Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184634
Published : 18/12/2016 17:14

پیغمبر اکرم(ص)اور دعوت فکر و نظر

پیغمبر اکرم(ص) کے زمانہ میں مسلمان مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں ہوتے تھے بلکہ صرف بت پرستوں اور اہل کتاب سے ہی بحث وگفتگو ہوا کرتی تھی لیکن ائمہ طاہرین(ع) کے زمانہ میں فکری اور کلامی اختلافات کی بنا پر نئے نئے فرقے پیدا ہو گئے،بعض لوگ قرآن کریم اور روایات کے ظواہرسے چپک کر رہ گئے اورانہوں نے غور وفکر پر مکمل پابندی لگا دی ،بعض لوگ تمام احکام و معارف کو صرف اپنی عقل کے سہارے ثابت کرنا چاہتے تھے،اہل حدیث نے پہلی روش اخیار کی اور معتزلہ دوسرے راستہ کے پیروتھے ،ان کے درمیان اہل بیت(ع) نے ایک درمیانی راستہ نکالا اور دوسروں کو کی افراط وتفریط سے دور رہنے کی دعوت دی۔


ولایت پورٹل:ہم نے پچھلی فصل میں،قرآن مجید کے تناظر میں  عقل کی حجیت اور اہمیت پر گفتگو کی تھی اور آج کی ہماری گفتگو پیغمبر اکرم (ص) اور آئمہ طاہرین (ع) کے اقوال میں عقل کی اہمیت پر،قارئین کی خدمت میں پیش ہے لہذا پچھلی گفتگو سے متصل ہونے کے لئے نیچے دیئے لنک پر کلک کیجئے!
مذہب تشیع کے نزدیک عقل کی اہمیت اور حجیت
خداوند عالم کی جانب سے پیغمبراکرم(ص) کی ذمہ داری یہ تھی کہ حکمت ،موعظہ حسنہ، اور جدال احسن کے ذریعہ لوگوں کو توحید الہی کی طرف دعوت دیں:«اُدْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ»۔(۱)
یہ تینوں طریقہ اگرچہ بالکل عقلی اورمنطقی ہیں لیکن فکری سطح کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق  پایاجاتا ہے موعظہ حسنہ غورو فکر کمترین درجہ ہے جب کہ جدل متوسط درجہ اور حکمت تفکر و تعقل سب سے بلند ترین درجہ ہے،پیغمبر اکرم(ص) نے اسلامی عقائد کی تبلیغ کے لئے ان تینوں ذریعوں سے استفادہ کیا قرآن کریم میں ان طریقوں کے متعدد نمونے موجود ہیں اس کے علاوہ کتب تاریخ و حدیث میں بھی متعدد نمونے مذکورہیں:
۱۔ایک یہودی عالم پیغمبر اکرم(ص) کے پاس آیا اور اس نے آنحضرت(ص) سے دو سوالات کئے:
الف: خدا کہاں ہے؟
ب:خدا کیسا ہے؟
پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے جواب میں فرمایا:
الف:خدا کسی مخصوص جگہ نہیں ہے چونکہ وہ محدود نہیں ہے لہٰذا وہ ہر جگہ ہے۔
ب: کیفیت کے ذریعہ خداوند عالم کی توصیف وتعریف ممکن نہیں ہے کیونکہ کیفیت خدا وند عالم کی مخلوق ہے اور اس کے خلق کئے ہوئے صفات کے ذریعہ اس کی تعریف نہیں کی جاسکتی ہے۔(۲)
۱۔ایک اور یہودی عالم نے آنحضرت(ص)  سے کچھ سوالات کئے تو آپ (ص) نے ان کے یہ جوابات عنایت فرمائے:
الف:خدا کا وجود کس طرح ثابت ہو سکتا ہے؟
جواب:اس کی آیات اورنشانیوں کے ذریعہ سے (فلسفہ میں سے برہانی انی کہا جاتا ہے)۔
سوال:جب سب بندوں کو خداوند عالم نے پیدا کیا ہے تو پھر بعض حضرات ہی کیوں نبی بنائے گئے؟
جواب:کیونکہ ان حضرات نے دوسروں سے پہلے خداوند عالم کی ربوبیت کا اقرار کیا تھا،(اس جواب سے رہبر کے صفات بھی واضح ہو گئے)۔
سوال:کس دلیل کی بنیاد پر خداوند عالم ظلم سے پاک اورمنزہ ہے؟
جواب:کیونکہ ظلم اس کی قباحت سے واقف ہے اور اسے ظلم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔«لعلمه بقبحه واستغنائه عنه»۔(۳)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ عدل الٰہی کے اثبات میں متکلمین عدلیہ کی عقلی دلیل یہی ہے جیسا کہ محقق طوسی(رح) نے تجرید الاعتقاد میں کہا ہے:«وعلمه واستغنائه یدلان علیٰ انتفاء القبح عن افعاله»(۴)
ترجمہ:خداوند عالم کا علم اور اس کی بے نیازی اس بات کی دلیل ہیں کہ اس کے افعال میں کوئی برائی نہیں پائی جاتی ہے۔
آئمہ اہل بیت(ع)اورغور و فکرکی دعوت
پیغمبر اکرم(ص) کے زمانہ میں مسلمان مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم نہیں ہوتے تھے بلکہ صرف بت پرستوں اور اہل کتاب سے ہی بحث وگفتگو ہوا کرتی تھی لیکن ائمہ طاہرین(ع) کے زمانہ میں فکری اور کلامی اختلافات کی بنا پر نئے نئے فرقے پیدا ہو گئے،بعض لوگ قرآن کریم اور روایات کے ظواہرسے چپک کر رہ گئے اورانہوں نے غور وفکر پر مکمل پابندی لگا دی ،بعض لوگ تمام احکام و معارف کو صرف اپنی عقل کے سہارے ثابت کرنا چاہتے تھے ۔اہل حدیث نے پہلی روش اخیار کی اور معتزلہ دوسرے راستہ کے پیروتھے ،ان کے درمیان اہل بیت(ع) نے ایک درمیانی راستہ نکالا اور دوسروں کو کی افراط وتفریط سے دور رہنے کی دعوت دی۔
خداوند عالم کی شناخت کے بارے میں مولائے کائنات(ع) نے عقل کے کردار کو ان الفاظ میں واضح کیا ہے:«لم یطلع العقول علیٰ تحدید صفته ولم یحجبھا عن واجب معرفته»۔(۵)
ترجمہ:خدا نے عقلوں کو اپنے صفات کی حقیقت سے آگاہ نہیں کیا مگر انھیں واجب معرفت سے محروم بھی نہیں رکھا۔
اہل بیت(ع) کی نظر میں عقل اصول دین کی شناخت کے سلسلہ میں خود کفیل ہے لیکن احکام الٰہی کی تفصیلات جاننے کے لئے وہ وحی کی رہنمائی کی محتاج ہے اس لئے عقل اور وحی بندوں پر دو حجتیں ہیں جیسا کہ  امام موسیٰ کاظم (ع) نے فرمایاہے:«ان اللّٰه علیٰ الناس حجتین حجة ظاهرۃ وحجة باطنة اما الظاھرۃ فالرسل والانبیاء و الائمة واما الباطنة فالعقول»۔(۶)
ترجمہ:بندوں پر خدا وند عالم کی دوحجتیں ہیں،ظاہری حجت اور باطنی حجت ،ظاہری حجت انبیاء ومرسلین اور ائمہ ہیں اور باطنی حجت عقل ہے۔
اہل بیت(ع) کے مذہب میں عقل اور وحی دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ،ایک جانب تو انبیاء کرام وحی کے سہارے انسانی عقلوں کو ترقی اورکمال عطا کرتے ہیں تو دوسری جانب بشر ی عقل الٰہی حجتوں کی تائید کرتی ہیں ،حضرت علی(ع)نے انبیاء کرام کی بعثت کاایک مقصد یہ بیان کیا ہے کہ اس سے انسانی عقل ترقی کرتی رہے جیسا کہ آپ(ع) فرماتے ہیں:«ولیثیروا لھم دفائن العقول»۔(۷)
امام موسیٰ کاظم(ع)نے عقلوں کو حجت الٰہی کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے:«ان اللّٰه تبارک وتعالیٰ اکمل للناس الحجج بالعقول»۔(۸)
ترجمہ:خداوند عالم نے عقلوں کے ذریعہ لوگوں پر اپنی حجتیں تمام کر دی ہیں۔
.........................................................................................................................................................................................................................................................................................................................................................................

حوالہ جات:
۱۔سورہ نحل:آیت ۱۲۵۔
۲۔توحید شیخ صدوق، ص۳۱۰،باب ۴۴،حدیث۱۔
۳۔گذشتہ حوالہ، ص۳۹۷،باب ۶۱۔
۴۔کشف المراد ،مقصد سوم فصل سوم۔
۵۔گذشتہ حوالہ
۶۔اصول کافی، ج۱،ص۱۳ ،کتاب العقل والجہل، حدیث ۱۲۔
۷۔نہج البلاغہ ،خطبہ۱۔                    
۸۔اصول کافی، ج۱،ص۱۳ ،کتاب العقل والجہل ،حدیث۱۲۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16