Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 184648
Published : 19/12/2016 8:23

لندن:مسلمان خاتون کا حجاب اتارنے اور سڑک پر گھسیٹنے کی کوشش

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان سفید فام لڑکوں نے خاتون کا اسکارف کھینچ کر اتارنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں خاتون زمین پر گر گئی اور گھسٹتی چلی گئی،قریب ہی واقع ایک ترکی ریستوان کے بیرے کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریستوران سے باہر رکھی کرسیوں پر خاتون کو بہت بری حالت میں پایا،وہ اس کے قریب یہ سوچ کر گئے کہ شاید یہ ریستوران میں آنے والی خاتون ہے، مگر وہ رو رہی تھی اور بری طرح کانپ رہی تھی۔


ولایت پورٹل:
لندن برطانوی دارالحکومت لندن میں اسلام سے نفرت پرستی کا ایک اور واقعہ پیش آگیا جس میں ایک باحجاب خاتون کو ان کے حجاب سے سڑک پر گھسیٹا گیا،میٹرو پولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ 2 سفید فام نوجوانوں نے اس راہ گیر مسلمان خاتون کو دیکھ کر یہ نفرت پرستانہ اور تعصبانہ اقدام اٹھایا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان سفید فام لڑکوں نے خاتون کا اسکارف کھینچ کر اتارنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں خاتون زمین پر گر گئی اور گھسٹتی چلی گئی،قریب ہی واقع ایک ترکی ریستوان کے بیرے کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریستوران سے باہر رکھی کرسیوں پر خاتون کو بہت بری حالت میں پایا،وہ اس کے قریب یہ سوچ کر گئے کہ شاید یہ ریستوران میں آنے والی خاتون ہے، مگر وہ رو رہی تھی اور بری طرح کانپ رہی تھی۔
اس نے بتایا کہ اس پر حملہ کیا گیا ہے،واقعہ کے بعد موقع پر موجود افراد نے خاتون کی مدد کی اور انہیں مذکورہ ریستوران کے اندر پہنچایا۔
ریستوران مالک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے اس جگہ پر کبھی ایسا ناخوشگوار واقعہ نہیں دیکھا،واضح رہے کہ برطانیہ، امریکا اور مختلف یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پرستی کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے،برطانوی ماہرین سماجیات کا کہنا ہے کہ اس نسلی شدت پرستی کا نشانہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر اقلیتی گروہ جیسے یہودی، مہاجرین اور ہم جنس پرست افراد بھی بن رہے ہیں،لندن کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ نفرت پرستی کے ان واقعات کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات پر عمل کر ہے ہیں۔
مانیٹرنگ ڈیسک


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17