہ وہ لوگ اپنے ظن و گمان کے علاوہ کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور یہ اہل یقین و بر ہان کے مالک نہیں ہیں:«إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ»۔(8)
قرآن مجید کی نظر میں مشرکین اور کافرین کی بنیاد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھی کہ وہ اپنے بزرگوں کے رسم ورواج کو ہی دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے جبکہ ان کا یہ طریقہ قطعا غیر عاقلانہ اور راہ ہدایت سے یکسر الگ تھا:«وَإِذَا قِیلَ لَھُمْ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اﷲُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا أَوَ لَوْ کَانَ آبَاؤُهمْ لاَیَعْقِلُونَ شَیْئًا وَلاَیَهْتَدُونَ»۔(9)
.......................................................................................................................................................................................................................................................................................................... 
حوالہ جات:
1۔سورہ آل عمران:آیت 190۔ 191۔
2۔سورہ انفال:آیت۲۲۔
3۔سورہ یونس:آیت۱۰۰    ۔
4۔سورہ انبیاء:آیت۲۲۔
5۔سورہ مؤمنون:آیت۱۱۵۔
6۔سورہ یونس:آیت۳۵۔
7۔سورہ بقرہ:آیت۱۱۱۔
8۔سورہ انعام:آیت۱۱۶۔
9۔سورہ بقرہ:آیت ۱۷۰۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17