Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184606
Published : 15/12/2016 16:42

انڈونیشیا کے صدر نے کی رہبرمعظم سے ملاقات

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ انڈونیشیا کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نقطہ نگاہ برادرانہ اور باہمی تعاون کی بنیاد پر استوار ہے


ولایت پورٹل:رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کے روزانڈونیشیا کے صدر "جوکو ویدودو" کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ فلسطین کے تعلق سے انڈونیشیا کے مواقف کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے بحرانوں کو علاقے کے سخت ترین مسائل اور عالم اسلام  کے اہم ترین مسئلے یعنی فلسطین کو بھلانے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے جبکہ اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے کہ یہ مسئلہ بھلا دیا جائے,رہبر انقلاب اسلامی نے سوکارنو کی ممتاز شخصیت کی تعریف کرتے ہوئے باندونگ کانفرس،جو ناوابستہ تحریک  کی تشکیل کا باعث بنی، کے انعقاد میں ان کے اہم کردار کی قدردانی کی اور فرمایا کہ آج بھی عالمی اداروں میں انڈونیشیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مواقف ایک دوسرے سے قریب ہیں,رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ انڈونیشیا کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نقطہ نگاہ  برادرانہ اور باہمی تعاون کی بنیاد پر استوار ہے،انہوں نے مختلف شعبوں میں انڈونیشا کی اچھی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں بھی مختلف اقتصادی شعبوں اور زیرزمین ذخائر میں بہت زیادہ گنجائشیں اور مواقع پائے جاتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اسلامی ملکوں کو چاہئے کہ وہ دشمنوں کی خواہش کے برخلاف ایک دوسرے کو تقویت پہنچائیں اور اختلافات سے پرہیز کریں,آپ نے دونوں ملکوں کے درمیان گنجائشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اسلامی ملک کی حیثیت سے انڈونیشیا کی عزت و ترقی کو امت مسلمہ کے لئے باعث عزت و افتخار سمجھتا ہے,اس ملاقات میں انڈونیشیا کے صدر "جوکو ویدود" نے بھی اس ملاقات میں اپنے دورہ ایران کا مقصد، اقتصادی تعلقات خاص طورپر توانائی کے شعبے میں تعلقات کا فروغ قرار دیا اور کہا کہ حکومت ایران کے ساتھ تعمیری مذاکرات انجام پائے ہیں،انڈونیشیا کے صدر نے مسئلہ فلسطین کے بارے میں کہا کہ انڈونیشیا، مسئلہ فلسطین کو اہمیت دیتا اور فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کرتا ہے۔
سحر
   



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24