Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184609
Published : 15/12/2016 16:58

مولانا آغا ابو صاحب کی حیات اور کارنامے

آغا ابو صاحب نے وقف کی شرعی حیثیت کو بحال کیا اور سے سے بڑا کام سن ۱۸۹۲ عیسوی میں مدرسہ شاہی کا احیاء تھا،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاہی عمارتوں کے گرنے اور مدرسے کے ضائع ہونے کے بعد ہمیں موزوں زمین اور مناسب عمارت بنانا ہوگی،حکومت نے اس مقصد کے لئے حکیم مہدی کے مقبرے کے پاس بہت بڑی زمین دی جس پر ایک بہت عالی شان مدرسہ تعمیر ہوا،مدرسہ کا نام سلطان المدارس یا جامعہ سلطانیہ رکھا ،مدرسے کے اخراجات وقف حسین آباد اور خود آغا ابو صاحب کے وقف سے پورے ہوتے تھے۔


ولایت پورٹل:
والا جاہ لکھنؤ کے بہت بڑے رئیس اور اس سے بڑے دینی عالم،مقدس ،متقی،فقیہ و ادیب تھے ،نواب والا جاہ صاحب کے ایک بیٹے تھے نواب محمد جعفر صاحب شمس آبادی کے قطعہ تاریخ سے آغا ابو صاحب کی ولادت ۱۲۵۰ ہجری مطابق ۱۸۳۴ عیسوی میں ہوئی،آغا ابو صاحب کا اصلی نام،سید مہدی حسین موسوی بہت کم لوگوں کو معلوم ہے ،لکھنؤ محلہ سعادت گنج سے قریب ان کا موقوفہ مکان اور امام باڑہ اب تک محفوظ ہے۔
نواب والا جاہ نے اپنے فرزند کو جید اساتذہ سے گھر پر تعلیم دلوائی اور نواب آغا ابو،مہدی حسین خان ،عربی ،فارسی زبان کے عالم اور فقیہ و حدیث و طب و فلسفہ کے فاضل کی حیثیت سے ابھرے ۔
حکومت نے انہیں قیصر ہند اور سی آئی ای کے خطاب دیئے ان کی بہادری شہسواری اور اثر و اقتدار نے انگریز حکام کو ان کا گرویدہ بنادیا ،جب شاہی وقف کی دیکھ بھال کا انتظام ہوا تو آغا ابو صاحب بھی ایک متولی مقرر ہوئے،آغا ابو صاحب نے وقف کی شرعی حیثیت کو بحال کیا اور سے سے بڑا کام سن ۱۸۹۲ عیسوی میں مدرسہ شاہی کا احیاء تھا،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاہی عمارتوں کے گرنے اور مدرسے کے ضائع ہونے کے بعد ہمیں موزوں زمین اور مناسب عمارت بنانا ہوگی،حکومت نے اس مقصد کے لئے حکیم مہدی کے مقبرے کے پاس بہت بڑی زمین دی جس پر ایک بہت عالی شان مدرسہ تعمیر ہوا،مدرسہ کا نام سلطان المدارس یا جامعہ سلطانیہ رکھا ،مدرسے کے اخراجات وقف حسین آباد اور خود آغا ابو صاحب کے وقف سے پورے ہوتے تھے۔
سن ۱۹۱۲ء سے ۱۹۴۰ ء تک مدرسہ کی دیکھ بھال باغ اور فرش فروش خادم اور طلباء و مدرسین کے قیام و طعام کا معیار اس عہد کے تمام مدارس دینیہ سے بلند تھا۔
آغا ابو صاحب نے اپنا قیمتی کتب خانہ بھی مدرسے کو دیدیا تھا،اس کتب خانے میں تفسیر و حدیث،فقہ و عقائد جیسے علوم پر کئی ہزار کتابیں تھیں۔
وفات:
آغا ابو صاجب کی تاریخ وفات،۱۸ رجب ۱۳۳۶ ہجری مطابق ۳۰ اپریل ۱۹۱۷ عیسوی بروز سہ شنبہ تھی۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24