Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184647
Published : 19/12/2016 8:19

بڑھتے جنگی اخراجات کے سبب، امریکی معیشت بربادی کے دہانے پر

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کے کریش کرنے کے قریب ہے کیونکہ امریکا بیک وقت شام، یمن ، عراق اور افغانستان میں ٹانگیں اڑائے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے۔


ولایت پورٹل:
امریکا میں پہلی بار زرمبادلہ کے ذخائر پر ایک سال میں دوسری مرتبہ سود کی شرح میں اضافہ کردیا گیا ہے،فیڈرل اوپن مارکیٹ کے ارکان نے امریکی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی جبکہ شرح سود کے اس اضافے سے مزید اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
واشگٹن پوسٹ کے مطابق شرح سود میں یہ اضافہ متفقہ اور معمولی ہے ،شرح سود کی رینج پوائنٹ پچیش (25./)سے پوائنٹ(./5) کردی گئی ہے،شرح سود میں ایک چوتھائی اضافہ کیا گیا ہے۔
امریکی حکام نے افراط زر  بڑھنے کے خدشات کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا ہے،اس اقدام سے صاف نظر آرہا ہے کہ امریکا کی معیشت مستقبل قریب میں کریش ہوینوالی ہے۔
امریکی حکام کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ مستقبل میں مہنگائی اور لیبر کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر   یہ سخت فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف فیڈرل اوپن مارکیٹ کے ارکان نے مستقبل قریب میں اشیاء کی قیمتوں کے بڑھنے اور افراط زر کے اضافے کا عندیہ دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت کے کریش کرنے کے قریب ہے کیونکہ امریکا بیک وقت شام، یمن ، عراق اور افغانستان میں ٹانگیں اڑائے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے اس کی معیشت پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے۔
اگر شام ، عراق اور یمن میں جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہی تو خدشہ ہے کہ امریکی معیشت ڈیفالٹ ہونے کے قریب پہنچ جائے گی،اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکا کہ پاس صرف ایک ہی چارہ ہے کہ یا تو وہ ان تنازعات سے اپنا ہاتھ کھینچ لے یا پھر زیادہ سے زیادہ اسلحہ فروخت کر کے گرتی معیشت کو سنبھالا دے۔
شفقنا



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17