Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184603
Published : 15/12/2016 12:0

بچوں کے مسائل پر توجہ والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری(1)

مگر جب خود ان کی عمر بڑھتی ہے اور طاقت جواب دے جاتی ہے، صحت خراب ہونے لگتی ہے اور بڑھاپا آہستہ آہستہ اپنے خوفناک جبڑے کھولے ان کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو انھیں یاد آتا ہے کہ ماشاء اﷲ ان کی جوان اولاد بھی تو ہے جو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہے، ان ہی پر تو ہم نے اپنی جوانی، صحت و طاقت نچھاور کر دی، مگر جب وہ اس توقع پر اولاد کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو وہاں ایک طرح کی سرد مہری اور آنکھوں میں طنزیہ اجنبیت کے سائے لہراتے نظر آتے ہیں،وہ والدین کو بحیثیت والدین پہچاننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔

ولایت پورٹل:
یہ آج کا اہم ترین موضوع ہی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ بھی ہے کیونکہ جب سے زندگی کی مصروفیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، انسان مشین بن کر رہ گیا ہے، اسی وقت سے اس مسئلے نے آہستہ آہستہ سر اٹھانا شروع کر دیا تھا، مگر ہماری فطری لاپرواہی اور غفلت کے باعث یہ مسئلہ دن بدن بڑھتا گیا اور آج عالم یہ ہے کہ اولاد اور  والدین آپس میں اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔
نہ اولاد کی جانب سے والدین کے لیے وہ ادب و احترام اور شکرگزاری کا جذبہ باقی رہا اور نہ والدین کی طرف سے اولاد کے لیے شفقت، توجہ اور رہنمائی رہی،نہ ماں کی توجہ بچوں پر ہے اور نہ باپ ان کے اچھے برے کا نگراں ،نہ ان کے بارے میں فکر مند۔
خاندان آہستہ آہستہ ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں،صورتحال کچھ یوں ہے کہ بچے والدین سے پہلے گھر سے نکل جاتے ہیں اور رات بچوں کے سو جانے کے بعد والدین (خاص کر والد) گھر آتے ہیں، دن بھر کی مشقت سے ٹوٹے بدن اور بوجھل روح میں اتنی سکت ہی نہیں رہتی کہ وہ اپنے بچوں پر توجہ دے سکیں،ایک دوسرے کی دن بھرکی روداد، محبت اور توجہ سے بغور سن سکیں اور یوں آہستہ آہستہ ان  پر خلوص رشتوں کے درمیان اجنبیت کی دیوار حائل ہوتی جاتی ہے۔
جب تک والدین جوان اور تندرست ہوتے ہیں تو وہ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہیں نہ اس کے نتائج پر توجہ دیتے ہیں، وہ کبھی کوشش نہیں کرتے کہ اپنے بچوں کے قریب ہو کر ان کے مسائل اور جذبات سے آگاہی حاصل کریں اور نہ ہی انھیں اپنے لیے بچوں کی توجہ خود درکار ہوتی ہے بلکہ وہ بچوں کو خود سے دور کرکے سوچتے ہیں کہ جیسے گاڑی چل رہی ہے چلنے دو، ہم ان ہی کے لیے تو محنت مشقت کرکے کما رہے ہیں، ان کی تمام ضروریات پوری کر رہے ہیں۔
اب ان سے ان کے مسائل بھی پوچھیں، ان کی باتیں بھی سنیں تو اتنا وقت کہاں سے لائیں؟ مگر جب خود ان کی عمر بڑھتی ہے اور طاقت جواب دے جاتی ہے، صحت خراب ہونے لگتی ہے اور بڑھاپا آہستہ آہستہ اپنے خوفناک جبڑے کھولے ان کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو انھیں یاد آتا ہے کہ ماشاء اﷲ ان کی جوان اولاد بھی تو ہے جو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہے، ان ہی پر تو ہم نے اپنی جوانی، صحت و طاقت نچھاور کر دی، مگر جب وہ اس توقع پر اولاد کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو وہاں ایک طرح کی سرد مہری اور آنکھوں میں طنزیہ اجنبیت کے سائے لہراتے نظر آتے ہیں،وہ والدین کو بحیثیت والدین پہچاننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18